skip to Main Content

اللہ تعالی قرآن کریم میں متعدد مواقع پر ہمیں عملی اصلاح اور اس کی اہمیت کے بارے میں توجہ دلاتا ہے چنانچہ سورہ العصر میں فرماتا ہے انسان خسارے میں ہے مگر سوائے ان کے جو ایمان لائے اور اپنی عملی اصلاح کر لی۔

حضرت مسیح موعودؑ جو کہ اپنے آقا ومولا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ہمیشہ عملوں کی اصلاح کی طرف توجہ کرتے ۔

ایک چھوٹا سا واقعہ بیان کرتا ہوں کہ آپ کو کس طرح عملی اصلاح کی فکر تھی ۔

منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی سیرت المہدی میں واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دن محمد سعید صاحب عرب نے حضرت مسیح موعودؑ سے اپنی داڑھی کے متعلق پوچھا ۔ اس وقت ایک شخص نے عرض کی کہ حضور داڑھی کتنی لمبی رکھنی چاہیے ۔ آپ نے فرمایا کہ میں داڑھیوں کی اصلاح کے لیے نہیں آیا ۔

 ( سیرت المہدی حصہ چہارم روایت نمبر 1106 )

حضرت مسیح موعودؑ ہمیں واضح نصیحت فرما رہے ہیں کہ مجھے تمہارے عملوں کی اصلاح کے لئے بجھوایا گیا ہے نہ کہ ظاہری صورتوں کی اصلاح کے لیے ۔

پھر ایک دوسرے واقعے میں حضرت امام مہدی علیہ السلام ہمیں بڑے دلکش انداز میں یوں سمجھاتے ہیں ۔

منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعودؑ باہر تشریف لے جارہے تھے ۔ کرنا کھلا ہوا تھا اور بہت مہک رہا تھا ۔ آپ نے فرمایا ، کہ دیکھو کرنا اور کہنا اس میں بڑا فرق ہے ۔ حضور نے فرمایا ۔ پنجاب میں کہنا مکڑی کو کہتے ہیں ۔ ( یعنی کرنا خوشبو دار چیز ہے اور کہنا اور مکروہ چیز ہے )

                          ( سیرت المہدی حصہ چہارم روایت نماز 1130)

 کیسا نرالا اور اچھوتا انداز ہے حضرت مسیح دوراں علیہ السلام کا کہ ہمیں سمجھا دیا کہ صرف منہ سے باتیں کرتے جانا اور کوئی عمل کر کے نہ دکھانا ایک بدبودار شئے ہے اور کر کے دکھا دینا ایک خوشبودار چیز ہے ۔

پھر آپ کو چھوٹے چھوٹے اور معمولی معملات میں بھی اصلاح کی فکر ہوتی تھی ۔

رسول بی بی صاحبہ بیوہ حافظ حامد علی صاحب بواسطہ مولوی عبدالرحمن جٹ صاحب واقعہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ ہمارے گاؤں موضع کرالیاں میں تشریف لائے ۔ میاں چراغ دین ساکن تھہ غلام نبی نے اپنی بیوی مسماة حسو کو (طلاق) دی ہوئی تھی ۔ حضرت جی وہاں صلح کرانے گئے تھے تو وہاں جا کر رات رہے اور دوبارہ نکاح کرا دیا ۔ اور رات کو دیر تک وعظ بھی کیا ۔ اس کے بعد آپ ایک جگہ پیشاب کرنے لگے تو مہر ساکن کرالیاں کو کہا کہ مجھے کوئی ڈھیلا لا دو ۔ تو اس نے کسی دیوار سے ایک روڑا توڑ کر دے دیا تو آپ نے اس سے پوچھا کہ یہ ڈھیلا کہاں سے لیا ۔ تو اس نے کہا کہ فلاں دیوار سے ۔ آپ نے فرمایا جہاں سے لیا ہے وہیں رکھ دو۔ بغیر اجازت دوسرے کی چیز نہیں لینی چاہیے ۔                   

                          (سیرت المہدی حصہ چہارم روایت نمبر 1144)

ایک سبق آموز واقعہ

دوستو ۔ اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ کہ آپ کو چھوٹی چھوٹی باتوں میں جس کی طرف بظاہر توجہ ہی نہیں جاتی کس طرح خیال رہتا ۔

میاں خیر الدین سیکھوانی بذریعہ تحریر بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام بمع اصحاب اس راستے کی طرف جو یکوں ٹمٹموں کا راستہ متصل محلہ خاکروبان بٹالہ کو جاتا تھا ۔ سیر کو تشریف لے گئے ۔ واپسی پر راستہ کی ایک طرف درخت کیکر کسی کا گرا ہوا تھا ۔ بعض دوستوں نے اس کی خورد شاخیں کاٹ کر مسواکیں بنا لیں ۔ حضور علیہ السلام کے ساتھ اس وقت خلیفہ ثانی بھی تھے ( اس وقت دس بارہ سال عمر تھی ) ایک مسواک کسی بھائی نے ان کو دے دی اور انہوں نے بوجہ بچپن کی بےتکلفی کے ایک دفعہ کہا کہ ابا تُسی مسواک لے لو۔ حضور علیہ السلام نے جواب نہ دیا ۔ پھر دوبارہ یہی کہا ۔ حضور علیہ السلام نے پھر جواب نہ دیا ۔ سہ بارہ پھر کہا کہ ابا مسواک لے لو۔ تو حضور علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ,, پہلے یہ بتاؤ کہ مسواکیں کس کی اجازت سے لی گئی ہیں ؟ اس فرمان کو سنتے ہی سب نے مسواکیں زمین پر پھینک دیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی عملی اصلاح کرنے والے ہوں اور کوئی موقع اپنی عملی اصلاح کا ہاتھ سے نہ جانیں دیں۔ آمین

image_printپرنٹ کریں