skip to Main Content
بدر کے حالات میں آئندہ کی پیشگوئی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

دیکھو کہ صحابہ  کو بدر میں نصرت دی گئی اور فرمایا گیا کہ یہ نصرت ایسے وقت میں دی گئی جبکہ تم تھوڑے تھے اس بدر میں کفر کا خاتمہ ہو گیا۔

…بدر پر ایسے عظیم الشان نشان کے اظہار میں آئندہ کی بھی ایک خبر رکھی گئی تھی۔اور وہ یہ کہ بدر چودھویں کے چاند کو کہتے ہیں۔اس سے چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ کی نصرت کے اظہار کی طرف بھی ایماء ہے۔اور یہ چودھویں صدی وہی صدی ہے جس کے لئے عورتیں تک کہتی تھیں کہ چودھویں صدی خیرو برکت کی آئے گی۔خدا کی باتیں پوری ہوئیں اور چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ کے منشاء کے موافق اسم احمد کا بروز ہوا اور وہ میں ہوں۔جس کی طرف اس واقعہ بدر میں پیش گوئی کی گئی تھی۔ جس کو رسول اللہ ﷺ نے سلام کہا ۔مگر افسوس کہ جب وہ دن آیا اور چودھویں کا چاند نکلا تو دکاندار، خود غرض کہا گیا۔افسوس ان پر جنہوں نے دیکھا اور نہ دیکھا۔وقت پایا اور نہ پہچانا۔وہ مر گئے جو منبروں پر چڑھ چڑھ کر رویا کرتے تھے کہ چودھویں صدی میں یہ ہو گا اور وہ رہ گئے جو اب منبروں پر چڑھ کر کہتے ہیں کہ جو آیا کاذب ہے!!!ان کو کیا ہو گیا۔یہ کیوں نہیں دیکھتے اور کیوں نہیں سوچتے۔اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے بدر ہی میں مدد کی تھی۔اور وہ مدد اذلۃ کی مدد تھی۔جس وقت تین سو تیرہ آدمی صرف میدان میں آئے تھے۔اور کل دو تین لکڑی کی تلواریں تھیں۔اور ان تین سو تیرہ میں زیادہ تر چھوٹے بچے تھے۔اس سے زیادہ کمزوری کی حالت کیا ہو گی اور دوسری طرف ایک بڑی بھاری جمیعت تھی اور وہ سب کے سب چیدہ چیدہ جنگ آزمودہ اور بڑے بڑے جوان تھے۔ آنحضرت ﷺ کی طرف ظاہری سامان کچھ نہ تھا۔اس وقت رسول اکرم ﷺ نے اپنی جگہ دعا کی اَللّٰھُمَّ اِنْ اَھْلَکْتَ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃَ لَنْ تُعْبَدَ فِیْ الْاَرْضِ اَبَدًا یعنی اے اللہ!اگر آج تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر کوئی تیری عبادت کرنے والا نہ ہو گا۔

سنو!میں بھی یقیناً آج یہ کہتا ہوں کہ وہ بدر والا معاملہ ہے ۔اللہ تعالیٰ اسی طرح ایک جماعت تیار کر رہا ہے۔وہی بدر اور اذلۃ کالفظ موجود ہے۔کیا یہ جھوٹ ہے کہ اسلام پر ذلت نہیں آئی؟نہ سلطنت ظاہری میں شوکت ہے۔ایک یورپ کی سلطنت منہ دکھاتی ہے۔تو بھاگ جاتی ہے  اور کیا مجال ہے جو سر اٹھائیں۔اس ملک کا کیا حال ہے؟کیا اذلۃ نہیں ہیں۔ہندو بھی اپنی طاقت میں مسلمانوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔کوئی ایک ذلت ہے جس میں ان کا نمبر بڑھا ہوا نہیں ہے ؟جس قدر ذلیل سے ذلیل پیشے ہیں،وہ ان میں پاؤ گے۔ٹکر گدا مسلمانوں ہی میں پاؤ گے۔جیل خانوں میں جاؤتو جرائم پیشہ گرفتار مسلمانوں ہی کو پاؤ گے۔شراب خانوں میں جاؤ کثرت سے مسلمان۔اب بھی کہتے ہیں ذلت نہیں ہوتی؟کروڑہا ناپاک اور گندی کتابیں اسلام کے رد میں تالیف کی گئیں۔ہماری قوم میں مغل سید کہلانے والے اور شریف کہلانے والے عیسائی ہو کر اسی زبان سے سید المعصومین خاتم النبین ﷺ کو کوسنے لگے۔صفدر علی اور عماد الدین وغیرہ کون تھے؟امہات المومنین کا مصنف کون ہے؟ جس پر اس قدر واویلا اور شور مچایا گیا اور آخر کچھ بھی نہ کر سکے۔اس پر بھی کہتے ہیں کہ ذلت نہیں  ہوئی۔کیا تم تب خوش ہوتے کہ اسلام کا رہا سہا نام بھی باقی نہ رہتا،تب محسوس کرتے کہ ہاں اب ذلت ہوئی ہے!!!

آہ!میں تم کو کیوں کر دکھاؤں جو اسلام کی حالت ہو رہی ہے۔دیکھو!میں پھر کھول کر کہتا ہوں کہ یہ بدر کا ہی زمانہ ہے۔اسلام پر ذلت کا زمانہ آچکا ہے،مگر اب خدا نے چاہا کہ اس کی نصرت کرے۔چنانچہ اس نے مجھے بھیجا ہے کہ میں اسلام کو براہین اور حُجَجِ ساطعہ کے ساتھ تمام ملتوں اور مذہبوں پر غالب کر کے دکھاؤں۔اللہ تعالیٰ نے اس مبارک زمانہ میں چاہا ہے کہ اس کا جلال ظاہر ہو۔ اب کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔جس طرح پہلے صحابہ ؓ کے زمانہ میں چاروں صفات کی ایک خاص تجلی ظاہر ہوئی تھی۔اب پھر وہی زمانہ ہے اور ربوبیت کا وقت آگیا ہے۔نادان مخالف چاہتے ہیں کہ بچہ کو الگ کر دیں،مگر خدا کی ربوبیت نہیں چاہتی۔بارش کی طرح اس کی رحمت برس رہی ہے۔ یہ مولوی حامی دین کہلانے والے مخالفت کر کے چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بھجا دیں۔مگر یہ نور پورا ہو کر رہے گا۔اسی طرح پر جس طرح اللہ تعالیٰ نے چاہا ۔

(ملفوظات جلد اول صفحہ431)

image_printپرنٹ کریں