skip to Main Content
اداریہ: آبگینے

ہمارے مؤقر جریدے گلدستہ میں ہفتہ کے روز اداریہ شائع ہوتا ہے۔ جس کی چند دن پہلے تیاری شروع ہو جاتی ہے۔ اس دفعہ خاکسار اپنے اس کالم میں عنوان سوچتے سوچتے سوگیا۔صبح بیدار ہوا تو زبان پر‘‘آبگینے’’کا لفظ بار بار آر ہا تھا جس کی تائید دماغ بھی کر رہا تھا۔ خاکسار نےجب اس لفظ اور اس کے مفہوم پر غور شروع کیا تو ایک بہت لطیف مضمون ذہن میں اُبھرا اور فوراً ایک حدیث ذہن میں گردش کرنےلگی۔ جس میں آنحضورﷺ نے خواتین کو ‘‘القَوَارِیْرَ ’’یعنی آبگینے کہہ کر پکارا ہے۔ اس مضمون پر مزید سوچتے سوچتے ذہن وٹس ایپ کی طرف منتقل ہوا جس کے ذریعہ ان عورتوں کی تضحیک اور تذلیل کی جاتی ہے جس کو آنحضورﷺ نے‘‘آبگینے’’قرار دیا ہے ۔ چنانچہ وٹس ایپ کی خرابیوں اور قباحتوں پر ایک کالم شائع ہوکر مورخہ 28ستمبر2019ء کو منصہ شہود پر آچکا ہے۔ خاکسار نے نہایت اختصار کے ساتھ ‘‘آبگینے’’مضمون کو اس اداریہ میں سمونے کی کوشش کی ہے۔
اب خاکسار آپ کو آج کے اہم مضمون کی طرف لےچلتا ہوں۔ ایک دفعہ کچھ ازواج مطہرات آنحضور ﷺ کے ساتھ سفر میں ہمراہ تھیں اور قافلہ اونٹوں پر سوار تھا۔ ایک حبشی غلام نجش نامی حُدّی (ایسی سریلی آواز جس کی وجہ سے اونٹ آہستہ آہستہ بھاگنا شروع ہوجاتے ہیں) پڑھنے لگا جس کی وجہ سے اونٹوں کے چلنے کی رفتار میں تیزی آ گئی اور خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں ازواج ِ مطہرات میں سے کوئی گر نہ جائے تو آنحضور ﷺ نے حبشی غلام کو مخاطب ہو کر فرمایا۔
رُوَیْدَکَ سَوْقاً بِالْقَوَارِیْر(مسلم کتاب الفضائل)
کہ دیکھنا ان اونٹوں پر شیشے اور آبگینے سوار ہیں کہیں ٹوٹ نہ جائیں۔ گویاہمیں یہ معلوم ہوتا ہےکہ انگلش محاورہ Glass with care کا پہلی دفعہ استعمال آج سےچودہ سو سال قبل ہمارے آقا و مولیٰ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔
جسے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب Ahmdiyyat true Islam pege249میں Mind the glassکے الفاظ میں استعمال فرمایا ہے۔
اسلام سے قبل وہ وجود جو تحقیر کے پیشِ نظر زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔ یا گلا گھونٹ کر مار دیا جاتا تھا۔ اس وجود کو آنحضور ﷺ نے وہ اعلیٰ مقام عطا فرمایا جس کا ذکر قرآن و احادیث میں جنت میں حوروں کے الفاظ سے ملتا ہے اور اس دنیا میں ماں کے قدموں تلے جنت کے الفاظ میں مضمر ہے۔
‘‘آبگینہ’’کے لفظ کو جب ڈکشنریز کی طشتری میں دیکھا جائے تو بہت ہی حسین، لطیف اور عمدہ معنوں کا امتزاج ملتا ہے۔
اصل میں یہ فارسی لفظ ہے جو نقل مکانی کر کے اُردو میں مستعمل ہونے لگا۔ جس کے معنی شیشہ،صراحی،مَینا(ایک خوش الحان پرندہ یا ایسا خوبصورت بچہ جو پیاری پیاری باتیں کر کے ہنسائے) اور شعراء نے صراحی کو بھی اپنی شاعری میں خوبصورتی کے حوالہ سے استعمال کیا ہے۔
انگلش میں یہ لفظ ڈائمنڈیعنی ہیرے کے معنوں میں بھی استعمال ہواہے جس کی چمک اردگردکے لوگوں کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے اور عربی میں قواریر کی منفرد ‘‘قارورۃ ’’کے معنوں میں خوبصورت صراحی نما برتن جس میں پینے کے لئے پانی رکھا جاتا ہے۔
ان معنوں کے پیش ِ نظر اگر ایک عورت کو بیوی کے روپ میں دیکھیں تووہ مرد کے لئے سکون کا باعث بنتی ہے۔ اس کے علاوہ اپنی نیند اور غذا کی قربانی کر کے اپنے خاوند کی اولاد کو خون پسینہ ایک کر کے پالتی ہے۔ راتوں کو اپنے خاوند کی اولاد کی سہولت اور سُکھ کی خاطر سوکھے بستر پر سُلا کرخودگیلی جگہ پر لیٹ کر قربانی کرتی ہے۔ رات کو ادھ پچدّی نیند کے باوجود صبح سویرے اُٹھ کر خاوند اور اپنے بچوں کو ناشتہ کرواکر دفتر اور اسکولز و کالجز بھجواتی ہے۔ پھر اس کی سوچ کی سوئی خاوند اور بچوں کی بھوک مٹانے کے لئے دوپہر کے کھانے پر اٹک جاتی ہے اور وہ اس کی تیاری شروع کر دیتی ہے۔ خاوند اور بچوں کے گھر آنے پر اُنہیں تناول ماحضر پیش کرتی ہے اور علیٰ ھذا القیاس دن کا بقیہ حصہ مشین کی طرح کام کرکے سکون اور سہولتیں مہیا کررہی ہوتی ہے اور پھر رات کو گزشتہ دن کی طرح دہرائی شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں یورپین ممالک میں تو عورتیں ہی بچوں کو بگھی اور پرام وغیرہ میں ڈال کر سودا سلف بھی خریدنے چلی جاتی ہیں۔ نومولود بچوں کو ہسپتال یا کلینک میں علاج معالجہ کے لئے بھی خود چلی جاتی ہیں تاکہ خاوند کے دفتری کاموں میں حرج نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مرد و عورت کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے کہ جس طرح لباس انسان کے سَتر کا کام دیتا ہے اسی طرح مردا ور عورت کو ایک دوسرے کےلئے ستر یعنی کمزوریوں کو چھپانے کا حکم ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پاکستان میں مجھے خدمت کے دوران فیلڈ میں میاں بیوی کی ناچاقی میں صلح کروانے کا موقع ملا۔ خاوند اپنی بیوی کو کسی صورت اپنے پا س رکھنے کو تیار نہ تھا۔ ہر طریق آزمایا مگر وہ بضد تھا اور وجہ کوئی نہ بتاتا تھا۔ آخر جب طلاق نامہ پر دستخط کروائے گئےتو اس21سالہ نوجوان نے مجھے مخاطب ہو کر کہا کہ ! آج اس دستخط سے قبل یہ خاتون میرا لباس تھی اس لئے میں نے اس کے حوالہ سے آپ سے کوئی بات نہیں کہی کہ لباس تار تار نہ ہو۔ اب وہ کسی اور کا لباس بھی بنے گی اس لئے آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ بھی میں اس کے حوالہ سےکسی سے بات نہیں کروں گا تا اس کی زندگی میں نئے آنے والے ساتھی کے لباس کو بھی کوئی گزند نہ پہنچے۔
حقیقت میں یہی اسلامی تعلیم ہے لیکن ہمارے معاشرے میں سے کچھ لوگ اس کے برعکس عمل پیرا ہیں۔ جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں کہ دُکھ کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا بالخصوص وٹس ایپ کے ذریعہ عورتوں کی تذلیل کا سلسلہ جاری ہے اور بیویوں کو ایسے بھیانک اور خطرناک روپ میں دکھایا جاتا ہےجیسےوہ معاشرے میں عزت کے ساتھ رہنے کا حق بھی نہیں رکھتیں اور اس پر مستزاد یہ کہ ایسے میسجز اور پوسٹیں عورتوں کی طرف سے بھی Share ہو رہی ہوتی ہیں۔ مرد حضرات شغل میلے میں اسے وائرل کرتے ہیں۔ میاں بیوی کے تعلقات میں میاں کو بری الذمہ نہیں قرار دیا جاسکتاکہ وہ صرف عورت کو بدنام کرے اور خود کوSpareکرے۔ اس کے مقابل پر ماں کے حوالہ سے اگر پوسٹ ہو تو بہت اچھے تبصرے سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں اور ملنے بھی چاہئیں کہ یہ ایک ایسی پیاری ہستی ہے جو انسان کو اس دنیا میں لانے کا موجب بنی اور اس نے اولاد کی دل بھر کے خدمت بھی کی اور عورت کو بیوی کے روپ میں میڈیا میں پیش کیا جاتا ہے کیا وہ عورت، ہمارے بچوں کی ماں نہیں؟ کیااس کے قدموں تلے بچوں کے لئے جنت نہیں؟ اگر اپنے گھر کو جنت نظیر بنانا چاہتے ہو تو پھر اس جنت کو مزید خوبصورت، سایہ دار اور دودھ کی نہروں والی جنت بنانے کے لئے اپنا حصہ بھی ڈالنا ہوگا۔آبگینے تو شیشے ہیں۔ اور اگر صاف شفاف looking mirror پر دھبہ لگ جائے یا دھند لا ہوجائے تو ہمیں صحیح نظر نہیں آتا ہم اُسے کپڑے یا کسی اور شئے سے صاف کرتے ہیں لیکن اس آبگینے یا شیشے کو ہم ایسی پوسٹوں اور میسجز سے گدلا کرتےرہتے ہیں۔آبگینہ لفظ میں ہماری بہنوں کے لئے بھی ایک پیغام ہے کہ وہ بھی اپنے خاوندوں کے لئے اپنے آپ کو شیشے کی طرح صاف شفاف اور ستھرا رکھیں تا آپ کے اندر خاوند کا صاف ستھرا چہرہ نظر آئے تاکہ وہ اپنی بیوی کو دیکھ کر خوش ہو۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ ٗعورت کے مقام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
‘‘کیا ہی سچی بات ہے کہ عورت ایک خاموش کارکن ہوتی ہے۔ اس کی مثال اس گلاب کے پھول کی سی ہے جس سے عطرتیار کیا جاتاہے۔ لوگ اس دکان کو یاد رکھتے ہیں جہاں سے عطر خریدتے ہیں۔ مگر اس گلاب کا کسی کو خیال بھی نہیں آتا جس نے مر کر ان کی خوشی کا سامان پیدا کیا۔’’

image_printپرنٹ کریں