skip to Main Content
عرفان احمد خان ۔ جرمنی:  40 واں سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی

مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کا 40 واں جلسہ سالانہ اجتماع 23-24-25 اگست 2019ءبروز جمعہ ، ہفتہ ، اتوار روحانی و دینی ماحول میں جاری رہنے کے بعد اتوار کی شام کو کامیابی سے اختتام پذیر ہو گیا۔ الحمد للہ
سالانہ کارکردگی کے اعتبار سے مجلس خدام الاحمدیہ ہنور(Hannover) اور مجلس اطفال الاحمدیہ ادسناک بروک نے محترم امیر صاحب جرمنی کے ہاتھوں علم انعامی وصول کیا۔ اجتماع کے لئے ’’نماز با جماعت‘‘ کا موضوع چنا گیا تھا۔ چنانچہ اجتماع کے تمام پروگراموں ، تقاریر اور دروس میں نماز با جماعت ادا کرنے کی تلقین کو خاص اہمیت دی گئی ۔حتی کہ مقام اجتماع اور پنڈال میں جگہ جگہ نمازادا کرنے کی تلقین سےمتعلق حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے سلسلہ کے ارشادات پر مشتمل پوسٹر نمایاں کر کے لگائے گئے تھے۔
اذان ہوتے ہی شعبہ تربیت کی ٹیمیں وسیع و عریض مقام اجتماع اور پارکنگ میں پھیل جاتیں اور خدام کو مقام نماز کی طرف بھجوانے کے لئے متحرک ہوجاتیں۔ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے جو اجتماع کا پیغام موصول ہوا وہ بھی نماز باجماعت کی تلقین پر مشتمل تھا۔ جس میں حضور نے فر مایا۔
احمدی نوجوان نے دنیا میں روحانی انقلاب بر پا کرنا ہے ۔ روحانیت میں ترقی کی پہلی سیڑھی نماز ہے۔ وہ نوجوان جس کا دل ہر وقت مسجد کے ساتھ معلق رہتا ہے اس پر قیامت کے دن اللہ کی رحمت کا سایہ ہو گا۔ نماز باجماعت ایسی بابرکت عبادت ہے جو بندے کو اپنے خالق سےملاتی ہے۔ حضور نے فرمایا کہ کوئی بھی نوجوان ایسا نہیں ہونا چاہئے جو دنیا داروں کی طرح غفلت میں زندگی بسر کر ے۔ مسجد یا قریبی جماعت کے نماز سنٹر میں جا کر نماز باجماعت ادا کیا کریں۔
چنانچہ امسال نمازوں کے اوقات میں پنڈال نمازیوں سے بھر جاتا اور ایک اچھی خاصی تعداد کو پنڈال سے باہر نماز ادا کرنا پڑتی ۔ نمازوں کی ادائیگی کے اس روح پرور منظر نے اجتماع کے ماحول پر بہت اچھا اثر قائم کیا۔ عمومی ڈسپلن اور پروگراموں کے وقت پر شروع کرنےمیں ممد،معاون ثابت ہوئی۔
جرمنی میں خدام کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر گزشتہ کئی سالوں سے اجتماع کے لئے جو جگہ بھی لی جاتی رہی اس میں تنگی کا احساس محسوس کرنے میں آتا۔ چنانچہ کئی سال سے ہر سال اجتماع کی جگہ تو تبدیل کیا جانا مجبوری بن گیا تھا۔ چنانچہ امسال صد ر خدام الاحمدیہ احمد کمال صاحب ، واقف زندگی او ر ان کی ٹیم نے فرینکفورٹ شہر کی انتظامیہ سے مل کر ان سے وہ جگہ حاصل کرنےمیں کامیابی حاصل کی جو شہر کا ساؤتھ پارک کہلاتا ہے۔ یہاں سپورٹس کے تین کمپلیکس ہیں ۔ ساؤتھ پارک میں آئس سٹیڈیم جس میں 12ہزار540تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔اس تین منزلہ عمارت میں دوسرے فلور پر اطفال الاحمدیہ کا اجتماع منعقد ہوا اور باقی دو فلورز پر اجتما ع کی انتظامیہ نے اپنے دفتر قائم کئے۔ اتھلیٹکس کا میدان اور آئس سٹیڈیم کے سامنے وسیع و عریض میدان جہاں پر مقام اجتماع کے 50 خیمہ جات لگائے گئے۔ خدام نے 17۔اگست سے وقار عمل شروع کر کے اجتماع کی تیاری کا آغاز کر دیا۔ جس میں 211خدام نے حصہ لیا۔ ان میں جامعہ احمدیہ جرمنی کے 71 طلبہ بھی شامل تھے۔
افتتاح
22۔اگست بروز جمعرات کو شام مکرم احمد کمال صاحب صد ر خدام الاحمدیہ نے اجتماع کا تفصیلی معائنہ کیا جو رات 9 بجے عشاء کی نماز تک جاری رہا۔ جمعہ کے روز چار ہزار سے زائد خدام نے مقام اجتماع میں نماز جمعہ ادا کی۔ مبلغ انچارج مکرم صداقت احمد صاحب نے ذکر الہٰی کی اہمیت پر خطبہ جمعہ دیا اور بتایا کہ ذکر الہٰی کی سب سے بڑی شکل نماز ہے جو روح کی غذا اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ پونے چار بجے اجتماع کی افتتاحی تقریب کا آغاز پر چم کشائی اور دعا سے ہوا۔ مکرم امیر صاحب جرمنی نے جرمنی کا قومی پر چم اور صدر صاحب خدام الاحمدیہ نے خدام کا پر چم لہرایا۔پرچم کشائی کے وقت 8 خدام کا ایک گروپ خدام احمدیت کا ترانہ خوش الحانی سے پڑھ رہا تھا۔یہ ترانہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے خدام کے لئے لکھا تھا۔

ہیں بادہ مست بادہ آشام احمدیت
چلتا رہے دور مینا و جام احمدیت

تلاوت و نظم کے بعد مکرم عبد اللہ واگس ہاؤ زر امیر جماعت احمدیہ جرمنی نے افتتاحی تقریر میں خدام کو تلقین کی کہ ہر خادم نے اس اجتماع سے کچھ نہ کچھ سیکھ کر جانا ہے۔ نمازوں کی ادائیگی سے انسان کے اندر روحانی تبدیلی پیدا ہوتی ہے ۔ حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے سلسلہ کے ارشادات کو زیر مطالعہ رکھنے کی نصیحت کی خصوصاً حضرت مصلح موعودؓ کی کتاب ذکر الہٰی کا مطالعہ کرنے کی طرف توجہ دلائی ۔
اجتماع کے دنوں میں نماز تہجد مکرم عمران بشارت صاحب نے پڑھائی نماز فجر کے بعد اور دوسری نمازوں میں اذان اور نماز کے دوران وقفہ میں درس کا اہتمام تھا ۔جو مبلغین سلسلہ افتخار احمد صاحب، سعید عارف صاحب،امتیاز شاہین صاحب، شعیب عمر صاحب،محمود ملہی صاحب، فرہاد غفار صاحب اور حبیب احمد گھمن صاحب نے دیئے۔ تقاریر ، سوال و جواب اور مجلس مذاکرہ بھی منعقد ہوئیں۔ مکرم صداقت احمد مبلغ انچارج نے قربانی کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے تاریخ اسلام اور تاریخ احمدیت کے سبق آموز واقعات بیان کئے۔ اصلا ح فورم میں مکرم حسنات احمد اور مکرم سعادت احمد نے خلافت ہماری مشعل راہ ہے کے عنوان پر گفتگو کی۔ جرمنی میں تاریخ احمدیت کے حوالے سے لقمان مجوکہ صاحب نے معلومات سے پر تقریر کی ۔
اسلام او ر سائنس کے موضوع پر مجلس مذاکرہ میں نماز اور وضو کے فوائد پر ڈاکٹر وجاہت وڑائچ ، ڈاکٹر نداء الحبیب باجوہ اور سعادت احمد نے حصہ لیا۔ اس کے دوران مکرم ڈاکٹر محمود الحسن نوری کا ویڈیو پیغام بھی خدام کو دکھایا گیا۔ Real Talkکے تحت ہونے والے پروگرام میں مربی سلسلہ بہزاد چوہدری طارق ،چوہدری مہتمم تربیت ، ڈاکٹرز اطہر زبیر نے خدام کو نصائح کیں۔سوال وجواب کے پروگرام میں مبلغین سلسلہ مکرم شمس اقبال صاحب، مکرم طارق ظفر صاحب اور مکرم سعید عارف صاحب نے جرمن اردو میں خدام کے سوالات کے جوابات دیئے۔ ہنگامی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے طاہر اختر صاحب نے مفید معلومات پر لیکچر دیا۔Fit For Salat کے عنوان کے تحت مکرم امیر صاحب جرمنی اور مکرم صدر صاحب خدام الاحمدیہ نے روحانی ترقی کے لئے صحت مند جسم کیوں ضروری ہے کے موضوع پر خطاب کئے ۔ مرحبا پروگرام کے تحت جرمنی میں پناہ گزینوں کو جو مسائل ہیں ان پر داؤد مجوکہ صاحب نے گفتگو کی اور سوالات کے جوابات دیئے ۔ 2.5 کلو میٹر کی چیریٹی واک بھی رکھی گئی تھی۔ جس میں شامل ہونے والوں کے لئے ضروری تھا کہ وہ کچھ نہ کچھ رقم صدقہ کے لئے دیں۔ چنانچہ 150 خدام نے مکرم امیر صاحب اور صدر صاحب خدام الاحمدیہ کے ہمراہ اس چیریٹی واک میں حصہ لیا۔

علمی و ورزشی مقابلہ جات

علمی مقابلہ جات میں تلاوت و حفظ قرآن کریم، اذان ، تقریری مقابلہ اردو اور جرمن، فی البدیہہ تقریری مقابلہ، مشاہدہ معائنہ ، روحانی خزائن جلد چہارم کا کوئز، پیغام رسانی، بیت بازی شامل تھے۔مقابلہ جات کےلئے پورے جرمنی سے 24 زون بنائے گئے تھے اس طرح اجتماع کے تین روز 24 زونوں کی ٹیموں کے مابین مقابلہ جات ہوئے۔ان میں کرکٹ،فٹ بال ،والی بال، رسہ کشی ،ایک سو ،ہزار اور 5ہزار میٹر کی دوڑ، چھلانگ لگانا، گولہ پھینکنا، لانگ جمپ ، تیراکی 50میٹر اور دو سو میٹر،کلائی پکڑنا اور وزن اٹھانے کا مقابلہ بھی ہوا ۔
نو مبائعین کے مقابلہ جات کے لئے علیحدہ انتظام اور معیار تھا ۔یہ مقابلے جرمن اور عربی زبان میں کروائے گئے۔ آخری روز فٹ بال کا ایک نمائشی میچ نیشنل عاملہ خدام الاحمدیہ اور ریجنل قائدین کے درمیان ہوا جو نیشنل عاملہ نے ایک گول سے جیت لیا۔ہفتہ کی شام جرمن زبان میں مشاعرہ بھی ہوا۔

اطفال اجتماع

اطفال کے علمی و ورزشی مقابلہ جات کے لئے تین معیار بنائے گئےتھے۔ ابو بکر گروپ 7سے9سال، عمر گروپ 10سے11سال، معیار کبیر 13سے15 سال تک کے بچے شامل تھے۔ اس کے علاوہ معیار خاص پروگرام میں بچوں کو بتایا گیا کہ وہ تعلیم کی اہمیت کیاہے۔کس طرح اچھے نمبر حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ نشہ آور چیزوں سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔ خود اعتمادی کس طرح پیدا کی جاسکتی ہے۔ کوئز کے پروگرام بھی رکھے گئے۔ جن بچوں کے کسی مقابلہ میں حصہ نہیں لیا ان کے انعام گھر کی طرز کا دلچسپ پروگرام رکھا گیا تھا جس میں تمام بچوں کو انعام ملا۔ نماز کے حوالے سے ایک خصو صی فیچر پروگرام بھی اجتماع کا اہم حصہ تھا۔ منی ریس کار ، منی گولف ، جمپنگ کا بھی انتظام تھا۔ ایک ورکشاپ والدین کے حوالے سے تھی جس میں باپ کی ذمہ داری اور بچے سے پیار کے تعلق کو بڑھانے پر گفتگو کی گئی۔ اس حوالے سے مجلس اطفال الاحمدیہ نے 8 صفحات پر مشتمل سپیشل پمفلٹ بھی شائع کیا جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس کے ارشادات درج تھے۔ وہ بچے جو والدین کے بغیر اجتماع میں شامل تھے ان کی نگہداشت کے لئے ٹیم ترتیب دی گئی۔
150 اطفال کے گروپس بنا کر ان کو خدام الاحمدیہ کے اجتماع کا ٹور کروایا جاتا رہا تا کہ وہ خدام کے اجتماع سے متعارف ہوں ۔ اس کو ٹور گائیڈ کا نام دیاگیا تھا ۔مجلس اطفال الاحمدیہ نے مساجد کے ماڈل بنانے کا ایک مقابلہ دوران سال کرایا تھا۔ چنانچہ اجتماع کے موقع پر نمائش کے لئے رکھا گیا اور انعامات دیئے گئے۔ اتوار کی سہ پہر مکرم امیر صاحب جرمنی نے اطفال کے اختتامی اجلاس کی صدارت کی اور دوم ، سوم پوزیشن حاصل کرنے والے اطفال کو انعامات دیئے۔

اختتامی اجلاس

اتوار کے روز فائنل مقابلہ جات کے آخر پر خدام نے مل کر جرمنی کا قومی پرچم اور خدام الاحمدیہ کا پرچم مخصوص لبا س پہن کر فضا میں لہرایا۔ دو علیحدہ علیحدہ یونیفارم میں ملبوس دو ہزار سے زائد خدام کے ہاتھوں میں پرچم کا ہونا انتہائی دیدہ زیب اور دلفریب منظر تھا۔
درمیانی وقفہ اور تین بجے نمازوں کی ادائیگی کے بعد اجتماع کی اختتامی تقریب شروع ہوئی۔ جس میں انعام حاصل کرنے والوں نے محترم امیر صاحب جرمنی کے ہاتھوں سے انعامات وصول کئے۔ صد ر صاحب خدام الاحمدیہ نے اختتامی تقریر کی اور اجتماعی دعا کے بعد نعرہائے تکبیر کی صداؤں میں مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کا چالیسواں سالانہ اجتماع بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ الحمد للہ علیٰ ذالک

image_printپرنٹ کریں