skip to Main Content
نمود سحر۔لندن: اللہ تبارک وتعالیٰ کی صفت”السلام”

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

صِبْغَۃَ اللہِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللہِ صِبْغَۃً (البقرہ:139)

کہ تم اللہ تعالیٰ کارنگ اختیار کرویعنی ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی صفات کواپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرو۔تم صفات الٰہیہ کے مظہربنو،اس کی ربوبیت کےمظہر بنو۔اس کی رحمانیت کےمظہر بنو،رحیمیت کےمظہر بنو۔اس کی صفت’’السلام‘‘ کےمظہربنو۔ آنحضورﷺ نے اس مضمون کوایک حدیث میں یوں بیان فرمایا ہےکہ اللہ تعالیٰ نے آدم کواپنی صورت پر پیدا کیا۔اس سے ظاہری صورت مراد نہیں بلکہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نےاس کی تشریح یوں بیان فرمائی ہے کہ خداتعالیٰ نے آدم میں صفاتِ الٰہیہ کامظہر بننے کی قابلیت رکھ دی۔اگرخدا ستار ہےتوانسان بھی ستار بن سکتا ہے۔اگر خدا شکور ہے تو انسان بھی عبدًاشکورًا بن سکتا ہے۔اگرخداوہاب اوررزاق ہےتوانسان کے اندر وہاب اور رزاق بننے کی صلاحیت رکھ سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحشر کی آیت24میں جہاں بہت سی اپنی صفات کا ذکرفرمایا ہےوہاں‘‘السلام’’ کابھی ذکر فرمایاجس کےمعنی سلامتی والااورسلامتی دینے والے کےہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد بارمختلف انبیاءورسل علیہم السلام بالخصوص خاتم الانبیاءحضرت محمد مصطفیٰﷺ،مومنوں،متقیوں اور وفادارصحابہ رضوان اللہ علیہم پر ان کے نیک کاموں کی وجہ سےسلامتی بھیجی ہے۔ان کا اپنے رب کےنزدیک ‘‘دارالسلام’’میں قیام کاذکرملتا ہے۔
اللہ تعالیٰ دائمی ہےاوراس کایہ پیغام بھی دائمی ہے۔آج بھی ہم اس خدائے السلام سے سلامتی وصول کرسکتےہیں اگر ہمارےاعمال صحابہ جیسے نیک،صالح اورمتقی لوگوں جیسے ہوجائیں۔ہم ہرآن سلامتی وامن کے حصار میں آسکتےہیں۔آج کےدورمیں سیدنا حضرت مسیح موعودعلیہ السلام بھی سلامتی اورامن کے حصار ہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہےکہ ہم اس کشتی پر سوار ہوجائیں جوآج کےدورکےنوح نے تیار کی ہےاور کشتیٔ نوح کہلاتی ہے۔اس کے لئےاوراس میں سواررہنےاورامن وسلامتی میں رہنےاور دوسروں کوسلامتی کاپیغام پہنچانےکیلئےہمیں عبادت کےوہ تمام قرینے اپنانے ہوں گےجوآقاومولیٰ حضرت محمد مصطفیٰﷺنے ہمیں سکھلائے ہیں۔
عبادات میں سب سے پہلےنمازآتی ہےاورنمازپرغور کریں تواس کے ذریعہ ‘‘السلام’’ خدا نےہر اُس شخص اور عورت کوسلامتی کے حصار میں لینے کی ضمانت دی ہےجودیانت داری کےساتھ نماز ادا کرتا ہے۔اَلتَّحْیَات کو لیں توہم اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ کے بعد اَلسَّلَامُ عَلَیْنَاوَعَلٰی عِبَادِاللہِ الصّٰلِحِیْنَ کی دعا مانگتے ہیں۔ہم آنحضورﷺ،اپنےاوپر اور صلحاءپرسلامتی کی دعا کرتے ہیں۔پھردن میں فرض،سنتوں اور نوافل میںمتعدد بارنماز کو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ،اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ کےپیغام کےذریعہ ختم کرتے ہیں ۔کہ اے میرے ارد گردبسنے والواوربسنے والیو!تم پر میری طرف سے سلامتی کا پیغام ہے۔میری طرف سے تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچنے والی۔جب نماز ختم کرلیتےہیں تو

اَللّٰھُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ یَا ذُالْجَلَالِ وَالْاِکْرَام(مسلم کتاب المساجد)کے الفاظ میں خدائے عزوجل کویہ کہہ کر سلامتی کی درخواست کرتے ہیں کہ
اے اللہ!تیرا نام سلام ہے۔ہاں سلامتی تجھ سے ہی ملتی ہے۔لیکن دیکھنے کو یہ ملتا ہے کہ ہم روزانہ کئی باردربارِالٰہی میں اس سلامتی کے پیغام کے حصول کیلئے اوراپنے ارد گرد بسنے والےاحمدی مسلمان بہن بھائیوں کوسلامتی کا پیغام دیتے ہیں مگر روز میاں بیوی میں جھگڑا،اپنے ماحول میں جھگڑااور توتکرار نظر آتی ہے۔
‘‘السلام’’خدا کے تابع خاکسار آج آپ قارئین کی توجہ ایک اور حدیث کی طرف دلانا چاہتی ہوں۔جودرحقیقت مسلمان کی تعریف ہے۔ مسلمان کالفظ بھی سَلِمَ سےمشتق ہے۔سلامتی والا۔سلامتی دینے والا۔ آنحضورﷺنے فرمایا ہے:۔اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَ یَدِہٖ کہ مسلمان وہ ہےجس کی زبان اور ہاتھ سےدوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
یہ بھی خداتعالیٰ کی صفت السلام کے مظہربننے کی ایک صورت ہے۔ اللہ کی اس صفت کا مظہربننے کیلئےاللہ تعالیٰ نے بےشمارانعامات کاذکرفرمایا ہےجیسے قرآن کریم نے ایسےشخص کو محسن قراردیا۔ایک اور موقع پر مومن کہا۔اور لَاتَمُوْتُنَّ اِلَّاوَاَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَکے پیغام میں تمام زندگی خدا کی صفت السلام کا مظہر بنے رہنے کی تلقین کردی اور بہت فخریہ انداز میں اللہ تبارک وتعالیٰ نےسورۃ الحج کی آخری آیت میں مسلمانوں کوان کے دین کی خاطر جہاد کرنےاور دوسرےنیک کاموں کے طفیل مخاطب ہو کر فرمایا کہ یہ تمہارے باپ ابراہیم کا مذہب ہے اور ابتدائے آفرینش سے اللہ تعالیٰ نے تمہارانام’’مسلمان‘‘رکھا ہےتا تم تمام زندگی سلام خداکی صفت کا مظہر بنے رہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میں مسلمان بنائے اور اپنے لئے بھی اور غیروں کیلئے سلامتی کاپیغام بنیں۔

image_printپرنٹ کریں