skip to Main Content
فوزیہ درثمین سلمان:چہرہ ہے نور کا ہالہ ہر آنکھ اِک ستارا ہے

چہرہ ہے نور کا ہالہ ہر آنکھ اِک ستارا ہے
وہ ہے ساتھ اپنے، حسین ہر نظارا ہے
باتوں کا بھولنا دھڑکنوں کی تیزی چہرے کی لالگی
یہ اس کی نگاہِ خاص کا ہلکا سا اِک اشارا ہے
خَلقِ خدا کا دل دُکھا کر اپنے لئے عطا مانگنا
کوئی یہ جانے! یہ کیسا غضب خدارا ہے؟
خود اپنا آپ، اپنے جیسا نہیں ہے لگتا تب تو
جب بھی اس کی یادوں سے ہم نے کیا کِنارا ہے
اکثر یہ ٹوٹ ٹوٹ کر خود ہی جُڑ بھی جاتا ہے
جانے کیسا سٹار فِش سا، میرا یہ دل بیچارا ہے
اپنوں کی یادیں لے کر سو جاتی ہے ہر رات
ہر صبح یہ کہتی ہے اِک وہی ہمارا ہے
ہر ایک دعا منتظر ہے بس اس کی کن کی
وہ ایک ہستی جو ہم سب کا سہارا ہے
نہ ماننے والوں کو بھی کچھ کہے بغیر نوازے جانا
اس کی ہر ادا ہی محبت کا استعارا ہے
خود پرستی، خودستائی خود فریبی کا عالم ہے
مخلصوں کا اس دور میں مشکل بڑا گزارا ہے
لائق، فائق، ہنستا بولتا تو سب کو پیارا لگتا ہے
لاغر احمق، بھولا بچہ بھی ماں کا راج دلارا ہے
شکوہ اس سے، باتیں اس سے، کہنا اس کو، لینا اس سے
جو بھی ہو مجھ کو آخر سب سے وہی پیارا ہے

image_printپرنٹ کریں