skip to Main Content
اللہ کی رحمت عام اور وسیع ہے

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس آیت (الاعراف:157) سے معلوم ہوتا ہے کہ رحمت عام اور وسیع ہے اور غضب یعنی عدل بعد کسی خصوصیت کے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی یہ صفت قانون الٰہی سے تجاوز کرنے کے بعد اپنا حق پیدا کرتی ہے

(جنگ مقدس روحانی خزائن جلد6 صفحہ207)

پس جب اللہ تعالیٰ کسی کو سزا دیتاہے تو اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قانون سے باہر نکلتا ہے اور جیسا کہ ذکر ہو چکا یہ سزا بھی اصلاح کے لئے ہوتی ہے اور پھر آخر میں اللہ تعالیٰ کی رحمت غالب آ جاتی ہے۔ بہرحال واضح ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر کسی پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے تو وہ اس وجہ سے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے قانون سے باہر نکلنے کی انتہا کر دی ہے اور پھر باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کو وسیع کیا ہوا ہے پھر بھی وہ اس کے غضب کی زد میں آ جاتے ہیں۔
پھر اس کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
وعید میں دراصل کوئی وعدہ نہیں ہوتا۔ صرف اس قدر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدّوسیت کی وجہ سے تقاضا فرماتا ہے کہ شخصِ مجرم کو سزا دے۔ پھر جب شخصِ مجرم توبہ اور استغفار اور تضرع اور زاری سے اس تقاضا کا حق پورا کر دیتا ہے تو رحمت الٰہی کا تقاضا غضب کے تقاضا پر سبقت لے جاتا ہے اور اس غضب کو اپنے اندر محجوب و مستور کر دیتا ہے۔ یہی معنی ہیں اس آیت کے کہ عَذَابِیْٓ اُصِیْبُ بِہٖ مَنْ اَشَآ ۚ وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ (الاعراف:157) یعنی رَحْمَتِیْ سَبَقَتْ غَضَبِیْ۔

(تحفہ غزنویہ روحانی خزائن جلد15صفحہ537)

یعنی میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی۔ جب انسان توبہ کر رہا ہے، استغفار کر رہا ہے، تضرع کر رہا ہے، دعائیں مانگ رہا ہے اور جب اس کا یہ تقاضا پورا کر دیتا ہے، جو اس کا حق ہے وہ پورا کر دیتا ہے تو پھر آپ نے فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر سزا دینا کوئی فرض نہیں کیا ہوا۔ بلکہ اس نے جو فرض کیا تو وہ ایسے لوگوں پر رحمت فرض کی ہے۔ پھر اس کی رحمت جو ہے اس کے غضب کے تقاضے پر غالب آ جاتی ہے اور غضب جو ہے وہ غائب ہو جاتا ہے اور پردوں میں چھپ جاتا ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ8 جون 2018ء)

image_printپرنٹ کریں