skip to Main Content
نافرمانی کی مجالس سے اٹھ جانے کا حکم ہے

سیدنا حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ فرمودہ 16جولائی2004ء میں سورۃ المجادلہ آیت 10کی تلاوت کے بعد فرماتے ہیں۔
فرمایا کہ ایمان والو! ہم جانتے ہیں کہ تم منصوبے کرتے ہو، انجمنیں بناتے ہو مگر یاد رہے کہ جب کوئی انجمن بناؤ تو گناہ، سرکشی اور رسول کی نافرمانی کے بارے میں نہ ہو، بلکہ نیکی اور تقویٰ کے مشورے ہونے چاہئیں۔ جب یہ مجلسیں بنتی ہیں تو پھر یہ بھی امکان ہے کہ اتنا آگے بڑھ جاؤ کہ تقویٰ سے ہی ہٹی ہوئی باتیں کرنے لگ جاؤ۔ رسول کی نافرمانی کی باتیں کرو۔ کیونکہ رسول کا تو واضح حکم ہے کہ میرے امیر کی اطاعت کرو۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جو میرے امیر کی اطاعت کرتا ہے وہ میری اطاعت کرتا ہے اور جو میری اطاعت کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے۔ یا جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی۔ تو ایسی مجلسوں میں ایسے مشورے میں نہ بیٹھنے کا حکم ہے۔ احتیاط کا تقاضا یہی ہے۔ کیونکہ یہ لوگ جب مجلسیں لگا کر اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں تو پھر امیر کا بھی اور نظام کا بھی تمسخر اڑا رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو بھی، یہ جہاں بھی ہوں، خدا کا خوف کرنا چاہئے۔

(روزنامہ الفضل یکم فروری 2005ء)

image_printپرنٹ کریں