Home

ارشادِ باری تعالیٰ

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۫ وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡا ؕ اِعۡدِلُوۡا ۟ ہُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی ۫ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹﴾

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو۔ یقیناً اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔
(المائدہ:09)
کلامِ الٰہی

ذکرِالہٰی

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَبَّحَ اللهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ وَكَبَّرَ اللهَ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ ۔لَا إِلَهَ إِلاّ اللهُ وَحْدَهٗ لا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ۔

( مسلم کتاب الصلوٰۃباب استجاب الذکربعدالصلوٰۃ)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا جو شخص ہر نماز کے بعد 33بار سبحان اللہ، 33بار الحمد للہ اور33بار اللہ اکبر کہے اور پھر پورا سو100 کرنے کیلئےیہ ذکر کرےلَا إِلَهَ إِلاّ اللهُ وَحْدَهٗ لا شَرِيكَ لَهٗ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، یعنی اللہ کے سوا کوئی معبودنہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہی بادشاہ ہے اور مستحق حمد و ثناء ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے تو اس کے سب گناہ بخش دیئے جائیں گے اگر چہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر (یعنی بہت زیادہ) ہی ہوں۔

فرمانِ رسول ﷺ

خداتم سےکیاچاہتاہے

اے سننے والو سنو! کہ خدا تم سے کیا چاہتا ہے بس یہی کہ تم اُسی کے ہو جاؤ اُس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو نہ آسمان میں نہ زمین میں۔ ہمارا خدا وہ خدا ہے جو اب بھی زندہ ہے جیسا کہ پہلے زندہ تھا اور اب بھی وہ بولتا ہے جیسا کہ وہ پہلے بولتا تھا اور اب بھی وہ سنتا ہے جیسا کہ پہلے سنتا تھا۔ یہ خیال خام ہے کہ اس زمانہ میں وہ سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں۔ بلکہ وہ سنتا ہے اور بولتا بھی ہے، اس کی تمام صفات ازلی ابدی ہیں کوئی صفت بھی معطل نہیں اور نہ کبھی ہوگی۔ وہ وہی واحد لاشریک ہے جس کا کوئی بیٹا نہیں اور جس کی کوئی بیوی نہیں وہ وہی بے مثل ہے جس کا کوئی ثانی نہیں اور جس کی طرح کوئی فرد کسی خاص صفت سے مخصوص نہیں اور جس کا کوئی ہمتا نہیں جس کا کوئی ہم صفات نہیں اور جس کی کوئی طاقت کم نہیں وہ قریب ہے باوجود دور ہونے کے اور دُور ہے باوجود نزدیک ہونے کے۔ وہ تمثّل کے طور پر اہل کشف پر اپنے تئیں ظاہر کر سکتا ہے مگر اُس کے لئے نہ کوئی جسم ہے اور نہ کوئی شکل ہے اور وہ سب سے اوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اُس کے نیچے کوئی اور بھی ہے اور وہ عرش پر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ زمین پر نہیں۔ وہ مجمع ہے تمام صفات کاملہ کا اور مظہر ہے تمام محامد حقّہ کا اور سرچشمہ ہے تمام خوبیوں کااور جامع ہے تمام طاقتوں کا اور مبداء ہے تمام فیضوں کا اور مرجع ہے ہر ایک شَے کا اور مالک ہے ہر ایک ملک کا اور متصف ہے ہر ایک کمال سے اور منزّہ ہے ہر ایک عیب اور ضعف سے اور مخصوص ہے اِس امر میں کہ زمین والے اور آسمان والے اُسی کی عبادت کریں۔

ارشاد حضرت مسیح موعود

ہرقسم کےشرک سےبیزاری

سیدناحضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ 10جون 2005ء میں فرمایا۔
حضرت ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ کی محبت میں شرک کے خلاف ایک عظیم جہاد کیا تھا اور مخالفین نے اس وجہ سے ان کو آگ میں بھی ڈالا تھا ۔ لیکن خدا تعالیٰ اپنے پیاروں کو اس طرح ضائع نہیں کرتا۔ چنانچہ وہ آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکی ۔ ہمیں بھی اپنا جائزہ لینا ہوگا کہ ایک طرف تو ہم اپنے آپ کو ابراہیم کی برکات کا حصہ دار بنانا چاہتے ہیں۔ ہم اس زمانے کے ابراہیم کو مان کر ہرقسم کے شرک سے بیزاری کا اظہار کرنے کا نعرہ لگاتے ہیں۔ لیکن مثلاً نمازوں کے اوقات ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بت اور خدا، نوکری کے ، کاروبار کے سستیوں کے ہم نے بنائے ہوئے ہیں۔ ان کے پنجے سے نکلنا نہیں چاہتے۔ یا اس طرح نکلنے کی کوشش نہیں کرتے جس طرح کوشش کرنی چاہئے۔ تو صرف منہ سے یہ کہہ دینا کہ اے اللہ ہمیں مقام ابراہیم پر فائز کر دے کوئی فائدہ نہیں دے گا ۔ جب تک کہ وہ محبت اپنے دل میں پیدا نہ کریں۔ جو ابراہیم علیہ السلام کو اپنے خدا سے تھی۔ جب تک ہم اپنے آپ کومکمل طور پر خدا تعالیٰ کے احکامات کے سپردنہ کردیں۔ جب تک ہم اپنے تمام معاملات خدا پرنہ چھوڑ دیں اور عبادتوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کے ساتھ ساتھ جھوٹی اناؤں کو نہ چھوڑ دیں۔ جب تک ہم اپنے خاندانوں اور برادری کی بڑائی کے تکبر سے باہر نہ نکلیں۔ جب تک ہم اس چکر میں رہیں گے کہ میں سید ہوں یا مغل ہوں یا پٹھان ہوں یا جاٹ ہوں یا آرائیں ہوں ان لفظوں سے جب تک باہر نہیں نکلیں گے کوئی فائدہ نہیں۔ جب تک ہم اپنے معیار اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق تقویٰ کو نہ بنالیں تو جب ہم یہ ساری چیزیں کر لیں گے تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم مقام ابراہیم پر قدم رکھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس مقام پر قدم رکھتے ہوئے اپنے تمام معاملات خدا تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں۔ تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہیں ۔ تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم وفاداروں میں ہیں اور اس زمانے کے ابراہیم سے جو عہد بیعت ہم نے باندھا ہے اس کو پورا کرنے والے ہیں۔

(مشعل راہ جلد پنجم حصہ سوم صفحہ 37)

وقت کی آواز

ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الخامس

اطلاعات واعلانات
آج کا شمارہ ڈاؤن لوڈ کریں
‎Guldasta
‎Guldasta
Price: Free
Guldasta
Guldasta
Price: Free