skip to Main Content
محمد شریف ننگلی: امۃ القیوم

امۃ القیوم سے خاکسار کی شادی 10 ستمبر 1967ء کو ہوئی۔ان کا بچپن گوجرہ میں زیر نگرانی حضرت بابو مولا بخش (رفیق حضرت مسیح موعودؑ ) اور ریشم بی بی گزرا، والدین کا جوڑا نہایت ہی پاکیزہ تھا۔والدحضرت بابو مولا بخشؓ 1955ء میں اچانک وفات پا گئے۔ اس وقت قیوم کی عمر دس گیارہ سال کی تھی۔گھر کے واحد کفیل والد صاحب ہی تھے اس وقت ان کے سارے بھائی مختلف کالجوں میں پڑھ رہے تھے۔ گھر کا خرچہ زمین داری سے آتا او ر اسی سےہی سار ے کام پورے ہوتے تھے۔حضرت بابومولا بخش کے چھوٹے بھائی منشی محمد ابراہیم ہی زمین کے کام سر انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے ایمانداری سے سارے کاموں کو سنبھالا۔ جب ان کے بھائی ڈاکٹر بن گئے تو حالات اچھے ہونے لگے اس وقت قیوم آٹھویں کلاس میں تھی۔ میٹرک کے بعد ان کو ربوہ میں جامعہ نصرت میں تعلیم حاصل کرنےکا موقع ملا اور بی اے کیا۔ تعلیم کے دوران ان کو کئی دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی زیارت کا موقع ملتا رہا اور رفقاء کی صحبت بھی حاصل ہوتی رہی۔یہ سارا انتظام کالج کی طرف سے ہی ہوتا رہا۔ یہ سب یادیں ان کو ساری زندگی بعد یاد رہیں اور گاہے بگاہے اس کا ذکر کرتی تھیں ساتھ ساتھ ذکر الہٰی بھی کرتیں۔
بچپن سےہی مذہب سے لگاؤ تھا۔ نمازیں بر وقت ادا کرنا اور گھر کے کام کرنا ان کو بہت پسند تھے۔ اپنی والدہ صاحبہ کا ہر کام میں ہاتھ بٹایا کرتیں تھیں۔ ان کی امی عمر کی زیادتی کی وجہ سے اکثر بیمار رہتی تھیں گھر کے سارے کام خوشی خوشی سے کرتیں ۔ قیوم کی نانی صاحبہ حضرت مائی جانو جو حضرت اماں جان کی خادمہ تھیں اور کئی سال تک خدمت کا موقع ملا۔ حضرت مائی جانو بہت ہی نیک اور سادہ خاتون تھیں۔ نیک کاموں میں حصہ لینا ان کا شیوہ تھا۔خاندا ن حضرت صاحب سے ان کو غیر معمولی انس و محبت تھی۔ ان کا دل تو ہر وقت الدار میں ہی رہتا تھا۔
یہی وصف میری قیوم میں تھا۔ بہت غریب پرور، ہمدرد،محبت کرنے والی، چندہ جات کو بر وقت ادا کرنا، گھر کو صاف ستھرا رکھنا ، بچوں میں دینی شعار پیدا کرنا، بار بار پیارے حضور کی خدمت میں خط لکھنا اوربچوں کو بھی تلقین کرنا، فقراء کی ضروریات پوری کرنا ان کی خاص عادات میں شامل تھا۔ اگر فقیر خالی ہاتھ چلا جاتا تو بہت ہی پریشان اور فکر مند ہوتیں اور وہ رقم ضرور کسی کو دے کر دم لیتیں۔ ہماری شادی 53 سال رہی ہے ساری زندگی میں کبھی بھی کوئی فرمائش نہ کی، نہ ہی کبھی خریداری کے لئے رقم مانگی۔
توکل علی اللہ پر ہمیشہ بھروسہ کیا۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہی دعا کرتیں۔ کبھی بھی قرض نہ لیابلکہ دوسروں کی مالی امداد کرتیں۔بہت ہی ملنسار اور دعا گوتھیں۔
ہر کام کے آغاز میں دعا ضرور کرتیں۔ رشتہ داروں میں سب کے ساتھ بہت ہی پیارومحبت کا سلوک تھا ۔ عورتوں میں عام طور پر غیبت کا مرض بہت ہوتا ہے، ان کو اس سے بہت نفرت تھی۔ دوسروں کی بات سن تو لیتیں مگر کبھی بھی اس کو آگے نہ پھیلایا۔ اکثر عورتوں کو اس سے منع کرتیں ۔ اگر عورتیں باز نہ آتیں تو اٹھ کر چلی آتیں۔ کئی دفعہ خاکسار نے پوچھا آج کی کوئی بات بتائیں تومسکرا کر کہتیں ۔ چھوڑ یں ہم گناہ کیوں کریں اور آپ بھی مجھ سے نہ پوچھا کریں۔
ساری زندگی میں کبھی بھی ناراض نہ ہوئی۔ اگر ایسا موقع آجاتا تو خاموشی سے اٹھ جاتیں۔ جس سے مجھے معلوم ہوجاتا کہ ان کو بات اچھی نہیں لگی ۔بہت ہی مہمان نواز تھیں ۔شاہدرہ اور میر پور میتھلو میں اکثر دوست گھرآجاتے۔ ان کی خدمت احسن رنگ میں کرتیں۔اکثر دوست مجھے کہتے ہم تو اچھا کھانا کھانے اور مزیدار چائے کے لئے آتے ہیں ایک دفعہ خاکسار نے یہ بات ان کو بتائی ۔ تو کہنے لگی کہ خدمت کرنا تو اچھی بات ہے اگر آپ کے دوست روزانہ بھی آئیں۔ تو مجھے کوئی پریشانی نہیں بلکہ خوشی ہوگی۔کہنے لگی آپ کو حضور ؑ کی مہمان نوازی یاد نہیں حضو رؑ کس طرح اپنے ساتھیوں کی خدمت کرتے تھے۔ کہنے لگی حضور ؑکا ایک رفیق کےلئے رات کو جا کر انہیں دودھ پلانا، یاد نہیں آپ کو؟ خاکسار چپ ہوگیا۔ چھوٹی چھوٹی نیکیاں اکثر کرتیں مثلاً ہر کام سے پہلے بسم اللہ پڑھنا، دائیں ہاتھ سے کام کرنا اور گھر میں السلام علیکم کو رواج دینا۔ اگر خاکسار سلام کرنا بھول جاتا تو فوراً کہتیں سلام کرنا بھول گئے ہیں ابھی فوراً سلام کریں۔ ان میں بہت خوبیاں تھیں جن سے ہر آدمی کو فائد ہ اٹھانا چاہئے۔
ہمارے گھر میں پھل دار پودے ہیں جن میں لیموں اور شہتوت اور میٹھے کے پودے شامل ہیں ۔جب ان پر پھل آتا تو ساری گلی میں پھل بھجواتیں اور کہتیں اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتیں ہمیں دی ہیں ہمسائیوں کو یہ چیزیں ضرور بالضرور پہنچایا کریں۔
لیموں لینے اکثر بچے آجاتے تو ان کو کہتیں لیموں ضرور لے لو مگر پودے کی ٹہنی نہیں توڑنی۔ ساتھ ساتھ ان کو سلام کرنےکی تلقین کرتیں اور کہتیں گھر جا کر بھی سلام کرنا ہے اکثر بچے ان سے بہت مانوس تھے یہ بھی ان کے لئے ٹافیاں وغیرہ اپنے بیگ میں رکھ لیتی تھیں۔
جب ہمارے ہاں پہلے بیٹے کی امید تھی بہت دعا کرتیں کہ اگر میرے ہاں بیٹا ہوا تو اس کو جامعہ میں بھجواؤں گی یہ 1967ء کی بات ہے ۔جب ہمارے بیٹے طاہر احمد نے میٹرک کیا اور جامعہ میں جانے کا فیصلہ کیا تو اس دن ان کی خوشی دیدنی تھی بار بار اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتیں اور نفل پڑھتیں۔ طاہر احمد ہمارے خاندان میں پہلے وقف زندگی تھے سارا خاندان ہی اس بات پر خوش تھا خاص طور پر طاہر احمد کے دادا مکرم منشی محمد ابراہیم اور دادی مکرمہ برکت بی بی کو تو بہت ہی خوشی تھی کہ ہمارے خاندان کو بھی یہ سعادت ملی ہے۔ کیو نکہ داد ا صاحب کو الدار میں اور پڑ دادا حضرت امام دین کو بھی خاندان حضور ؑکی خدمت کا موقعہ ملتا رہا اور حضور نے ہمارے دادا صاحب کو فرمایا ‘‘کہ آپ تو ہمارے نہیں’’ اس بات کو مکرم دادا صاحب بہت بڑی سعادت جانتے تھے اور اس پر فخر کرتے تھے۔ اس سال جولائی 2019ء میں طاہر احمد مربی سلسلہ جرمنی سے نو سال بعد ملنے آئے تو کہنے لگی مجھے اللہ تعالیٰ پر بڑا بھروسہ تھا کہ بیٹا سے ضرور ملاقات ہو جائے گی اس وقت وہ بیمار تھیں اور اکثر کہتیں کہ تندرست ہو جاؤں گی۔ بہت حوصلہ مندی تھیں بیماری میں کبھی مایوسی کا اظہار نہ کیا۔ بلکہ یہی کہتیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہوں گی۔
جب خاکسار نے الفضل میں کام شروع کیا تو ایک دن کہنے لگی ۔ آپ کو تو چائے کے ساتھ بسکٹ لینے کی عادت تھی جب وہاں چائے ہوگی تو کیا بسکٹ اکیلے ہی کھائیں گے؟ خاکسار نے فوراً جواب دیا سب دوستوں کو بسکٹ کھلاؤں گا۔ کافی دیر ہنستی رہی اور کہنے لگی اچھا تو بسکٹ شام کو ہی لے لیا کریں تا کہ صبح بھول نہ جائیں۔ پھر روزانہ شام کو پوچھتیں کہ بسکٹ لے آئے ؟ بیماری میں کہتی کہ دوست تو بہت پریشان ہوں گے۔ ان کو بسکٹ کیسے دیں گے خاکسار نے کہا کوئی بات نہیں۔ یہ کمی بعد میں پوری کردوں گا۔
خاکسار کو بیماری میں کہتیں پر یشان نہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور ایمان کو مضبوط رکھیں۔ جو بھی اللہ تعالیٰ کرے گا وہ ہمارے لئے اچھا ہی ہوگا۔ اور اسی پر راضی رہنا ہوگا۔ ہمارے تایا ابو حضرت بابومولا بخش کی دو بیویاں تھیں ایک خاکسار کی خالہ مکرمہ نظام بی بی اور دوسری قیوم کی امی جان مکرمہ ریشم بی بی تھیں خالہ کے تین بیٹے اورقیوم کی امی سے چار بیٹے اور دو بیٹیاں قیوم اور کلثوم تھیں۔ اس طرح قیوم سات بھائیوں کی چھوٹی بہن تھی، سبھی سے اس کے تعلقات ساری زندگی رہے اور ہمیشہ سب بھائی بھی اس کو بہت عزت وتوقیر دیتے ۔ اب تو صرف دو بھائی حیات ہیں ایک ڈاکٹر عبد السلام اور دوسرےمبارک احمد ہیں ۔دونوں بھائی بھی بیمار رہتے ہیں۔ اپنی بیماری میں قیوم کو اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر عبد السلام کی ہی طرف توجہ رہتی تھی کیونکہ ان کی عمر 85 سال سے کچھ زیادہ ہی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے قیوم کو ہی اپنے پاس بلا لیا۔ اللہ تعالیٰ کا بے شمار شکر اور احسان ہے کہ اس کو کسی قسم کی بھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ بالکل آرام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور چلی گئی۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وفات کے وقت خاکسار بالکل ساتھ ہی لیٹا ہوا تھا۔ بالکل کوئی آواز نہ سنی نہ ہی چہرہ پر کوئی بے چینی تھی۔صرف چہرہ پر مسکراہٹ عموماً وہ ایسے ہی ہوتی تھیں۔ خاکسار نے ان کو ہاتھ سے ہلایا تو کوئی جواب نہ تھا ۔ اکثر وہ فوری جواب دے دیتی تھیں۔ مجھے فوری احساس ہوا کہ شاید بے ہوش ہو گئیں ہیں مگر جب دیکھا تو وہ اس فانی دنیا کو چھوڑ چکی تھیں ۔اللہ تعالیٰ خاکسار کواورمرحومہ کے بچوں کو صبر و سکینت عطا کرے او ر اس کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق بخشے۔ آمین اللھم آمین
دوستوں سے دعا کی درخواست ہے۔

image_printپرنٹ کریں