skip to Main Content
میجر میاں عبدالباسط:  الزائمرز کی علامات اور احتیاطی تدابیر

بزرگوںمیں یادداشت کی کمی (نسیان)اور شخصیت میں تبدیلی صرف بُڑھاپے ہی کا اثر نہیں بلکہ دماغ کی کسی بیماری کی طرف نشاندہی کرتی ہےاس کیفیت کو ڈیمنشیا (dementia )کہا جاتا ہے۔اس کیفیت کی 60 فیصد وجہ’’الزائمرز‘‘کی بیماری ہےجو خاموشی سے حملہ آور ہوتی ہےاور بتدریج بڑھتی جاتی ہے۔کینسر کے بعد یہ دوسری بڑی بیماری ہےجس کی ریسرچ پر دنیا میں کثیر رقم خرچ کی جارہی ہے۔تاہم فی الوقت اس بیماری کا حتمی علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے۔جبکہ سائنسدان اب تک کی ریسرچ کے نتائج سے بہت پُر امید ہیں کہ وہ جلد اس موذی مرض کا علاج دریافت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
الزائمرز کی بیماری ایک progressiveبیماری ہے جو نہ صرف مریض کی زندگی تباہ کر دیتی ہےبلکہ مریض کو ایسی کیفیت میں مبتلا کر دیتی ہےجس سے گھر کے تمام چھوٹے بڑے افراد بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔عموماً 65 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ ایک مخصوص جینز(APOE e4)کے حامل افراد اس بیماری کے سب سے زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔ایسے افراد جن کے نزدیکی رشتہ دار (والدین یا بہن بھائی)اس بیماری میں مبتلا رہے ہوں یا وہ جنہیں کبھی سر کی چوٹ لگی ہو جس میں بے ہوشی طاری ہوئی ہو،انہیں بھی اس بیماری کے لاحق ہونے کے امکان زیادہ ہوتے ہیں۔
اس بیماری سےبچاؤ کے لئے وہ تمام احتیاطیں جو دل کے مرض سے بچنے کے لئے ضروری ہیں، کو اختیار کرنے سے اس مرض سے بچا جا سکتا ہے ۔نیز عمر کے ہر دور میں،خصوصاً50سال کی عمر کے بعد ذہنی کام کرنے اورصحت مندذہنی اور جسمانی مصروفیت رکھنے سے بھی اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔خدانخواستہ اس بیماری کے لاحق ہونے کی صورت میں جتنی جلدی اس کا علم ہو جائے اسی قدر آئندہ کے لئے اس بیماری سے نبردآزما ہونا آسان ہوتا ہے۔الزائمرز کے مرض کی 10علامات ہیں جو دوسرے افراد کو مریض کی نشاندہی میں ممد و معاون ہو سکتی ہے۔
1۔موجودہ یاداشت میں روزمرّہ زندگی پر اثر ہونے والی کمی ۔
2۔باریک بینی یا پیچیدہ سوچ میں مشکل ۔
3۔گھریلو،دفتری اور آسان مصروفیت کے سر انجام دینے میں دشواری۔
4۔وقت اور جگہ کے تعین میں دشواری ۔
5۔ظاہری منظر اور مختلف اشیاءکے باہمی رابطے کو سمجھنے کی اہلیت میں کمی۔
6۔صحیح الفاظ کے چناؤ،ادائیگی اور لکھنے میں دشواری۔
7۔اشیاء کو رکھ کر بھول جانے پر دوبارہ یاد کرنے کی اہلیت میں کمی۔
8۔سمجھنے،اندازہ لگانے اورفیصلہ کرنے کی اہلیت میں کمی۔
9۔لوگوں سے ملنے ملانے میں بیزاری اور زندگی کے معمولات میں دلچسپی میں کمی ۔
10۔شخصیت ،مزاج اور روّیوں میں تبدیلی۔
مندرجہ بالا علامات مریض کی روز مرہ کی مصروفیت اور روّیوں سے باآسانی محسوس کی جاسکتی ہیں۔مثلاً مرض کے ابتداء میں قریبی یادداشت میں کمی ہوتی ہے۔جس کی وجہ سے مریض باتوں کو دہراتے جاتے ہیں یا کاموں کو کرتے چلے جاتے ہیں ۔بیماری بڑھنے پر وہ پرانی یاداشت بھی کھو دیتے ہیں۔یہاں تک کہ قریبی رشتی داروں کو بھی پہچان نہیں سکتے ۔وہ لمبی گفتگو میں توجہ قائم نہیں رکھ سکتے ۔کاموں کی ترتیب یاد نہیں رکھ سکتے اور اکھٹی سنائی دیتی مختلف آوازوں کو علیحدہ نہیں کر سکتے۔ ہاں البتہ لمس ،لہجہ اور آواز کے اتار چڑھاؤ کے معاملہ میں انتہائی حساس ہوتے ہیں۔ساتھ کے ساتھ مریض میں مایوسی،زندگی میں دلچسپی کی کمی،جلد پریشان ہو جانا اور غصہ میں آجانا،گھر سے باہر بھٹکنا، بےمقصد چلنا،دوسروں کو مارنا،روزمرہ کے معمولات کو ادا نہ کر سکنا ،ذاتی معاملات میں بےاختیاری اور جو کچھ نظر آتاہے اس کا غلط اور منفی تاثر لینا جیسی تبدیلیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

علاج

مریض کے عزیزوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ مریض ان تمام باتوں کو خود نہیں کر رہا۔بلکہ یہ سب کچھ بیماری کروا رہی ہے ۔ایسے موقع پر مریض کو سمجھانا یا نصیحتیں کرنا بے سود ہے کیونکہ دماغ کا وہ حصہ جو ان باتوں کو قبول کرتا ہے ،وہی بیماری کی وجہ سے متاثر ہو چکا ہوتا ہے اور بتدریج متاثرہ حصہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔جس کے ساتھ ساتھ بیماری کے ظاہری اثرات بھی بڑھتے جاتے ہیں ۔گو فی الحال اس بیماری کا علاج دریافت نہیں ہوا ہےتاہم ڈاکٹرز اس بیماری کی وجہ سے ہونے والے منفی اثرات کو کافی حد تک ادویات کےذریعہ کنٹرول کر سکتے ہیں۔مریض کے رویوں کے بارہ میں کسی سائیکاٹرسٹ سے رجوع کرنا چاہئے۔اس کو علاوہ مریض کے روز مرہ کے معاملات کو بہت بہتر طور پر صحیح طریق سے دیکھ بھال کرنے سے اعتدال میں رکھا جا سکتا ہے ۔اس سلسلے میں Internet پر بہت سا مواد موجود ہےجبکہ پاکستان میں الزائمرز پاکستان راولپنڈی چیپٹر(APRC)نے اردو میں کئر گورنر گائیڈ بک تیار کی ہےجو کافی فائدہ مند ہو سکتی ہےیہ گائیڈ بک +923008550506پر فون کر کے مفت حاصل کی جا سکتی ہے۔
عمومی طور پر یاد رکھنا چاہئے کہ الزائمرز کے مریض کے لئے روزانہ ورزش اور بیماری کی ابتداء میں چھوٹے موٹے کاموں میں مصروفیت ضروری ہے اور ان کی غذا میں سبزیاں، پھل،اجناس،یخنی،مرغ کے گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے شامل کریں ۔غذا کونرم اور چھوٹے ٹکڑوں میں دیں ۔مریض کو گرم کی نسبت مناسب ٹھنڈے مشروبات دیں اور کھانا کھانے میں جلد بازی سے روکیں ۔یاد رکھیں کہ مریض کے ساتھ صرف پیار ومحبت کی زبان استعمال کرنی ہے۔دل یا شوگر کے عارضہ میں مبتلا ہونے کی صورت میں ڈاکٹر صاحب کے مشورہ سے غذا کا تعین کریں۔مریض کی جسمانی صفائی انتہائی ضروری ہے۔اس کے لئے گائیڈ بک سے استفادہ کریں ۔مریض سے ملاقات کرنے سے پہلےملاقاتی کو سمجھا دیں کہ وہ مریض سے خوش اخلاقی سے ملیں اور لمبی گفتگواور سوالات نہ کریں ۔اپنا تعارف ضرور کروائیں ۔آخری اہم بات دیکھ بھال کرنے والے کی اپنی جسمانی و ذہنی صحت ہے۔آپ ہچکچائے بغیر مدد طلب کریں ۔ہر روز وقفہ لیں ،دوست احباب کے ساتھ وقت گزاریں ۔اگر آپ کماتے ہیں تو اپنے ذریعہ معاش کو Compromise نہ کریں ۔اپنے شوق اور پسند کے کام جاری رکھیں۔اپنی غذا اور ورزش پر توجہ دیں ۔اکیلے دیکھ بھال کا کام سنبھالنے کی کوشش نہ کریں بلکہ اپنے ساتھ دوسروے رشتہ راروں کو بھی اس کام میں شامل کریں ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس موذی مرض سے محفوظ رکھے۔آمین۔

image_printپرنٹ کریں