skip to Main Content
مرسلہ۔ امۃ الباری ناصر۔ امریکہ: ایک ننھی بچی کی قبولیت دعا کا ایمان افروز واقعہ

واقعہ پیش کرنے سے پہلے بطور تمہید عرض ہے کہ مکرمہ صاحبزادی امۃ الرشید بنت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ کی زبان سے اپنے والدین کا ذکر ِخیرسن کر بے حد خوشی ہوتی تھی۔جب بھی آپ سے ملاقات ہویا فون پر بات ہو آپ انتہائی گرمجوشی اوربے تکلفی سے بات کرتی تھیں۔ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ خاصّہ ہے کہ ہر ایک اُن سے مل کر یہ سمجھتا ہے کہ یہ ہم سے خاص محبت کرتے ہیں۔ مکرمہ بی بی کے انداز میں محبت بھری شفقت دل موہ لینے والی مسکراہٹ اپنائیت کا انداز خوش کر دیتا تھا ۔آپ اکثر میرے محترم والدین خاص طور پر امّی جان کا ذکر بڑے اچھے الفاظ میں کرتی تھیں اور یہ تاکید کرتی تھیں کہ ہمیشہ اپنے ماں باپ کے لئے دعا کیا کرو اُنہوں نے جن قربانیوں اور پُر وقار صبر سے تم لوگوں کو پالا ہے وہ ہم نے دیکھا ہے۔آپ فرماتیں ۔باری!میں تمہیں دعا میں کبھی نہیں بھولتی مجھے تم سے تین وجہ سے پیار ہے۔ایک تو تمہاری امی کی قربانیاں اور دعائیں یاد آتی ہیں دوسرے تم بہار والوں میں بیاہی گئی ہو اور تیسرے لکھتی لکھاتی رہتی ہو۔
امی جان کے ذکر میں ایک واقعہ کا خاص طور ذکر فرماتیں ۔۔ اللہ پاک کا شکر ہے کہ میرے بھتیجے عزیزم مکرم آصف محمود باسط کی درخواست پر آپ نے ہمارے لئے تحریر فرما دیا ۔خاکسار اپنے سارے خاندان کی طرف سے اظہار تشکر اور دعاؤں کے ساتھ محترمہ صاحبزادی مۃ الرشید بیگم کی تحریر پیش کرتی ہے
بھائی عبد الرحیم صاحب درویش مرحوم کی بیگم صاحبہ نہایت ہی دین دار نیک اورپرخلوص خاتون تھیں۔بہت ہی محبت کرنے والی،بہت ہی کم گو تھیں لیکن جب ملتیں مُسکراتے ہوئے چہرے سے ملتیں۔عجیب سی معصومیت تھی اُن کے چہرے پر جو میں کبھی نہیں بھول سکتی مجھے تو زیادہ تر قادیان میں ہی اُن سے ملنے کا موقع مِلا کیونکہ جمعہ کی نماز کا مستورات کا انتظام ہمارے گھر کی نچلی منزل میں ہوتا تھا اور پھر ہفتہ کے دن صبح قرآن ِکریم کا درس بھی حضرت فضل عمر وہیں پر دیتے تھے۔وہ ہمیشہ بغیر ناغہ کے جمعہ کی نماز اور درس میں شریک ہونے کے لئے آتیں ویسے وہ گھر سے شاید بہت ہی کم نکلتی تھیں۔ ان کی زندگی کا مقصد اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت ہی تھا اُنہوں نے اپنے بچوں کی تربیت نہایت ہی اعلیٰ رنگ میں کی۔
تقسیم مُلک کے بعد اُن کے شوہر محترم تو قادیان میں درویش ہو گئے اور وہ بچوں کو لے کر ربوہ آ گئیں۔ہر وقت اُن کے لئے ہر طرح سے صبر آزما تھا۔چھوٹے چھوٹے بچے لے کر ایک عورت کے لئے اکیلے رہ کر تعلیم و تربیت کرنا کس قدر مشکل تھا یہ وہی جانتے ہیں جن کو ان حالات سے گزرنا پڑے۔ اتنا بڑا بوجھ ایک عورت کے کمزور کندھوں پر پڑ گیا لیکن یہ وقت بھی اُنہوں نے نہایت صبر اور حیرت انگیز دانش مندی سے گزارا۔ لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اور ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی پھر خدمتِ دین کا جذبہ اور دینی غیرت بھی ان کے اندر پیدا کی۔اس پر بس نہیں کی بلکہ اپنی بچیوں کو گھر کا سلیقہ بھی خوب سکھایا۔ پھر شادی بیاہ کا بوجھ اُن پر ہی تھا ہر بچی کی شادی دین کو دُنیا پر مقدّم رکھنے کے اصول پر کی۔ماشاء اللہ اُن کی سب بچیاں اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں دین بھی ہے اور دنیابھی۔ بہتخوش ہوتی ہوں ان کی بچیوں سے مل کر۔ماشاء اللہ وہ بھی اپنی والدہ کی تربیت کے نتیجہ میں اپنے بچوں کی ویسی ہی تعلیم و تربیت کر رہی ہیں اور خود بھی دینی کاموں میں پیش پیش ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کو اور اُن کی قیامت تک کی نسلوں کو خادم دین اور سلسلہ عالیہ احمدیہ سے وابستہ رکھے۔
اس مختصر سی تمہید کے بعد میں اصل واقعہ کی طرف آتی ہوں یہ واقعہ میرے بہت ہی بچپن سے تعلق رکھتا ہے میں بہت چھوٹی تھی اور نیا نیا سکول جانا شروع ہوئی تھی۔ ایک دن آدھی چھٹی کے وقت ہم سب لڑکیا ں باہر کھڑی تھیں وہ بہت ہی سستا زمانہ تھا۔بہت سی بچیوں کے والدین اپنی بچیوں کو ہر روز خرچ کے لئے ایک پیسہ دو پیسے دیتے تھے۔ کئی لڑکیاں صبح ناشتہ کے بغیر ہی جلد ی میں سکول آ جاتیں۔ اس طرح ایک لڑکی صبح ناشتہ کے بغیر ہی گھر سے سکول آ گئی اور پیسے لانا بھی شاید بھول گئی اُس کے ساتھ ایک لڑکی کھڑی تھی جوایک پیسے کے چنے خرید کر کھا رہی تھی اُس لڑکی کو ساتھ کی لڑکی نے کہا جو پیسے نہیں لائی تھی کہ تمہارے پاس دو پیسے تھے ایک پیسے کے تم نے چنے لے لئے ایک پیسہ جو تمہارے پاس ہے مجھے دے دو میں پیسے لانا بھول گئی ہوں۔وہ انکار کر رہی تھی کہ میں نہیں دے سکتی وہ لڑکی منت کرنے لگی کہ میں ناشتہ بھی نہیں کر کے آئی مجھے بھوک لگ رہی ہے میں کل تمہیں یہ پیسہ لا کر دے دوں گی جب وہ کسی طرح بھی رضا مند نہ ہوئی تو اُس نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ آپ سفارش کر دیں مجھے بھوک لگی ہے میں کل لا دوں گی مجھے اُس لڑکی پر ترس آ گیا میں نے کہا دے دو یہ کل لا دے گی۔میرے کہنے پر اُس لڑکی نے اُسے پیسہ دے دیا۔وہ لڑکی ہر روز ہی جب دوسری لڑکی سے اپنا پیسہ مانگتی تو وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتی اس طرح ہفتوں گزر گئے۔وہ لڑکی ہر روز مجھے بھی کہتی کہ آپ نے اس کی سفارش کی تھی۔ اُن دنوں ہم بچوں کو اتنی چھوٹی عمر میں ہاتھ میں سوائے عید وغیرہ کے پیسے نہیں ملتے تھے۔ جس چیز کی ہم خواہش کرتے وہ منگو ا دی جاتی تھی۔آخر ایک دن اُس لڑکی نے مجھے کہا کہ اگر فلاں دن تک پیسہ نہ دیا تو میں حضور کو تمہاری شکایت کر دوں گی ۔میں سخت گھبرائی اور بے حد پریشان ہوئی کہ سیّدنا ابا جان کو معلوم ہو گیا تو آپ کو اس بات کی سخت تکلیف ہو گی کیونکہ میں جانتی تھی کہ سیّدنا ابا جان کو قرض لینا برداشت ہی نہیں اور قرض لینے سے سخت نفرت تھی۔ تو میں نے رو رو کرنماز میں دعائیں شروع کر دیں اور بہت پریشان رہنے لگی۔آپا جان سیّدہ اُمِّ طاہر صاحبہ مجھے پریشان دیکھتیں اور نماز میں رو رو کر دعائیں کرتے دیکھ کر پریشان ہو جاتیں اور مجھ سے پوچھتیں کہ کیا تکلیف ہے مجھے بتاؤ لیکن مجھ پر اتنا خوف طاری تھا کہ میں اُن کو کبھی نہ بتاتی صرف اس لئے کہ اُن کو بھی بہت تکلیف ہو گی اس بات سے کہ اس نے اس لڑکی کو قرض کیوں دلوایا اور یہ ذمہ داری کیوں لی۔ اور اب تو وہ لڑکی جس نے بطور قرض کے پیسہ دیا تھا وہ مجھ سے کہنے لگی کہ اب تو میں ایک پیسہ نہیں لوں گی بلکہ چار آنے لوں گی اگرچار آنے نہیں دو گی تو میں حضور کو شکایت کر دوں گی۔ پھر تو کچھ نہ پوچھئے کہ میں نے کس طرح رو رو کر بلک بلک کر دعائیں کیں کہ یا اللہ تو میری مدد کرایک دن میں سکول جانے کے لئے اپنے کمرہ میں تیار ہو رہی تھی کہ بھائی عبدالرحیم صاحب درویش کی بیگم صاحبہ میرے کمرہ میں آئیں

اور مجھے ایک چونی دینے لگیں میں نے انکار کیا کہ سیّدنا ابا جان نے ہمیں کسی سے بھی کوئی بھی چیز لینے سے سختی سے منع کیا ہو ا ہے۔اس پر وہ کہنے لگیں یہ میں نہیں دے رہی آپ کی امّی نے آپ کو بھیجی ہے۔میں نے حیران ہو کر اُن کی طرف دیکھا اور کہا میری امّی نے؟ یہ کیا کہہ رہی ہیں؟اس پر اُنہوں نے مجھے بتایا کہ آج رات میں نے خواب دیکھا کہ آپ کی امّی بی بی امۃ الحئی میرے پاس آئیں اور مجھے ایک چونی دے کر کہنے لگیں کہ یہ میری بیٹی امۃ الرشید کو دے دینا وہ بہت پریشان ہے۔ میں نے وہ چونی لے کر اپنے سرہانے کے نیچے رکھ لی اور میری آنکھ کھل گئی مجھے یقین تھا سچ مُچ وہ چونی مجھےدے گئی ہیں۔میں نے تکیہ دیکھا اپنا بستر جھاڑا لیکن وہاں پر کچھ بھی نہیں تھا نماز وغیرہ سے فارغ ہو کر ہر روز کے معمول کے مطابق میں اپنے کمرہ میں جھاڑو دینے لگی اور دروازے کی دہلیز پر پہنچی تو وہاں پر ایک چونی پڑی تھی اور میں وہ لے کر اُسی وقت آپ کے پاس آ گئی ہوں کیونکہ یہ میری نہیں یقینا یہ وہی چونی ہے جو آپ کی امّی آپ کے لئے دے گئی تھیں۔میں نے وہ چونّی لے لی اور اُس لڑکی کو جا کر دے دی اور اس طرح اپنی جان چھڑوائی۔
میراا یمان ہے کہ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ مجھ میں دعاؤں کا ذوق پیدا ہو اور قبولیت دُعا پر میرا ایمان اور یقین ہمیشہ کے لئے قائم ہو جائے اور یہ کہ جو کچھ مانگنا ہے اللہ تعالیٰ سے مانگو وہ ناممکن کو ممکن میں بدل دینے والا ہے۔
اس واقعہ کے چند دن بعد ہی ہمیں بھی روز کے دو پیسے اور جمعے کے دن ایک آنہ ملنے لگ گیا۔بہت دن کے بعد یہ واقعہ میں نے آپا جان سیّدہ اُمِّ طاہر اور سیّدنا ابا جان کو بھی بتا دیا۔وہ بھی اس بات پر بہت خوش ہوئے کہ تم نے بہت اچھا کیا جو اپنے مولا سے مانگا اور بندوں کی طرف رجوع نہیں کیا۔

image_printپرنٹ کریں