skip to Main Content
اپنے غلاموں کو وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔
حضرت سَلَامَۃ بنت مَعْقَل بیان کرتی ہیں کہ میں حُبَاب بن عَمْرو کی غلامی میں تھی اور ان سے میرے ہاں ایک لڑکا بھی پیدا ہو اتھا۔ ان کی وفات پر ان کی بیوی نے مجھے بتایا کہ اب تمہیں حُبَاب کے قرضوں کے بدلے بیچ دیا جائے گا۔ تمہاری حیثیت لونڈی کی تھی اس لئے تم بیچ دی جاؤ گی۔ کہتی ہیں کہ مَیں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ساری صورتحال بتائی۔ نبی کریم ﷺ نے لوگوں سے پوچھا کہ حُبَاب بن عَمْرو کے ترکے کا ذمہ دار کون ہے؟ توبتایا گیا کہ ان کے بھائی اَبُوالْیَسَر ان کے ذمہ دار ہیں۔ آنحضور ﷺ نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ اسے مت بیچنا۔ یہ لونڈی ہے۔ اسے مت بیچنا بلکہ اسے آزاد کر دو۔ اور جب تمہیں پتہ لگے کہ میرے پاس کوئی غلام آیا ہے تو تم میرے پاس آ جانا۔ میں اس کے عوض میں تمہیں دوسرا غلام دے دوں گا۔(مسند احمد بن حنبل جلد8صفحہ726 حدیث27569)چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو آزاد کر دیا اور اُن کو ایک غلام مہیا فرما دیا۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ سیرت خاتم النبیین میں ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ عُبَادَۃ بن ولید روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کے صحابی اَبُوالْیَسَر کو ملے۔ اس وقت ان کے ساتھ ایک غلام بھی تھا اور ہم نے دیکھا کہ ایک دھاریدار چادر اور ایک یمنی چادر ان کے بدن پر تھی اور اسی طرح ایک دھاریدار چادر اور ایک یمنی چادر ان کے غلام کے بدن پر تھی۔ میں نے انہیں کہا کہ چچا تم نے ایسا کیوں نہ کیا کہ اپنے غلام کی دھاریدار چادر خود لے لیتے اور اپنی چادر اسے دے دیتے یا اس کی یمنی چادر خود لے لیتے اور اپنی دھاریدار چادر اسے دے دیتے تا کہ تم دونوں کے بدن پر ایک ایک طرح کا جوڑا ہو جاتا۔ حضرت اَبُوالْیَسَر نے میرے سر پر (روایت کرنے والے کہتے ہیں کہ میرے سر پر) ہاتھ پھیرا اور میرے لئے دعا کی اور پھر مجھے کہنے لگے کہ بھتیجے میری ان آنکھوں نے دیکھا ہے اور میرے ان کانوں نے سنا ہے اور میرے اس دل نے اسے اپنے اندر جگہ دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ اپنے غلاموں کو وہی کھانا کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو اور وہی لباس پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو۔ پس میں اس بات کو بہت زیادہ پسند کرتا ہوں کہ میں دنیا کے اموال میں سے اپنے غلام کو برابر کا حصہ دے دوں بہ نسبت اس کے کہ قیامت کے دن میرے ثواب میں کوئی کمی آوے۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ صفحہ383)
(خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری2019ء)

image_printپرنٹ کریں