skip to Main Content
مرزا خلیل احمد قمر :اخترحمید خاں کی کتاب سفر امریکہ کی ڈائری سے اقتباسات :حاصل مطالعہ

اختر حمید خاں کا شمار برصغیر جنوبی ایشیاء کے ممتاز ترین سماجی مفکروں اور کارکنوں میں ہوتا ہے۔ ان کو دنیا بھر میں اس زمانے کے نمایاں ترین سماجی سائنسدانوں میں سے ایک کے طور پر جاناجاتا ہے۔ ان کی شہرت کی بڑی وجہ ان کا وہ کام ہے۔ جو سابق مشرقی پاکستان ( بنگلہ دیش) کے شہر کومیلا میں دیہی ترقی کے پروگرام اور کراچی کی سب سے بڑی کچی آبادی میں اورنگی پائلٹ پروجیکٹ جیسے کامیاب منصوبوں کی صورت میں سامنے آیا۔ ان کی تحریروں میں ایسی گہری بصیرت ملتی ہے۔ جو برصغیر کی بدلتی ہوئی معاشرت اور موجودہ پاکستانی معاشرے کے رجحان کو سمجھنے میں ہماری مدد کرسکتی ہے۔
اختر حمید خاں 15جولائی 1914ء کو آگرہ ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے 1934ء میں آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے کرنے کے بعد انڈین سول سروس I.C.S میں شمولیت اختیار کی اور 1945ء میں اس سے مستعفی ہو گئے۔1947ء میں وہ جامعہ ملیہ دہلی سے استاد کے طور پر وابستہ ہو گئے اور تین سال پڑھاتے رہے۔1950ء میں وہ پاکستان چلے آئے اور کو میلا کے وکٹوریہ کالج کے پرنسپل ہو گئے۔1958ء میں انہوں نے امریکہ کی مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی سے دیہی ترقی کے شعبے میں تربیت حاصل کی اور واپس آ کر 1959ء میں کومیلا میں قائم دیہی ترقی کی اکیڈمی کے سربراہ عہدہ سنبھالا۔ اس حیثیت سے وہ 1971ء تک کام کرتے رہے اور 1973ء میں وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی چلے گئے۔ جہاں انہوں نے 1979ء تک پڑھایا۔ پاکستان واپس آ کر 1980ء میں اختر حمید خاں نے بی سی سی آئی کے تعاون سے اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی بنیادرکھی ۔ آپ نے 9؍اکتوبر1999ء کو امریکہ میں وفات پائی۔ جہاں وہ خود ساختہ جلا وطنی کے دن گزا ررہے تھے۔ اختر حمید خاں علامہ عنایت اللہ مشرقی کے بانی ‘‘خاکسار کی تحریک’’ کے داماد تھے۔
سفر امریکہ کی ڈائری کے علاوہ چراغ اور کنول کے عنوان سے اختر حمید خاں کی نظموں کا مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے۔ بچوں کے لئے کہی گئی ان کی ایک نظم کے سلسلے میں موصوف پر توہین رسالت کا الزام عائد ہوا اور مقدمہ بھی چلا۔ اختر حمید خاں ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ سیاسی او ر سماجی حالات پر گہری نظر رکھتے تھے اور ا ن پر دلچسپ تبصرہ بھی کیا کرتے تھے ان کے مشاہدات و تاثرات پر مبنی کتاب ‘‘کو میلا سے اورنگی تک شائع ہو چکی جو مطالعہ کے قابل ہے۔
ذیل میں اختر حمید خاں کی سفر امریکہ کی ڈائری سے چند اہم اور قابل مطالعہ اقتباسات قارئین کی نذر ہیں۔ اقتباسات کے عنوان خاکسار کے ہیں ۔
ٹالسٹائےکی پیشگوئی
روس میں انقلابی نظریات جو کمیونزم کےنقاد پر منتج ہوئے ،کے بارے میں ٹالسٹائے نے پیشگوئی کی تھی ۔
‘‘انقلابی نظریات کا نتیجہ بھی ظلم ہو گا۔ ایسا ظلم جو زار کے ظلم سے بڑھ کر ہو گا’’
(سفر امریکہ کی ڈائری صفحہ 42)
پروفیسر کلارک نے کہا ‘‘بیرونی مدد سے غریب ملکوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اگر ان کی حالت کچھ بہتر ہوئی ہے تو وہ بیرونی مدد سے نہیں ہوئی ہے آئندہ جب ان ملکوں کو مدد والے قرض ادا کرنے ہوں گے تو ان کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ ویت نام کی جنگ نے امریکی مدد کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ ثابت ہو گیاہے کہ چھوٹے ملکوں کو نام نہاد مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اپنی مدد آپ کر سکتے ہیں بلکہ امریکہ جیسی عظیم طاقت سے ٹکر لے سکتے ہیں۔
دنیا کی بے ثباتی اور بدھ کا قول
پھولوں کو بٹورنے والے شخص کا پھولوں سے جی نہیں بھرتا کہ موت اس کو بٹور کر لے جاتی ہے۔ مجھے موت یاد ہے۔ مجھے تو تھوڑے دن بعد دنیا سے رخصت ہونا ہے۔
محاسبۂ نفس
ضمیر ملامت کرتا ہے تم کاہل ہو تم نامعقول ہو ۔
صوفیوں کی ہدایت ہے ‘‘صوفی کو لمبی چوڑی اسکیمیں نہیں بنانی چاہیں، کل کی فکر نہیں ہونی چاہیے۔’’
پاکستان کے قابل اور وفادار افسر۔ ایم ایم احمد کا ذکر
پروفیسر ویویل نے پاکستان کے اعلیٰ افسروں کی تعریف کی اور کہا ‘‘غلام اسحاق، مرزا مظفر احمد اور انجینئر کرمانی جیسے قابل اور وفادار افسر دنیا میں کم ہی پائے جاتے ہیں۔’’ (سفرِ امریکہ کی ڈائری صفحہ 166)
کہتے ہیں تثلیث کو اب اہل دانش الوداع
لائبریری کی سیکرٹری نے مجھ سے پوچھا ‘‘تم ہندو ہو یا بدھ مت کے پیروکار’’ جب میں نے کہا کہ نہ میں ہندو ہوں نہ بدھ بلکہ مسلمان ہوں تو وہ بہت حیران ہوکر بولی ‘‘کیا مسلمان اتنی دور تک پائے جاتے ہیں؟ میرا خیال تھا کہ مسلمان صرف مشرقِ وسطیٰ میں رہتے ہیں۔’’
میں نے اس کو فخریہ اسلام کا وسیع علاقہ بتایا۔وسط ایشیا،روس،چین، پاکستان، ہندوستان،انڈونیشیا اورملائیشیا میں مسلمانوں کی تعداد بتائی۔ پھر اس نے کشمیر کا حال پوچھا۔
پھر اس نے سوال کیا کہ تثلیث کے متعلق اسلام کا کیا نظریہ ہے؟ میں نے کہا کہ قرآن اس عقیدے کو مہمل بتاتا ہے۔ وہ کہنے لگی ‘‘تثلیث کی منطق سمجھنا ہمارے لئے بھی مشکل ہے۔’’
وہ رومن کیتھولک ہے اس نے اسکول میں اسلام اور دوسرے مذاہب کا حال پڑھا ہے۔ اس نے کہا ‘‘رومن کیتھولک بہت دن تک اپنی پرانی وضع پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔ جس گرجا میں میں عبادت کرنے جاتی ہوں اس میں دو گروہ الگ ہوگئے ہیں ۔ اس کی ماں باپ کےہم عمربوڑھے آرگن پر پرانے طرز کے گانے گاتے ہیں اور اس کی عمر والے نوجوان نئے طرز کے ساز پر نئے گانے گاتے ہیں۔ نوجوان وعظ نہیں سنتے۔ علیحدہ مباحثہ کرتے ہیں۔ ان مباحثوں میں جدید مسائل کی تشریح ہوتی ہے۔ نوجوان لڑکیاں سینٹ پال کے خلاف ہیں۔ کیونکہ پال نے عورتوں کو برا کہا ہے اور ان پر پابندیاں لگا گیا ہے۔’’
ڈاکٹراُلری ہمارے ساتھ تھا۔ اس نے اپنے بچپن کی داستان سنائی۔ ڈاکٹر اُلری کا باپ کھیتی کرتا تھا۔ بہت نیک اور محنتی تھا لیکن گرجا میں عبادت کرنے نہیں جاتا تھا اُلری نے اس کے منہ سے کبھی کسی کی برائی نہیں سنی۔ ایک مرتبہ سیلاب آیا۔ باپ اُلری کو ساتھ لے کر کھیت اور کھلیان دیکھنے گیا۔ دونوں کے کندھوں پر بیلچے تھے۔ سب کچھ دیکھنے کے بعد باپ نے کہا ‘‘بیٹے یہ نقصان دس سال میں پورا ہوگا لیکن ہمیں اس کو پورا کرنا ہے۔’’
یہ ایک جملے کا وعظ اُلری کو ساری عمر کے لئے یاد رہ گیا۔ اُلری کلیسا کا قائل نہیں ہے وہ کہتا ہے کہ تیرہ سال کی سن میں اس کو یقین ہو گیا تھاکہ کلیسیا کے عقیدے اور رسمیں بے معنی ہیں ۔اصلی عبادت خلق کی خدمت ہے۔ اس کو تعجب ہے کہ بسااوقات پادر یوں نے خدمت خلق کی تنظیموں میں اس کی مدد لی ہے وہ جانتے ہیں کہ اُلری ان کے عقائد سے منکر ہے۔ ا س کے باوجود اس کی قدرکرتے ہیں ۔
اُلری نے ایک پادری کا قصہ سنایا۔ یہ پادری ایک جلسے میں شریک ہوا۔ جس میں اُلری کسانوں کو کیمیاوی کھادیں استعمال کرنے کی تلقین کر رہا تھا۔ جاتے وقت پادری نے اُلری سے کہا ‘‘تم ٹھیک کہتے ہو۔ میں بھی اپنے کسانوں کی کھادوں کی تلقین کروں گا۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ جہنم کی کیمیاوی آگ کی تلقین بھی جاری رکھوں گا۔’’
پروفیسر شولر نے اپنے بچپن کا حال بتایا۔ اس کو شک ہے کہ اس کا باپ بھی دراصل گرجا کا معتقد نہیں تھا۔ مگر خاندانی روایات کی خاطر عبادت میں شریک ہوتا تھا۔شولر بھی پابندی سے اتوار کے دن گرجا گھر جاتا تھا۔ بتدریج یہ پابندی کم ہوتی گئی۔ سات سال ہوئے شولر نے غور کیا کہ اس کلیسامیں نیگرو (کالے۔ناقل) لوگوں کو شامل نہیں کیا جاتا۔ اس لئے ان کی شمولیت کے لئے جہدوجہد کی۔ یہ کوشش کامیاب ناہوئی تو شولر نے گرجا گھر جانا چھوڑ دیا۔

(سفرِ امریکہ کی ڈائری صفحہ 203-204)

image_printپرنٹ کریں