skip to Main Content
ایک عالمی شہرت یافتہ عاشق دین مبین کی خودنوشت سوانح عمری کاسنہری باب

درود و سلام کی معطر فضامیں بیت اللہ شریف سے گنبد خضریٰ تک

میں نے بچپن میں سُنا تھا کہ میرے دادا جان چوہدری سکندر خان صاحب مرحوم نے حج کی سعادت حاصل کی تھی۔اس وقت سے میرے دل میں اس فریضہ کی ادائیگی کا اشتیاق تھا۔انگلستان میں تعلیم ختم کرنے کے بعد وطن واپس جاتے ہوئے نومبر1914ء میں حج کی سعادت حاصل کرنے کا ارادہ تھا۔ٹکٹ جون 1914ءمیں ہی خرید لئے گئے تھے۔اگست1914ء میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوگئی جس سے یہ پروگرام درہم برہم ہوگیا۔1939ء کی گرمیوں میں پھر ارادہ کیا کہ جنوری 1940ء میں اس فریضے کی ادائیگی کی جائے۔جہازی کمپنی سے پروگرام طے ہوگیا لیکن ستمبر1939ء میں دوسری عالمی جنگ کی وجہ سے یہ پروگرام بھی منسوخ کرنا پڑا۔قیام پاکستان کے بعد اقوام متحدہ کی اسمبلی کے سالانہ اجلاسوں کے دوران میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ عالیجاہ امیر فیصل (حال جلالۃ الملک فیصل)کے ساتھ نیازمندی کے روابط پیدا ہونے پر میں نے ان سے حج کے لئے مکہ معظمہ حاضر ہونے کے متعلق مشورہ کیا۔انہوں نے فرمایا تم آؤتو ہم سب انتظام کر دیں گے لیکن حج کے ایام میں موسم اس قدر گرم ہوتا ہے کہ باوجود ہر قسم کی سہولت کے ہم لوگوں کے لئے بھی اس کی برداشت مشکل ہو جاتی ہے۔ہمارا مشورہ ہے کہ چند سال انتظار کرو جب تک حج کے ایام میں موسم کسی قدر اعتدال پر آجائے۔1958ء میں عدالت کا اجلاس شروع فروری کی بجائے اوائل اپریل میں منعقد ہونا تھا۔میں نے ارادہ کیا کہ اس تاخیر سے فائدہ اٹھا کر میں عمرے کا پروگرام بناؤں۔ممکن ہے اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحم سے حج کی توفیق بھی عطا فرمائے اور اس فرض کی ادائیگی کے لئے مناسب سہولت بھی میسر فرماوے۔ان ایّام میں خواجہ شہاب الدین صاحب جدّے میں پاکستانی سفیر تھے میں نے ان کی خدمت میں اپنے ارادے کی اطلاع کر دی۔ان دنوں کراچی سے کوئی پرواز براہ راست جدّے نہیں جاتی تھی کراچی سے جدّے جانے کے لئے دہران یا بیروت سے ہو کر جانا پڑتا تھا۔مجھے مشورہ دیا گیا کہ بیروت سے جانے میں یہ سہولت رہے گی۔چنانچہ میں 17مارچ 1958ء کو جدّے پہنچ گیا۔خواجہ شہاب الدین صاحب کمال شفقت سے مطار پر تشریف لائے ہوئے تھے۔مُصر ہوئے کہ میں ان کے ہاں پاکستانی سفارت خانے میں قیام کروں۔خواجہ صاحب نے فرمایا کہ انہوں نے میرے عمرہ کے لئے حاضر ہونے کا ذکر جلالۃ الملک سعود کی خدمت میں کیا تھا جس پر جلالۃ الملک نے فرمایا کہ وہ ہمارا مہمان ہوگا۔خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ مہمان تو آپ کا ہی ہوگا اور سب انتظام بھی آپ ہی کی طرف سے ہوگا لیکن آپ کی اجازت سے اگر اس کی رہائش ہمارے ہاں ہو تو ہم اس کے طبّی پرہیز اور عادات سے واقف ہونے کے باعث اس کے خورونوش کا انتظام اس کی ضرورت کے مطابق کر سکیں گے۔اس پر جلالۃ الملک نے اس شرط پراجازت دے دی کہ باقی سب انتظام وغیرہ کا اور مکہ معظمہ میں قیام کا سعودی محکمہ ضیافت کی طرف سے ہوگا۔خواجہ صاحب کے ہاں مجھے ہر سہولت میسر رہی ان کی مہمان نوازی مشہور ہے اور میں کراچی میں بھی اس سے متمتع ہوتا رہا تھا۔جدّے میں بھی وہی کیفیت تھی۔ان کی بیگم صاحبہ محترمہ کی طرف سے بھی میں نہایت تواضع کا مورد رہا۔فجزاھم اللہ خیراً
18مارچ بعد نماز فجر مکہ معظمہ کے لئے روانہ ہوا۔سفارت خانہ کے سپرنٹنڈنٹ میرے ہمراہ تھے۔اس سفر میں دل میں جذبات کا جو ہیجان تھااس کا بیان الفاظ میں مشکل ہے۔البتہ ظاہری مناسک کا خلاصہ بیان ہو سکتا ہے۔ہر دل اپنی کیفیات اور اپنے ظرف کے مطابق باقی کا قیاس کر سکتا ہے۔جدّہ سے نکلتے ہی تلبیہ کا ورد شروع ہوتا ہے۔حرم کی حدود سے تھوڑے فاصلے پر پہلے حدیبیہ کا مقام آتا ہے جہاں رسول اللہ ﷺنے قیام فرمایا تھا اور جہاں قریش کے نمائندے سہیل کے ساتھ آخری شرائط صلح طے پا کر معاہدہ لکھا گیا تھا۔یہاں اب ایک چھوٹی سی مسجد ہے جس میں مَیں نے دو نفل ادا کئے۔حدود کے نشان کے طور پر سڑک کے دونوں طرف ستون ایستادہ ہیں۔یہاں سے شروع ہو کر مختلف مقامات پر دعا مستحب ہے۔مکہ معظمہ کی آبادی کے قریب مقام مدعی ہے۔مکہ معظمہ جاتے ہوئے کعبہ شریف کی چھت پہلے پہل اس مقام سے نظر آیا کرتی تھی۔اب درمیان میں مکانات بن جانے کی وجہ سے وہاں سے نظر نہیں آتی۔شہر مکہ معظمہ کے نظر آنے پر بھی دعا مستحب ہے اور پھر شہر میں داخل ہوتے وقت بھی ۔میرا قیام فندق مصر میں ہوا۔سامان رکھتے ہی مسجد حرام حاضر ہوئے۔خانہ کعبہ کی دید سے آنکھیں روشن ہوئیں، طواف کی سعادت حاصل ہوئی۔طواف کی تکمیل پر مقام ملتزم پر کھڑے ہو کر درِ کعبہ کی دہلیز پر ہاتھ رکھے کامل محویت اور گداز کی حالت میں دعا کی توفیق ہوئی۔فالحمدللہ۔اسی حالت میں محسوس ہوا کہ کعبہ شریف کا دروازہ کُھل گیا ہے۔کعبہ شریف کے اندر داخلہ نصیب ہوا۔پہلے اس مقام پر کھڑے ہو کر جس کے متعلق یہ بھی کہاجاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے وہاں نفل ادا کئے اور مولانا رومؒ کے مصرعہ ’’دردرونِ کعبہ رسمِ قبلہ نیست‘‘حقیقت عملاً تجربے میں آئی۔
سعودی خاندان نے جہاں جدّے سے مکّہ معظمہ، جدّے سے مدینہ منوّرہ، مکّہ معظمہ سے منیٰ ،مزدلفہ، عرفات کی پختہ سڑکیں صرف زر کثیر سے تعمیر کروا کر حجّاج کے لئے ان گنت مشکلات اور صعوبتوں کا خاتمہ کریا ہے اور حج بیت اللہ اور حرمین کی زیارت بے حد آسان کر دی ہے اور منیٰ اور عرفات کے مقامات پر بافراط تازہ میٹھے پانی کے ذخیرے مہیا کر دئیے ہیں، وہاں صفا مروہ کے درمیان مقامِ سعی کو مسقف کر کے اور حرم کے صحن کو وسعت دے کر اور اس فرش کو ہموار کر کے حجاجِ بیت اللہ کے لئے بہت سی سہولتوں کا سامان کر دیا ہے۔فجزاھم اللہ احسن الجزاء فی الدنیا والآخرۃ میرے عمرہ کے لئے حاضر ہونے سے تھوڑا عرصہ قبل کعبہ شریف کی پرانی چھت کے چار فٹ یا ساڑھے چار فٹ نیچے نئی چھت ڈالی گئی تھی۔پرانی چھت کے متعلق اندیشہ پیدا ہوگیا تھا کہ کمزور ہو رہی ہے۔جب میں کعبہ شریف کے اندر نوافل سے فارغ ہوا تو مجھے بتایا گیا کہ جن انجینئر صاحب کی زیر نگرانی کعبہ شریف کے صحن کی توسیع اور چَھت کی تعمیر کا کام ہو رہا ہے وہ اس وقت کعبہ شریف کی دونوں چھتوں کے درمیان تشریف فرماہیں اور مجھے شرفِ ملاقات سے مشرّف کرنے پر رضامند ہیں۔چنانچہ میں کعبہ شریف کی اندرونی سیڑھی کے رستے ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور چند منٹ بین السقفین الکعبہ ٹھہرنے کا شرف حاصل کیا۔کعبہ شریف سے نکل کر مقامِ ابراہیم ، حضرت ہاجرہ، حضرت اسمٰعیل علیہم السلام کی کمال فرمانبرداری اور انتہائی قربانیوں کی یاد تازہ کی اوردل میں خشیت اور گداز کی کیفیات کو محسوس کیا۔سعی کی تکمیل کے بعد حطیم کے اندر اور حطیم اور رکنِ ایمانی کے درمیان نفل ادا کئے اور قیام گاہ پر واپس آیا۔ظہرین کے بعد منیٰ ، مزدلفہ اور عرفات حاضر ہوئے۔جبلِ رحمت پر دعا کی اور سید ولد آدم افضل الرسل خاتم النبیّین محبوب خدا محمد ﷺپر الٰہی فرمان کے مطابق بہت بہت درود اور سلام بھیجنے کی سعادت حاصل کی۔عرفات کی مسجد میں نفل ادا کئے اور مکہ معظمہ کو واپس ہوئے۔بعد مغرب طواف اور نوافل کی سعادت حاصل کی 18کی رات مکہ معظمہ میں قیام رہا 19کی صبح کو تیسری بار حرم کعبہ میں طواف اور نوافل کی ادائیگی کا موقع نصیب ہوا۔مکّہ معظمہ سے جدّے کیلئے روانہ ہوئے تو خیال آیا کہ منیٰ جاتے ہوئے جبلِ نور پر تو کچھ فاصلے سے نگاہ پڑ گئی تھی(حرا کا مقام جبل نور پر ہے)اگر ہو سکے تو غارِ ثور کو بھی خواہ دُور ہی سے ہو دیکھنا چاہئے۔سپرنٹنڈنٹ صاحب کو غارِ ثور کا مقام معلوم نہیں تھا اور کار کے شوفر کو ثور کے لفظ سے کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔آخر جب میں نے اپنی ناقص عربی میں بتایا اور غار جس میں ہجرت کے موقع پر رسول اللہ ﷺاور حضرت ابوبکرؓ نے عارضی قیام فرمایا تھا تو شوفر مسکرایا اور سر ہلا کر ظاہر کیا کہ وہ مطلب سمجھ گیا ہے۔وہ ہمیں پہاڑ کے دامن تک لے گیا غار میں داخلے کا مقام وہاں سے نظر آتا تھا لیکن وہ سڑک سے بہت بلندی پر تھا سورج کی تمازت تیز ہوچکی تھی اس لئے ہم نے نیچے سے دیکھ لینا ہی غنیمت سمجھا اور جدّے کی جانب روانہ ہو گئے۔
دوسرے دن معلوم ہوا کہ جلالۃ الملک نے مجھے ریاض طلب فرمایا ہے۔ چنانچہ میں 21مارچ کو ریاض حاضرہوا۔جلالۃ الملک سلطان عبدالعزیز ابنِ سعود کے حالات میں پڑھا تھا کہ جب کویت سے نکل کر انہوں نے ریاض کو تسخیر کیا اس وقت ریاض ایک کچی دیوار سے گِھرا ہوا قصبہ تھا جس پر اپنے چند جانباز ہمراہیوں کے ساتھ رات کے وقت دیوار پھاند کر سلطان عبدالعزیز نے قبضہ کیا تھا۔لیکن وہ ریاض اور تھا اور ان کے فرزند جلالۃ الملک سعود کا درارلحکومت ریاض اور تھا ۔جو ریاض میں نے دیکھا وہ ریگستان کے درمیان امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہروں کی مانند ایک شہر جس کو دیوار سے گِھرے ہوئے قصبے کے ساتھ کسی قسم کی نسبت نہیں تھی۔یہی صورت بعد میں کویت میں دیکھی۔1934ء میں جب میں نے کویت میں ایک رات بسر کی تو کویت بھی ایک کچی پکی دیوار سے گھرا ہوا قصبہ تھا۔28سال بعد جب مجھے پھر کویت میں ٹھہرنے کا موقع ہوا تو کویت گودڑ میں سے لعل بن کر برآمد ہو چکا تھا۔اگرچہ ریاض ٹیکساس (امریکہ)کے شہروں کا مقابلہ کرتا ہے لیکن ٹیکساس کے شہروں کی کوئی عمارت بھی ریاض کے محلات شاہی کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔جلالۃ الملک بہت تواضع سے پیش آئے اور بڑی ذرّہ نوازی کا سلوک روا رکھا۔فجزاہ اللہ۔امیرِ فیصل ان ایّام میں ناسازیٔ طبع کے باعث باہر ریگستان میں تھے اس لئے ان کی خدمت میں حاضری کا موقع نہ مل سکا۔
ریاض میں عبدالوہاب عزام صاحب سے مل کر بہت خوشی ہوئی وہ پاکستان میں سفیر مصر کے عہدہ پر فائز رہ چکے تھے۔بہت علم دوست تھے۔انہوں نے علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کے فارسی کلام میں سے منتخبات کا عربی میں ترجمہ کیا ہے۔جب میں ریاض حاضر ہوا وہ وہاں کے دارالعلوم کے ریکٹر Rectorتھے اور مختلف شعبوں کی تربیت اور تنظیم میں منہمک تھے۔افسوس کہ عمر ن نے وفا نہ کی اور تھوڑا عرصہ بعد داعیٔ اجل کولبیک کہا۔اللہ تعالیٰ مغفرت کرے۔
22مارچ کو میں ریاض سے جدّے واپس آیا اور بعد مغرب طواف اور نوافل کے لئے پھر حرم حاضر ہوا۔ 23کی سہ پہر کو مدینہ منورہ حاضر ہونے کا ارادہ تھا لیکن اس دن یوم پاکستان کی تقریب میں خواجہ صاحب نے وسیع پیمانے پر شام کے کھانے کی دعوت کا انصرام فرمایا تھا اور میری شمولیت پر انہیں اصرار تھا۔انکار کی گنجائش نہ تھی۔اس لئے مدینہ شریف کا سفر بعد مغرب شروع ہو کرنصف شب سے ڈیڑھ ساعت بعد ختم ہوا۔فالحمدللہ۔سڑک پختہ بننے سے پہلے اونٹ کی سواری سے یہ سفر 13دن سے لے کر 17دن میں کٹتا تھا۔
مدینہ منورہ میں شاہی مہمان خانے میں قیام ہوا۔سفارتخانے کے تجارتی سیکرٹری میرے ہمراہ تھے۔24کی صبح مسجدنبوی میں حاضر ہو کر روضۂ مبارک پر دعا کی اور منبر نبویؐ اور روضۂ مبارکہ کے درمیان نفل ادا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔مسجد نبوی سے جنت البقیع حاضر ہوئے۔حضرت عثمانؓ، حلیمہؓ(رسول اللہ ﷺکی رضاعی والدہ)،عثمان بن مظعونؓ، ابراہیمؓ(فرزند رسول اللہ ﷺ)، عبدالرحمن بن عوفؓ اہل بیت رسول اللہﷺو صحابہؓ رضوان اللہ علیہم کے مزاروں پر دعا کا موقع نصیب ہوا۔میدانِ احد سے واپسی پر مسجد قبلتین میں نفل ادا کئے، پھر مسجدِ قبا گئے اور وہاں نفل ادا کئے۔واپسی پر مسجد نبوی میں روضۂ اقدس پر دعا کی اور نفل ادا کئے۔مدینہ منورّہ میں ایک زائر کے دل و دماغ پر کن جذبات کا ہجوم ہوتا ہے ان کا اظہار اسدؔملتانی مرحوم نے اس شعر سے کرنے کی کوشش کی ہے جو انہوں نے مدینہ منورہ میں قیام کے دوران میں کہا۔
ہر ایک راہ کو دیکھا ہے محبت کی نظر سے
شاید کہ وہ گزرے ہوں اسی راہ گزر سے
اور سچ تو یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں تمام وقت ہی اور خصوصاًروضۂ اطہر کے قُرب میں دل کی جوکیفیت ہوتی ہے اس کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں۔25کی صبح کو نماز فجر کے بعد ہم جدّہ واپسی کے سفر پر روانہ ہوگئے۔رستے میں بدر کے مقام کے قریب رک کر جنگ کا مقام دیکھا۔یہ جنگ جس میں قریش کی طرف سے ایک ہزار تجربہ کار جنگ آزمودہ بہادر ہتھیاروں سے پوری طرح مسلّح نبردآزما تھے اور رسول اکریمﷺکے ساتھی صرف 313افراد جن کے جسموں پر پُورا لباس نہ تھا، ہاتھوں میں پورے اسلحہ نہ تھے اور جن میں سے کچھ تو فن حرب سے واقف تھے اور کچھ بالکل ناتجربہ کار لڑکے تھے۔اپنے نتائج کے لحاظ سے دنیا کی تاریخ میں سب سے قاطع اور فیصلہ کن جنگ تھی۔ظاہر بین آنکھ طرفین میں کسی قسم کی نسبت نہیں پاتی تھی لیکن حقیقت بین نگہ میں یہ مقابلہ ایک طرف مادی طاقت پر گھمنڈ اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ پر یقین کامل میں تھا۔یہ کفر اور ایمان کے درمیان فیصلہ کن جنگ تھی۔اگر اس دن بغرض محال کفر غالب آتا تو جیسے رسول اکرمﷺنے جنگ شروع ہونے سے پہلے حضرتِ احدیت میں مناجات کرتے ہوئے عرض کیا تھا، اللہ جل شانہٗ کی عبادت روئے زمین سے تا ابد مٹ جاتی لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ کیونکر منظور ہو سکتا تھا۔وہ تو برسوں پہلے اپنے رسول ؐ اور محبوبؐ سے فرما چکا تھا اور وعدہ کر چکا تھا سیھزم الجمع ویو لون الدبر۔چنانچہ جیسے اللہ تعالیٰ نے جو علیم و قدیر ہے فرمایا تھا ویسے ہی ہوا اور اللہ تعالیٰ کے قول کوہی سرفرازی ہوئی۔چند گھنٹوں کے اندر قریش کا غروراور تکبر بدر کے میدان میں خاک و خون میں ملیامیٹ ہو کر رہ گیا۔دوپہر کے کھانے تک ہم بفضل اللہ بخیریت جدّہ واپس پہنچ گئے۔26کی صبح کو میں آخری بار عمرہ ادا کرنے کیلئے بیت اللہ کے صحن میں حاضر ہوا ۔مکہ معظمہ سے واپسی پر جدّے سے بیروت کے ہوائی سفر پر روانہ ہوا۔سفر کے دوران میں دل میں پیہم جذبات کا ایک تلاطم برپا رہا اور آنکھوں سے آبشار جاری رہی اور زیر لب حسرتِ قلب کا اظہار ان پر سُوز الفاظ میں ہوتا رہا۔

مے پریدم سُوئے کوئے او مدام
من اگر مے داشتم بال و پرے

(تحدیث نعمت‘‘صفحہ644تا648از قلم حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خاں صاحب صدر عالمی اسمبلی طبع دوم دسمبر1982ء)

image_printپرنٹ کریں