skip to Main Content
چوہدری نعیم احمد باجوہ: برکنیا  فاسو سے  اعلیٰ سطحی وفد کی  جلسہ سالانہ برطانیہ2019ء میں شرکت

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور تاثرات

جلسہ سالانہ برطانیہ2019 اپنی تمام تر برکات کے ساتھ اختتام کو پہنچا ۔ دنیا کےکناروں سے قافلہ در قافلہ محبان جلسے میں شرکت کے لئے ہر سال کی طرح ا س بار بھی امڈتے چلےآئے۔ہزاروں عاشقان شمع خلافت نے دربار خلافت میں حاضر ہو کر روح کی تسکین کے سامان کئے ۔ تجدید عہد کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنے ایمانوں کو تازہ بتازہ نشانوں اور تائیدات سے مزین کر کے میدان عمل جا اترے۔خوش بخت ہیں وہ سارے مبارک وجود جن کو اس تاریخی جلسہ میں شرکت کی توفیق ملی۔ یقیناً ہر جلسہ ہی اہم اور تاریخی ہے لیکن نئے مرکز احمدیت اسلام آباد کے قیام کے بعد یہ پہلا جلسہ تھا ۔
مغربی افریقہ کے ملک برکینا فاسو میں جماعت کا قیام خلافت رابعہ کے عظیم الشان دور میں ہوا تھا ۔ خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرتے ہوئے یہ سرزمین پیغام احمدیت کے لئے زرخیز ثابت ہوئی ہے ۔ اورہر قدم ترقی کی جانب اٹھ رہا ہے ۔ جماعتوں کاقیام ، سکولوں کی تعمیر ، مساجد کی تعمیر ، ہسپتالوں کا قیام ، خدمت خلق کے جاری منصوبے، جامعۃ المبشرین کا قیام اور کئی ریڈیو اسٹیشن کا قیام ہو چکا ہے ۔ سب سے بڑھ کر مقامی طور پر قائم ہونے والا ٹی وی اسٹیشن ایم ٹی اے برکینا فاسو چوبیس گھنٹے خلافت کی آواز بن کر تبلیغ کی نئی جہات اور اشاعت اسلام کی نئی منازل طے کر رہا ہے ۔
ہر سال جلسہ سالانہ برطانیہ اور جرمنی کے موقع پر یہاں سے احمدی احباب ، غیر از جماعت مہمانوں اور اتھارٹیز کے وفود دربار خلافت میں حاضر ہوتے اور برکات سمیٹتے ہوئے واپس آتے ہیں ۔ امسال برکینا فاسو سے جلسہ سالانہ جرمنی میں چونتیس جبکہ لندن میں آٹھ افراد کا وفد شامل ہوا۔خاکسار کو دونوں مواقع پر شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔
اس مضمون میں جلسہ سالانہ لندن میں شامل ہونے والے تین غیر ازجماعت احباب کے تاثرات، ان کی سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا احوال اور برکات کا ذکر کرنا مقصود ہے ۔
1۔ ہز ایکسی لینسی جناب Simeon Sawadog صاحب
عزت مآب برکینا فاسو کے وزیر مملکت ہیں ۔آپ کے پاس اس وقت اہم ترین وزارتوں یعنی وزارت داخلہ اوروزارت مذہبی امور کا قلم دان ہے ۔سنیئر وزیر ہیں ۔صدر مملکت کے دست راست اور ملک بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔آپ کی ذمہ داریوں کے پیش نظر آپ کے لئے ملک سے باہر جانا اور وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے ۔ جماعت کی طرف سے انہیں امسال جلسہ برطانیہ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی جو انہوں نے قبول تو کرلی لیکن ان کو جلسہ میں شامل ہونے کی خاص تحریک ایک اور طرح سے ہوئی ۔ تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ ایک ممبر آف پارلیمنٹ جو جماعت کےدیرینہ دوست ہیں انہوں نے عزت مآب سے کہا کہ موجودہ ملکی حالات اور اپنی ذمہ داریوں کے تناظرمیں جن مشکلات کا آپ شکار ہیں میرے نزدیک ان کا ایک حل یہ ہے کہ ہم جماعت احمدیہ کے امام کی خدمت میں خود حاضر ہو کر خاص دعا کی درخواست کریں ۔
چنانچہ یہ جلسہ سالانہ برطانیہ میں شریک ہوئے۔ تینوں دن جلسے کی کارروائی میں شامل رہے۔ خطابات اور دیگر تقاریر سنیں ۔ جلسہ گاہ میں واقع متفرق نمائش گاہیں اور دفاتر دیکھے۔ احمدی احباب سے گھل مل کر بات چیت کی۔ جلسے کے بعد مسجد فضل اور دیگر جماعتی دفاتر کا دورہ کیا ۔ اور سب سے بڑھ کر سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت اقدس میں شرف باریابی پایا ۔ بہت نیک تاثر اور اچھی یادیں لے کر واپس آئے ۔جلسے کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔
بطور وزیر مذہبی امور میں تمام مذاہب کا احترام کرتا ہوں ۔ جلسے میں شامل ہو کر میرے بہت سے سوال حل ہو گئے ہیں ۔ وہ سوالات جو میں نے پوچھے بھی نہیں ان کے جواب بھی مل گئے ہیں ۔ میری بہت مدد ہوئی ہے ۔ میں پہلی دفعہ جلسے میں شامل ہو اہوں ۔ جلسے کے مقدس خیالات اور پاکیزہ ماحول نے روحانی طو رپر میری بہت مدد کی ہے۔
ہم محبت، اخلاقیات اور اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہی مل جل کر رہ سکتے ہیں ۔جلسے میں کام کرتے رضا کار ٹوائلٹس صاف کر رہے تھے، پلیٹیں دھو رہے تھے۔ چھوٹے بچے پانی پلا رہے تھے ۔ یہ سب کچھ جذبہ ایثار کے بغیر ممکن نہیں ۔ دوسروںکی خدمت کرنے کا جذبہ غیرمعمولی ہے ۔،،
سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی پُر نور شخصیت کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار یوں کیا۔
‘’آپ بہت تجربہ کار ہیں ۔ جب آپ کو دیکھیں تو یقین ہو جاتا ہے کہ آپ ایک مرد خدا ہیں ۔ آپ دنیا پر بہت گہری نظر رکھتے ہیں ۔میں بہت حیران ہوا کہ آپ کو میرے ملک برکینا فاسو کے بارے میں بہت علم تھا۔ میں نے جب آپ سے گفتگو کی تو ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے جو باتیں اور خیالات میرے ذہن میں ہیں وہ آپ کو معلوم ہوتے جاتے ہیں ۔آپ ایسی شخصیت ہیں جس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے ۔ آپ مسکراتے ہیں تو بہت اچھا لگتا ہے ۔
وزیر موصوف کو مسجد فضل کا دورہ کروایا گیا تو اس تاریخی مسجد کے بارے میں کہا۔
بہت چھوٹی اور سادہ سی مسجد ہے ۔ لیکن اس میں کشش بہت ہے ۔ یقیناً خدا سادگی میں ہے۔ اور سادگی کو پسند کرتا ہے ۔
عزت مآب عالمی تقریب بیعت میں بھی شامل تھے اس کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:
اخلاص ، وفا اور اطاعت کی ایک زنجیر جو دنیا کے لئے ایک نمونہ ہے ۔ لوگ خلیفہ وقت کی آواز کو سمجھ نہیں رہے۔ آج کی دنیا مادیت کے پیچھے دوڑ رہی ہے لیکن اس مادہ پرستی کا نقصان بھی انسان کو ہی ہو رہا ہے ۔ حضور انور نے اپنے خطاب میں ایک بہتر معاشرہ پید اکرنے کے لئے لائحہ عمل دے دیا ہے ۔ والدین کے حقوق ہیں تو بچوں کے حقوق بھی ہیں حتی کہ اسلام میں دشمنوں کے حقوق بھی ہیں ۔ میں واپس جا کر بہتر طور پر جماعت کی خدمت کرنے کے لئے تیا ر ہوں۔
سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت برکینا فاسو کے وفد کو شرف ملاقات عطا فرمایا ۔ جب ہم دفتر میں داخل ہوئے تو حضور انور نے تمام وفد کو شرف مصافحہ عطا کرنے کے بعد بیٹھنے کا رشاد فرمایا۔ گفتگو شروع ہوئی تو وزیر موصوف احتراماًکھڑے ہو کر بات کرنے لگے۔ ا س پر حضرت امیر المومنین نے فرمایا۔ بیٹھ جائیں ۔ مہمان کا اکرام ہے۔ آپ بیٹھ کربات کریں۔
ا س کے بعد گفتگو کچھ ا س طرح ہوئی ۔
وزیر نے کہا۔ہم صدر مملکت برکینا فاسو کی طرف سے بطور خاص پیغام لے کر حاضر ہوئے ہیں اور اپنے ملک کے لئے دعاکی درخواست کرتے ہیں۔
حضور انورنے فرمایا۔صدر مملکت کو میرا بھی سلام پہنچا دیں ۔ ہماری دعا ہے کہ وہاں امن قائم ہو۔اور حالات بہتر ہوں ۔
وزیر صاحب نے کہا ہم نے روحانی طور پر اس جلسے میں بہت کچھ سیکھا ہے ۔ یہ جلسہ خدا کے قرب کا موقع تھا۔ جلسے کا ماحول ایک خاندان کی طرح کا تھا۔ جماعت احمدیہ جو کام دنیا میں کرنا چاہتی ہے اور جو کچھ دنیا کو دینا چاہتی ہے ا س کا عملی نمونہ جلسے میں تھا۔ہم نے اس سے بہت فائدہ اٹھا یا ہے۔ ہمیں دوسرے لوگوں سے تبادلہ خیالات کرنے کا موقع ملا ۔ اسپین ، پاکستان ، امریکہ اور دوسرے ملکوں سے آنےوالے لوگوں سے ملاقات کی۔نئے لوگوں سے تعارف ہوا اور تعلقات بنے ۔
انہوں نے کہامیں حضور کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں کہ برکینا فاسو میں جماعت احمدیہ پانی، تعلیم اور صحت کے میدان میں بہت خدمت کر رہی ہے ۔ اور یقیناً خدا کی مدد ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔برکینا فاسو میں جماعت آنکھوں کا ہسپتال بنا رہی ہے ۔اس کا نام بھی حضور کے نام پر ہے ۔اس ہسپتال کے کام کے سلسلے میں جو بھی ضرورت ہو ئی اسے پورا کرنے کے لئے حکومت ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہے ۔ ہمیں ا مید ہے یہ ہسپتال مغربی افریقہ کا سب سے بڑا اور اچھا ہسپتال ہو گا ۔میں جلسے کے موقع پر بعض ڈاکٹرز سے بھی ملا ہوں جو اس ہسپتال کے کام میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ا س کی نگرانی وغیرہ کر رہے ہیں ۔
حضور انور نے فرمایا۔ ان شاللہ یہ بہت بڑا اور اچھا ہسپتا ل ہوگا۔اس میں آلات بھی اچھے ہوں گے اور ڈاکٹرز بھی امریکہ اور یورپ سے وہاں خدمت کرنے کے لئے جائیں گے۔
وزیر نے کہا۔ میری خوش قسمتی ہے کہ جلسے کے دوسرے دن ڈنر کےموقع پر مجھے حضور کے ساتھ بیٹھنے کاشرف ملا ۔ آپ سے برکینا فاسو میں سیکورٹی کی تشویشناک صورت حال پر بات ہوئی اور دعا کی درخواست کی تھی۔
حضور انور نے فرمایا۔جتنا انہوں نے مجھے برکینا فاسو کے حالات کے متعلق بتایا تھا اس سے زیادہ میں نے ان کو بتا دیا تھا۔
یہ امر واقعہ ہے اور وزیرموصوف نے اس بات کا برملا اظہار بعد میں بھی کیا کہ میں اپنی طرف سے حضور کو اپنے ملکی حالات بتانے کی کوشش کر رہاتھا لیکن جب بات شروع ہوئی تو معلوم ہواکہ حضور کو ہمارے ملک کے حالات کا اندازہ مجھے سےبھی زیادہ ہے ۔ میں وزیر داخلہ ہوں لیکن آپ ایسے بات کر رہے تھے جیسے نقشہ آپ کےسامنے ہو ۔ آپ کو نہ صرف حالات کا بلکہ ان وجوہات کا بھی ادراک تھا جن کی وجہ سے ایسے حالات درپیش ہیں ۔
پھر حضور انور نے ملک کو درپیش مسائل کے حل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایسی پرحکمت نصیحت کی کہ جس پر عمل کر کے بہت سی پچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے ۔ حضور انور نے فرمایا۔
حکومت کو چاہئے کہ اس معاملے کو احتیاط اور حکمت کے ساتھ ڈیل کرے۔ بغیر مکمل تحقیق کے ہر کسی کو شک کی بنا پر سزا نہ دے۔سوائے اس کے کہ واضح ہو جائے کہ کون باغیوں کی مدد کررہا ہے ۔ بلاامتیاز سیکورٹی آپریشن نہ کریں ۔ اگر بغیر تفریق کے آپریشن کیا گیا تو اس سے بے چینی پھیلے گی۔ ایک علاقے کے لوگوں کی دوسرے علاقے کے لوگوں سے رشتہ داریاں ہوتی ہیں ، تعلقات ہوتے ہیں ۔ جب ایک علاقے کے لوگ آپریشن سے متاثر ہوں گے تو بے چینی کی وجہ سے دوسرے بھی ان کا ساتھ دیں گے۔ اس طرح دہشت گرد اور لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیں گے۔ اس لئے دہشت گردوں اور فتنہ پرور لوگوں کی شناخت کرنا ان کی تفریق کرنا اور صرف انہیں کو سزا دینا ضروری ہے ۔
قیام انصاف کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حضور انور نےفرمایا۔
اگر لوگوں کو انصاف ملتا رہے تو پھر کوئی باغیوں کے ہاتھ میں نہ جائے گا۔ ایک زمانہ تھا کہ ایسے حالات کو طاقت سے دبانا ممکن تھا ۔ اب ایسا کرنا ممکن نہیں ہے ۔ اب ہر طرف میڈیا ہے ۔ کئی تنظیمیں ملوث ہو جاتی ہیں ۔ وہ لوگوں کو ابھارتے ہیں اور ملکوں پر اور ان کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے ان کی مدد کرتے ہیں ۔
وزیر صاحب نے کہا کہ اگر خدا امن عطا نہ کرے تو امن قائم نہیں ہو سکتا۔ صدر مملکت نے خاص طور پر مجھے کہا کہ میں آپ کی خدمت میں برکینا فاسو کے لئے دعا کی درخواست کروں ۔
حضور انور نے دعاوں سے نوازتے ہوئے فرمایا ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان حالات سے نکالے۔ اور سارا افریقہ ترقی کرے۔ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔
وزیرموصوف اپنے ملک کی خاطر دعا کا کہہ رہے تھے لیکن امام وقت کے دردمند دل کی صدا تمام افریقہ کے باشندوں کو یکھ رہی تھی ۔اور ان سب کے لئے دعا گو تھی۔
حضور انور نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے۔ ان شااللہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔ آپ کے ملک کے لئے دعا ہے ۔ آپ کی قوم کے لئے دعا ہے ۔ آپ کے سیاستدانوں کے لئے دعا ہے ۔ اچھا کام کریں اور انصاف کو قائم کریں ۔
وزیر صاحب نے کہا جنگ کے حالات کی وجہ سے برکینا فاسو کے شمالی علاقوں سے بہت کثرت سے لوگ مہاجر بن کر دوسرے علاقوں میں آرہے ہیں۔ ان کو سنبھالنے کا کام بہت مشکل ہے ۔ رہائش کا مناسب انتظام نہیں ہے۔ان کے ذرائع آمد ختم ہو گئے ہیں ۔ ان کے جانور نہیں رہے ۔ پینے کے صاف پانی کے مسائل ہیں ۔ ان حالات میں خطرہ ہے کہ کہیں ہیضے کی وبا نہ پھیل جائے۔ہماری درخواست ہے کہ پینے کے صاف پانی کے لئے ہماری مدد کی جائے۔ جماعت کی طرف سے اور زیاہ نلکے لگائے جائیں۔
الحمد للہ برکینا فاسو میں ایک پروگرام کے تحت پینے کا پانی مہیا کرنے کے لئے مسلسل نلکے لگائے جا رہے ہیں اور یہ کام حضور انور نےIAAAEکے سپرد فرمایا ہو ا ہے۔ ان کے رضا کار اس کام کی نگرانی کے لئے آتے رہتے ہیں۔اب تو مقامی طو رپر بھی ایک ٹیم تیار ہو چکی ہے جو خدمت خلق کے ا س مبارک کام میں ہمہ تن مصروف ہے۔
وزیر موصوف کی بات پرحضور انور نےفرمایا ۔
برکینا میں ایک ہی بڑا دریا ہے ۔ وہاں رواج ہے کہ پانی کے بڑے بڑے ریزورز بنائے جاتے ہیں ۔ ضرورت ہے کہ ایسے ریزرو ہر علاقے میں بنیں ۔ تاکہ لوگوں کی پانی کی ضرورت پوری ہو ۔ ان ریزورز میں پانی جمع کریں۔ اگر وبا وغیرہ کی صورت میں مدد کی ضرورت ہوئی تو جو ہو سکا ان شااللہ مدد کریں گے۔ ڈاکٹرزکی بھی ضرورت ہوئی تو ہم یہاں سے بھجوا دیں گے۔
2۔مکرم Sayouba Ouderaogoصاحب ممبر پارلیمنٹ
انہوں نے ہی وزیر داخلہ کو قائل کیا تھا کہ ملکی حالات کے لئے ہمیں خود چل کر امام جماعت احمدیہ کی خدمت میں دعاکی درخواست کرنا چاہئے۔ موصوف 2004ءمیں حضور انور کی برکینافاسو آمد پر استقبال کرنے والے سرکاری عہدیداروں میں سے تھے۔ پھر خلافت جوبلی کے موقع پر 2008ء میں غانا جا کر شرف ملاقات پایا ۔ 2007ء میں میں جلسہ لندن میں بھی شامل ہو چکے ہیں ۔ وہ بڑے خوش تھے کہ انہیں چوتھی بار حضور انور کا دست مبارک چھونے کا موقع مل رہا ہے۔ اس بات کا ذکر بھی انہوں نے حضور انور سے کیا ۔ باپ سے بڑھ کر شفیق اور محبت کرنے والے آقا نے ان کی بات سنی اور اس دوران ان کا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لئے رکھا۔ باہر نکل کر اپنی خوش قسمتی پر نازاں تھے اور با ربار ا س با ت کا ذکر کرتے کہ ان کا ہاتھ سب سے زیادہ وقت کے لئے حضور انور کے مبارک ہاتھوں میں رہا ۔
3۔ مکرم Nignan Ismaelصاحب مالک SM Tv ، ممبر آف سپریم کونسل آف کمونیکیشن برکینا فاسو
آپ حکومتی ادارے میں برکینا فاسو کے تمام پرائیویٹ ٹی وی چینل کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ ان کا اپنا بھی ایک ٹی وی اسٹیشن ہے ۔ جلسہ سالانہ برطانیہ کے موقع پر تینوں دن کے تمام ، پروگرام انہوں نے اپنے ٹی وی پر چلائے ہیں۔ ان سے ایک انٹرویو میں سوال کیا گیا کہ آپ نے کیا سوچ کر اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے اور تین دن کے لئے اپنے ٹی وی کو جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ کے لئے وقف کر دیا ہے ۔ انہوں نے بڑا خوبصورت جواب دیا اورکہا۔
مجھے جماعت احمدیہ کی مساعی اور تبلیغ اسلام کی مخلصانہ کوششوں کا علم ہوا تو میں نے سوچا کہ میں کس طرح اس کار خیر میں شامل ہو سکتا ہوں ۔ میں کیا پیش کر سکتا ہوں ۔ اس دوران مجھے جلسے کے پروگرام ٹی وی پر چلانے کی درخواست موصول ہوئی تو میں نے بغیر کسی معاوضے کے جلسے کے تینوں دنوں کے لئے اپنا ٹی وی وقف کر دیا۔اس اقدام پر میری مخالفت بھی ہوئی ہے لیکن مجھے اس کی پرواہ نہیں ۔
دوران ملاقات تعارف کرواتے ہوئے جب ان کا نام بتایا گیا تو یوں لگا جیسے نیاں کے بجائے ‘’میاں اسماعیل’’ کہا گیا ہو۔اس پر حضور انور نے فرمایا ’’ ان کا بڑا پاکستانی نام ہے۔
عرض کی گیا حضور ان کا نام میاں نہیں بلکہ نیاں اسماعیل ہے۔ جب یہ بات ترجمہ کرکے مکرم اسماعیل صاحب کو بتائی گئی کہ حضور انور نے انہیں ‘’میاں اسماعیل’’ کہا ہے تو انہوں نے کہا آج سے میرا نام نیاں اسماعیل کے بجائے میاں اسماعیل ہی ہوگا ۔
حضور انور نے ملاقات کے آخر پر گروپ فوٹو بنا نے کی اجازت عطا فرمائی۔ تمام ممبران وفد دوبارہ شرف مصافحہ سےمستفیض ہوئے۔جلسے سے واپس برکینا فاسو پہنچ کر بھی ان معزز مہمانوں نے اپنے تاثرات کو مختلف مواقع پر بیان کیا ہے۔سب کایہی کہنا ہے کہ جلسہ میں شمولیت اور امام جماعت احمدیہ سے ملاقات ان کے لئے بہت زیادہ اعزاز او رتکریم کی بات تھی۔ ان کی زندگیوں میں ایک منفرد تجربہ تھا ۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ جب بھی اور جہاں بھی موقع ملا وہ ضرورحضور انور سے ملاقات کے لئے حاضر ہوں گے۔اللہ تعالیٰ جلسے میں شامل ہونے والوں کو تمام برکات کا وارث بنائے اور یہ سفر جماعت برکینا فاسو کے لئے نیک ثمرات اور عمدہ نتائج کا حا مل ہو ۔
٭۔۔۔٭۔۔٭

image_printپرنٹ کریں