Home

ارشادِ باری تعالیٰ

وَالَّـذِيْنَ يُحَآجُّوْنَ فِى اللّٰهِ مِنْ بَعْدِ مَا اسْتُجِيْبَ لَـهٝ حُجَّتُهُـمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّـهِـمْ وَعَلَيْـهِـمْ غَضَبٌ وَّلَـهُـمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ

اور وہ لوگ جو اللہ کے بارہ میں اس کے بعد بھی جھگڑتے ہیں کہ اسے قبول کرلیا گیا ہے اُن کی دلیل اُن کے ربّ کے حضور باطل ہے اور ان پر ہی غضب ہوگا اور اُن کے لئے سخت عذاب (مقدر) ہے۔

( الشوریٰ:17)
کلامِ الٰہی

فرمان رسولؐ

آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
‘‘اگر کوئی بُرا کام کر بیٹھو تو پھر نیک کام کرنے کی کوشش کرو، یہ نیکی اس بدی کو مٹا دے گی اور لوگوں سے خوش اخلاقی اور حسن اخلاق سے پیش آئو”

(ترمذی، کتاب البر)

فرمانِ رسول ﷺ

شامتِ اعمال

انسان جس قدر مشکلات اور مصائب میں مبتلا ہوتا ہے اور دنیا میں اس پر آفتیں آتی ہیں۔یہ سب شامتِ اعمال ہی سے آتی ہیں۔میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ لوگ ایک دھوکہ میں پڑ جاتے ہیں کہ ہم پر اگر مصیبتیں آئیں تو کیا ہوا؟ انبیاء علیہم السلام پر بھی مصیبتیں آئی ہیں۔لیکن وہ نہیں جانتے کہ انبیاء علیہم السلام کی مصیبتوں اور تکلیفوں سے ان کی مصائب اور مشکلات کو کوئی نسبت نہیں۔انبیاء علیہم السلام کی مصائب میں لذت ہوتی ہے۔وہ قربِ الٰہی کے بڑھانے کا موجب ہوتی ہیں۔ان سے محبت بڑھتی ہے اور ان کا فوق العادت استقلال اور رضا وتسلیم اعلیٰ درجہ کی معرفت کا باعث بنتا ہے۔برخلاف اس کے یہ مصیبتیں اور بلائیں وبائیں جو گناہ کی شامت سے آتی ہیں اُن میں درد اور تکلیف کے علاوہ خد اسے بُعد ہوتا ہے اور ایک تاریکی چھا جاتی ہے۔آخر بالکل تباہی اور بربادی ہو جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک زہر ہے۔زہر کھا کر کوئی بچ نہیں سکتا۔پس گناہ کی زہر کھا کر یہ توقع کرنا کہ وہ بچ جائے گا خطرناک غلطی ہے۔یقینا یاد رکھو جو گناہ سے باز نہیں آتا وہ آخر مرے گا اور ضرور مرے گا۔ ﷲ تعالیٰ نے انبیاء اور رسل کو اسی لئے بھیجا اور اپنی آخری کتاب قرآن مجید اس لئے نازل فرمائی کہ دنیا اس زہر سے ہلاک نہ ہو بلکہ اس کی تاثیرات سے واقف ہو کر بچ جاوے۔قدیم سے سنت ﷲ اسی طرف پر چلی آئی ہے کہ جب دنیا پر گناہ کی تاریکی پھیل جاتی ہے اور انسانوں میں عبودیت نہیں رہتی اور عبودیت اور الُوہیت کا باہمی رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔انسان سرکشی اور بغاوت اختیار کرتا ہے توﷲ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے اُس کی آگاہی اور تنبیہہ کے لئے اپنا ایک مامور بھیج دیتا ہے وہ دنیا میں آکر اہل دنیا کو اس خطرناک عذاب سے ڈراتا ہے جو اس کی شرارتوں اور شوخیوں کی وجہ سے آنے والا ہوتاہے اور ان کو اس زہر سے جو گناہ کی زہر ہے بچانا چاہتا ہے جو سعید الفطرت ہوتے ہیں وہ اس کے ساتھ ہو جاتے ہیں اور سچی توبہ کر کے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔لیکن شریر النفس اپنی شرارتوں میں ترقی کرتے اور ا س کی باتوں کو ہنسی ٹھٹھے میں اُڑ ا کر خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکاتے ہیں اور آخر تباہ ہو جاتے ہیں۔

(ملفوظات جلد چہارم ص 142)

ارشاد حضرت مسیح موعود

نماز مومن کی معراج ہے

ہر ایک کا م کرنے سے پہلے سوچ لو اور دیکھ لو کہ اس سے خدا تعالیٰ راضی ہوگا یا ناراض ۔فرمایا نماز بڑی ضروری چیزہے اور مومن کی معراج ہے خدا تعالیٰ سے دعا مانگنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے نماز اس لئے نہیں کہ ٹکریں ماری جاویں یا مرغ کی طرح کچھ ٹھونگیں مار لیں بہت لوگ ایسے ہیں نماز پڑھتے ہیں اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ کسی کے کہنے سننے سے نماز پڑھنے لگ جاتے ہیں پھر دلی جوش سے نماز نہیں پڑھ رہے ہوتے بلکہ اپنے بڑوں کے کہنے سے یا دوستوں کے کہنے سے یا ساتھیوں کے کہنے سے نماز پڑھنے لگ جاتے ہیں فرمایا یہ کچھ نہیں نماز وہ ہے جو دلی جوش سے پڑھی جائے اور اس کی عادت پڑنی چاہئے شروع میں لوگوں کے کہنے سے اس طرف توجہ پیدا ہوتی ہے نصیحت بھی کی جاتی ہے لیکن آہستہ آہستہ جب شروع کردے انسان دلی جوش سے ہمیشہ نمازمیں توجہ رہنی چاہئے پس نماز کی ادائیگی اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی آواز جو ہے وہ دل سے نکلنی چاہئے کسی کے دکھاوے یا کسی خوف سے نہیں ہونی چاہئے۔

(افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ یوکے 2016ء)

وقت کی آواز

ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الخامس

اطلاعات واعلانات
آج کا شمارہ ڈاؤن لوڈ کریں
‎Guldasta
‎Guldasta
Price: Free
Guldasta
Guldasta
Price: Free