Home

کلام الہی

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ 

تُو کہہ دے میں رسولوں میں سے پہلا تو نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ مجھ سے اور تم سے کیا سلوک کیا جائے گا۔ میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے اور ایک کھلے کھلے ڈرانے والے کے سوا مَیں اور کچھ بھی نہیں۔

(الاحقاف:10)

کلامِ الٰہی

ایک چلو سے منہ دھونا

عطاء بن یسار نے حضرت ابن عباسؓ کے متعلق کہا کہ انہوں نے وضوکیا اور اپنا منہ دھویا، اس طرح کہ پانی کا ایک چلو لے کر اس سے کلی کی اور ناک میں پانی لیا۔ پھر پانی کا ایک اور چلو لیا اور یوں کیا کہ اس کو اپنے دوسرے ہاتھ سے ملایا اور اس سے اپنا منہ دھویا۔ پھر پانی کا ایک اور چلو لیا اور اس سے اپنا دایاں ہاتھ دھویا۔ پھر پانی کا ایک اور چلو لیا اور اس سے اپنا بایاں ہاتھ دھویا۔ پھر انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر پانی کا ایک چلو لیا اور اس کو اپنے دائیں پائوں پر چھڑک کر اس کو دھویا۔ پھر ایک اور پانی کا چلو لیا اور اس سے دھویا۔ یعنی اپنے بائیں پائوں کو۔ پھر اس کے بعد انہوں نے کہا: اس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضوکرتے دیکھا۔

(صحیح بخاری کتاب الوضو)

فرمانِ رسول ﷺ

کبر اور نخوت

غرضیکہ ریاء وغیرہ کی مثال ایک چوہے کی ہے جو کہ اندر ہی اندر اعمال کو کھاتا رہتا ہے۔خدا تعالیٰ بڑا کریم ہے لیکن اس کی طرف آنے کے لئے عجز ضروری ہے۔جس قدر انانیت اور بڑائی کا خیال اس کے اندر ہوگا خواہ وہ علم کے لحاظ سے ہو، خواہ ریاست کے لحاظ سے۔خواہ مال کے لحاظ سے،خواہ خاندان اور حسب نسب کے لحاظ سے،تو اسی قدر پیچھے رہ جاویگا۔اسی لئے بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ سادات میں سے اولیاء کم ہوئے ہیں،کیونکہ خاندانی تکبر کا خیال ان میں پیداہو جاتا ہے۔قرونِ اولیٰ کے بعد جب یہ خیال پیدا ہوا تو یہ لوگ رہ گئے۔

(ملفوظات جلد چہارم ص 88 )

ارشاد حضرت مسیح موعود

الٰہی! مجھے میری آنکھوں سے اسلام کو زندہ کر کے دکھا

آپ ؓ کی عبادتوں کے معیار کی بچپن میں ہی کیا حالت تھی اس بارے میں حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ بھی جو آپؓ کے بچپن کے اساتذہ میں سے تھے اپنے تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ چونکہ عاجز نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت 1890ء کے آخیر میں کر لی تھی اور اس وقت سے ہمیشہ آمد و رفت کا سلسلہ متواتر جاری رہا۔ میں حضرت اولوالعزم مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ کو اُن کے بچپن سے دیکھ رہا ہوں کہ کس طرح ہمیشہ ان کی عادت حیااور شرافت اور صداقت اور دین کی طرف متوجہ ہونے کی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دینی کاموں میں بچپن سے ہی ان کو شوق تھا۔ نمازوں میں اکثر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ جامع مسجد میں جاتے اور خطبہ سنتے۔ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے یاد ہے جب آپؓکی عمر 10 سال کے قریب ہو گی آپ مسجد اقصی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ نماز میں کھڑے تھے اور پھر سجدہ میں بہت رو رہے تھے۔ بچپن سے ہی آپؓ کو فطرۃً اللہ کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ خاص تعلق محبت تھا۔

(سوانح فضل عمرؓ جلد1صفحہ116)

پھر ایک اور واقعہ ہے آپؓ کی گریہ و زاری کرنے کا اور سجدوں میں دیر تک پڑے رہنے کا جس سے بڑوںکو بھی بڑا تعجب ہوا کرتا تھا اور ایسی حالت میں جبکہ ظاہری طور پر بڑوں کو یہ بھی پتہ ہو کہ کوئی صدمہ بھی نہیں ہے ایسا یا فکر کی کوئی بات بھی نہیں ہے تو اس وقت جب بڑے آپ کی گریہ و زاری دیکھتے تھے تو ان کو بڑا تعجب ہوتا تھا اور سوال اٹھتا تھا کہ آخر اس بچے پہ کیا بیتی ہے جو راتوں کو چھپ چھپ کر اٹھتا ہے اور بلک بلک کر اپنے رب کے حضور روتا ہے اور اپنے معصوم آنسووں سے سجدہ گاہ کو تر کر دیتا ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ22 فروری2019ء)

وقت کی آواز

ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الخامس

اطلاعات واعلانات
یا آپ ہمیں اپنی آراء درج ذیل نمبر پرواٹس ایپ کریں 447441909530+
جلسہ سالانہ یوکے2019ء
امسال جلسہ سالانہ یوکے 3،2اور 4 اگست 2019ءکو منعقد ہونے جارہا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے بابرکت کرے۔
(لندن مانیٹرنگ ڈیسک)جیسا کہ احباب کو گلدستہ کے ذریعہ اطلاع دی جا چکی ہے کہ امیر جماعت کراچی مکرم نواب مودود احمد خان صاحب وفات پا گئے ہیں آپ کی نماز جنازہ مسجد مبارک میں بعد نماز عصر 5:30 بجے ادا کی جائے گی۔
آج کاشمارہ ڈاؤن لوڈ کریں
Guldasta
Guldasta
Price: Free
Guldasta
Guldasta
Price: Free