skip to Main Content
آسمانی نشان

سیدناحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔
ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اب اگر اسلام دنیا میں پھیلنا ہے تو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اس فرستادے کے ذریعہ ہی پھیلنا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔ 
آنے والے مسیح موعود کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے کچھ نشانیاں بھی بتائی تھیں۔ یہ نہیں کہ وہ آنے والا بغیرکسی نشانی کے دعویٰ کر دے گا۔ چنانچہ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ  آنے والے کا ایک یہ نشان بھی ہے کہ اس زمانہ میں ماہ رمضان میں کسوف و خسوف ہو گا (چاند گرہن لگے گا اور سورج گرہن لگے گا۔) اللہ تعالیٰ کے نشان سے ٹھٹھا کرنے والے خدا سے ٹھٹھا کرتے ہیں۔ کسوف و خسوف کا اس کے دعویٰ کے بعد ہونا یہ ایک ایسا امر تھا جو افترا اور بناوٹ سے بعید تر ہے (اس کو افترا نہیں کہہ سکتے۔ اتفاق بھی نہیں کہہ سکتے۔ دھوکا بھی نہیں کہہ سکتے) فرمایا کہ اس سے پہلے کوئی کسوف و خسوف ایسا نہیں ہوا۔ یہ ایک ایسا نشان تھا کہ جس سے اللہ تعالیٰ کو کُل دنیا میں آنے والے کی منادی کرنی تھی۔ چنانچہ اہل عرب نے بھی اس نشان کو دیکھ کر اپنے مذاق کے مطابق درست کہا۔ ہمارے اشتہارات بطور منادی جہاں جہاں نہ پہنچ سکتے تھے وہاں وہاں اس کسوف و خسوف نے آنے والے کے وقت کی منادی کر دی۔ یہ خدا کا نشان تھا جو انسانی منصوبوں سے بالکل پاک تھا۔ خواہ کوئی کیسا ہی فلسفی ہو وہ غور کرے اور سوچے کہ جب مقرر کردہ نشان پورا ہو گیا تو ضرور ہے کہ اس کا مصداق بھی کہیں ہو۔ یہ امر ایسا نہ تھا کہ جو کسی حساب کے ماتحت ہو جیسے کہ فرمایا تھا کہ یہ اس وقت ہو گا جب کوئی مدعی مہدویت ہو چکے گا (مہدی اور مسیح کا دعویٰ ہو چکا ہوگا تب یہ نشان ظاہر ہوگا) فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ آدمؑ سے لے کر اس مہدی تک کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔ اگر کوئی شخص تاریخ سے ایسا ثابت کرے تو ہم مان لیں گے۔

(ملفوظات جلد1 صفحہ 48)
(خطبہ جمعہ فرمودہ 22مارچ 2019ء )

image_printپرنٹ کریں