skip to Main Content
انجم احمد:  53واں جلسہ سالانہ برطانیہ 2019ء اللہ تعالیٰ کے افضال اور برکات کو سمیٹتا ہوا اختتام پذیر ہوگیا

محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ انگلستان کو 2تا4؍ اگست 2019ءکو اپنا 53واں جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی توفیق ملی ہے۔الحمد للہ
حضور انور نے بنفس نفیس جلسہ کے لئے اسلام آباد،بیت الفتوح ،جامعہ احمدیہ اور حدیقۃ المہدی میں کئے گئے جملہ انتظامات کا تفصیلی معائنہ فرمایا۔حضور انور نے مہمانوں کی رہائش گاہوں ،کھانے کی مارکیوں، رہائشی خیمہ جات ،جلسہ گاہ زنانہ و مردانہ ،ایم ٹی اے،دفاتر اور لنگر خانہ کا الگ الگ معائنہ فرمایا اور کھانے کے معیار کا جائزہ لیا۔ شام 7بج کر 23منٹ پر حضور انور مرکزی پنڈال میں رونق افروز ہوئےاور ڈیوٹی والے احباب سے خطاب فرمایا۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نےخطبہ جمعہ میں خلافت احمدیہ کے انگلستان میں ہجرت کرنے کے بعد ابتدائی جلسوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان جلسوں میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کو بڑی محنت کرنی پڑی اور قدم قدم پر رہنمائی کرنی پڑتی تھی۔ اسی طرح حضور انورنے اس بات کا بھی ذکر فرمایا کہ ابتدا میں پاکستان سے یہاں جلسہ سالانہ میں مدد کرنے کے لیے عہدیدار بھی آتےتھے۔حضور نے جماعتی نمائشوں کو دیکھنے کی بھی نصیحت فرمائی اور Smart TV App کے اجراء کا بھی اعلان فرمایا۔نماز ظہر و عصر کے بعد حضور انور نے باقاعدہ طور پر Smart TV Appپر ایم ٹی اے چینل کو لانچ فرمایا۔

پرچم کشائی

2۔اگست 2019ء کو4 بجکر 34 منٹ پر حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سینکڑوں ممالک کے جھنڈوں کے جھرمٹ میں بنائے گئے چبوترے پر تشریف لے گئے جہاں حضورِ انور نے لوائے احمدیت لہرایا۔ جیسے ہی حضورِ انور نے لوائے احمدیت لہرایا فضا نعروں سے گونج اٹھی۔اس کے بعد حضورِ انور نے دعا کروائی اور جلسہ سالانہ کے افتتاحی اجلاس کے لئے جلسہ گاہ میں تشریف لے گئے۔

پہلا اجلاس

پہلے دن کی کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا ۔ فارسی اور اردو نظم کے بعد حضور انور نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ عمل صالح بہت ضروری ہے ۔اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم بیان فرمائی کہ ایک فرد بھی گھر میں عمل صالح کرنے والا ہو تو سارا گھر بچایا جاتا ہے ۔ خطاب کا خلاصہ الگ شاملِ شمارہ ہے ۔

دوسرا اجلاس

مورخہ 3۔اگست کو جلسہ سالانہ کے دوسرے دن کے پہلے اجلاس کا آغاز صبح 10بجے ہوا۔ مکرم افسر صاحب جلسہ گاہ نے تشریف لا کر اجلاس کے آغاز کا اعلان کیا اور مکرم شیراز احمد  ایڈیشنل ناظر اعلیٰ قادیان(برائے جنوبی ہند)کو حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ کی منظوری سے اس اجلاس کی صدارت کے لئے دعوت دی۔ اجلاس کی کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ تلاوت اور اردو ترجمہ مکرم حافظ فیضان  نے پیش کیا۔ بعد ازاں مکرم مجاہد جاوید  نے نظم پیش کی۔
اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم ڈاکٹر اعجاز الرحمان  صدر مجلس انصار اللہ برطانیہ نے اردو زبان میں کی۔ آپ کی تقریر کا عنوان‘‘علمی ترقی کے ذرائع’’تھا۔ اس اجلاس کی دوسری تقریر مکرم ابراہیم نونن  مبلغ انچارج آئرلینڈ نے انگلش زبان میں کی۔ آپ کی تقریر کا عنوان ‘‘قرآن کریم کی بیان کردہ پیشگوئیاں’’تھا۔ تقریر کے بعد مکرم صہیب احمد طالبعلم جامعہ احمدیہ یو کےنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اردو نعتیہ کلام سے چند اشعار پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس اجلاس کی تیسری تقریر‘‘آنحضرت ﷺ کا اندازِ تربیت”کے عنوان پر محترم فضل الرحمٰن ناصر قائد تربیت مجلس انصار اللہ برطانیہ نے اردو زبان میں کی۔ اس اجلاس کے آخر پر ایک اردو نظم ہوئی۔ جو مکرم ندیم زاہد صاحب نے کلام طاہر میں سے ترنم سے پڑھی۔ اجلاس کا اختتام 12بجکر 2منٹ پر ہوا۔

لجنہ سے حضورانور کا خطاب

4بجے سہ پہر حضور انور ایدہ اللہ لجنہ کی مارکی میں تشریف لے گئے۔ تلاوت اور نظم کے بعد تعلیمی ایوارڈز لجنات میں تقسیم کئے گئے۔ اس کے بعد حضور انور نے خواتین سے خطاب فرمایا جس کا خلاصہ الگ شامل اشاعت ہے ۔

تیسرا اجلاس

تیسرے اجلاس کا آغاز رفیق احمد حیات امیر جماعت یو کے نے کروایا۔ جس میں معزز مہمانوں کے خطاب تھے۔ اس کے بعد حضور انور تشریف لائے اور تلاوت قرآن کریم مع اردو ترجمہ کے بعد اردو نظم پیش کی گئی اور بعد ازاں حضور انور نے خطاب فرمایا۔ جس میں سال بھر میں نازل ہونے والے اللہ تعالیٰ کےفضلوں اور انعامات کی ایک معمولی جھلک پیش فرمائی۔ حضور کے خطاب کا خلاصہ الگ شامل گلدستہ ہے۔

چوتھا اجلا س

4۔اگست کو جلسہ سالانہ کے تیسرے دن کے پہلے اجلاس کا آغاز صبح 10بجے ہوا۔ مکرم افسر صاحب جلسہ گاہ نے تشریف لا کر اجلاس کے آغاز کا اعلان کیا اورمکرم صاحبزادہ مرزا مغفور احمد صاحب امیر جماعت امریکہ کو حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ کی منظوری سے اس اجلاس کی صدارت کے لئے دعوت دی۔ اجلاس کی کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ تلاوت اور اردو ترجمہ مکرم وسیم الرشید صاحب مربی سلسلہ سیرا لیون نے پیش کیا۔ بعد ازاں نظم مکرم رانا محمود الحسن صاحب مربی سلسلہ نے پیش کی۔
اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم ایاز محمود خان صاحب مربی سلسلہ نے اردو زبان میں کی۔ آپ کی تقریر کا عنوان‘‘حضرت مسیح موعود ؑ کا نصرت الٰہی پر کامل یقین’’تھا۔ اس اجلاس کی دوسری تقریر مکرم حماد خان صاحب ڈائریکٹرمیڈیکل سروسز ہیومینیٹی فرسٹ نےانگریزی زبان میں کی۔ آپ کی تقریر کا عنوان ‘‘خلافت جماعت احمدیہ کا امتیازی نشان’’ تھا۔ تقریر کے بعد مکرم محمد اسحاق صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کلام سے چند اشعار پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس اجلاس کی تیسری تقریر‘‘قرب الٰہی کے ذرائع” کے عنوان پر مکرم مولانا عطاء المجیب راشد  امام مسجد فضل لندن نے اردو زبان میں کی۔ اس اجلاس کی آخری تقریر مکرم رفیق احمد حیات امیر جماعت احمدیہ برطانیہ نے انگلش زبان میں کی ۔ آپ کی تقریر کا عنوان “جماعت احمدیہ کی 130سالہ تاریخ پر ایک نظر”تھا۔ اس اجلاس کا اختتام 12بجکر 34منٹ پر ہوا۔

عالمی بیعت

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز 1 بج کر 7منٹ پر مردانہ جلسہ گاہ میں تشریف لائے اور سٹیج کے سامنے بیعت کے لئے تیار کی گئی کشادہ جگہ پر تشریف فرما ہوئے۔ اس سال جلسہ سالانہ یوکے پر ہونے والی 26ویں عالمگیر بیعت کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس خصوصی تقریب کے لئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ و السلام کا ایک بادامی رنگ کا کوٹ زیب تن فرمایا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اِ مسال اللہ تعالیٰ کے فضل سے 120 ممالک سے 300 قوموں سے تعلق رکھنے والے 6 لاکھ 68ہزار 527 افراد نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کو قبول کرنے کی توفیق پائی اور احمدیت میں باقاعدہ طور پر شمولیت اختیار کی۔ الحمد للہ ۔حضور انور نے انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں عہد بیعت کے الفاظ بیان فرمائے۔

اختتامی اجلاس

معزز مہمانوں کے مختصر خطاب ہوئے جس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تشریف لائے تو تلاوت قرآن کریم کے بعد عربی قصیدہ پیش کیا گیا اور پھر اردو نظم ہوئی ۔اس کے بعد نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلباء میں انعامات تقسیم کئے گئے۔ اس کے بعد احمدیہ امن انعام کا اعلان کیا گیا۔

احمدیہ امن انعام 2019ء

محترم امیر صاحب برطانیہ نے احمدیہ امن انعام 2019ءکا اعلان کیا۔ اس سال یہ انعام Barbara Hofmann کو دیا گیا یہ سوئٹزرلینڈ کی ہیں اور موزمبیق میں ایک تنظیم ASEMکو چلاتی ہیں جو Mozambiqueکے بچوں کے تحفظ کے لئے کام کرتی ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی افریقہ کے ایسے متاثرہ بچوں کے لئے وقف کر دی ہے۔
اس اعلان کے بعد حضور انور کا اختتامی خطاب ہوا۔ اس خطاب کا خلاصۃ بھی شامل اشاعت ہے۔ خطاب کے بعد حضور انور نے دعا کروائی ۔حضور انور نے فرمایا اس جلسہ کی حاضری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ امسال 39 ہزار829افراد نے جلسہ میں شرکت کی ہے جبکہ گزشتہ سال 38ہزار 510 حاضری تھی۔ بعد ازاں اردو،عربی، بنگالی، افریقن اور پنجابی زبان میں گروپس کی شکل میں اپنے آقا کے حضور نظمیں پیش کیں۔ کچھ دیر تشریف فرمارہنے کے بعد حضور انور نے السلام علیکم کہہ کر سٹیج سے تشریف لے گئے۔ یوں یہ جلسہ ہزاروں لاکھوں فضلوں، برکتوں اور رحمتوں کو بکھیرتا ہوا اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔

image_printپرنٹ کریں