skip to Main Content
زرتشت منیر احمدخاں۔ناروے:ایڈیٹر کے نام خط اور اس کاجواب

ہم دونوں میاں بیوی فرمان الہٰی ،فرمان رسولﷺ،ارشاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور وقت کی آواز اور آپ کا اداریہ باقاعدگی سےروزانہ مطالعہ کرتے ہیں۔
اخبار کو زیادہ مفید اور دلچسپ بنانے کے لئے چند معروضات اپنی خام عقل کے مطابق پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں اگر موزوں خیال نہ فرمائیں تو پیشگی معذرت خواہ ہوں۔
مغربی معاشرہ میں ہمارے ایسے بچے جو یہاں پیدا ہوئے ہیں یہاں کے اسکولوں میں پڑھ کر جوان ہوئے ہیں وہ اردو سے نابلد ہیں بالخصوص برطانیہ ، امریکہ،جرمنی،کینیڈا، ناروے، ڈنمارک، آسٹریلیا ،سویڈن اور ہالینڈ وغیرہ پہلےپہل یہاں اسکولوں میں ابتدائی اردو بطور مادری زبان پڑھائی جاتی تھی اب یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ ہمارے بچے اردو سمجھتے تو ہیں کیونکہ گھروں میں اردو ہی بولی جاتی ہے لیکن پڑھ نہیں سکتے بچوں سے سوال کریں تو وہ سمجھ تو جاتے ہیں لیکن جواب انگریزی یا جرمن وغیرہ میں دیں گے جماعتی رسالہ ہاتھ میں لے کر مقامی زبان والا حصہ تو پڑھ جائیں گے لیکن اردو حصّہ چھوڑ دیتے ہیں۔
اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ “خلفائے کرام”کے ارشادات پڑھنا، اور دیگر جماعتی لٹریچر جو زیادہ تر اردو میں ہے، ان کی دسترس سے باہر ہے اردو کی طرف ان کی توجہ مبذول کرنے کی غرض سے ایسے دلچسپ مضامین شائع کئے جائیں جن سےان کی اردو زبان سیکھنے کی طرف توجہ ہو۔
ان بچوں میں اردو اخبار کے مطالعہ کا شوق پیدا کرنے کے لئے انہیں اردو سکھانے کی غرض سے اسباق کا سلسلہ جاری کیا جاسکتا ہے تاکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں روحانی مائدہ سے محروم نہ رہ جائیں اس کے علاوہ بچوں کی دلچسپی کے لئے مختصر کہانیاں باتصویر لگائی جا سکتی ہیں۔
اخبار کے قارئین میں اضافہ کی غرض سے یہ تجویز ہے کہ تصاویر کثرت سے لگائی جائیں بالخصوص ایسی تصاویر جن میں زیادہ سے زیادہ احباب کی تصویر آئے۔
نمائندگان کی خبروں میں اگر تحقیق کے ساتھ تقریب کی رپورٹ میں منتظمین کے اسماءبھی آجائیں تو نام دینے میں کوئی حرج نہیں۔
جب خاکسار کراچی میں ڈائیریکٹر تھا تو ایک نیشنل اخبار کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر خاکسار کے پاس آیا کرتے تھے وہ شام کا اخبار یا ضمیمہ بھی نکالا کرتے تھےجو ہاتھوں ہاتھ بک جاتا تھا اور ایک بھی کاپی نہ بچتی تھی میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا راز ہے انہوں نے بتایا کہ ایک تو حسب معمول کراچی کی کوئی سنسنی خیز خبر ہیڈ لائن ہوتی ہے دوسرے ایسے جلسوں کی تصاویر لگائی جاتی ہیں جس میں حاضرین کی تعداد نمایاں ہوتی ہے لہذا وہ لوگ جن کی تصویر آئی ہوتی ہے وہ ضرور اخبار خریدتے ہیں خاکسار عرض کرتا ہے کہ زیادہ تصاویر لگائی جائیں تو احباب کے لئے کشش کا باعث ہو گا اور قارئین کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔
جو مضامین بجھوائے جاتے ہیں اگر ناقابل اشاعت ہوں تو مضمون نگار کو مطلع کر دینے میں کوئی حرج نہیں۔ اصلاح کی گنجائش ہو تو مضمون نگار اصلاح بھی کر سکتا ہے اصلاح ہو جائے تو پھر شائع کردیں۔ اس طرح نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔
خبر جس قدر جلد ممکن ہو شائع ہو جانی چاہئے تاخیر سے شائع ہونے پر دلچسپی قائم نہیں رہتی۔
یہ چند گذارشات اپنی ناقص عقل کے مطابق پیش کرنے کی جسارت کی ہے ممکن ہے کہ آپ کے لئے بعض مشکلات ہوں جن کا خاکسار کو ادراک نہیں لہذا مکرر معذرت خواہ ہوں۔
اللہ تعالی آپ کو اور آپ کی ساری ٹیم کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ اللہ کرے کہ آپ کا حضرت سلطان القلم علیہ السلام کے نمایاں اور حقیقی انصار میں شمار ہو آمین۔
ایڈیٹر کی طرف سے جواب اور قارئین سے اپیل
جزاکم اللہ تعالیٰ۔ آپ ہمارا اخبار روزانہ دیکھتے اور فائدہ اُٹھاتے ہیں اور گاہے بگاہے تجاویز بھی دیتے ہیں۔ آپ نے ایک نیشنل اخبار کا حوالہ دیا ہے ان کے پاس عملہ کی بھی بہتات ہوتی ہے اور وسائل بھی کافی ہوتے ہیں۔ہم جو روحانی، علمی اور اخلاقی مائدہ روزانہ کی بنیاد پر آپ کو مہیا کرتے ہیں۔ وہ بہت محدود عملہ اور وسائل کےساتھ مہیا کرتے ہیں اور اس وقت تک دنیا بھر کے 42 ہزار احمدی مرد و خواتین کے دلوں میں یہ اخبار گھر کر گیا ہے۔ الحمدللہ علیٰ ذالک
خاکسار اپنے Readers کی خواہشات کو مدنظر رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ بلکہ ایک دن تو خاکساراپنے قارئین کا مختلف انداز میں جائزہ لے رہا تھا تاکہ ان کے مزاج کے مطابق اخبار بنایاجا سکے۔ جیسے میں دیکھ رہا تھا کہ کون کون سے گھرانے ہیں۔ جن میں میاں بیوی دونوں اخبارکو پڑھتے اور دلچسپی لیتے ہیں۔ان میں سے ایک آپ تھے۔ ہر اخبار کی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ جو صرف ایڈیٹر یا عملہ جانتا ہے اس کا اظہار بھی مشکل ہے۔ہم دس دن تک آگے جا رہے ہوتے ہیں اگر نہ ہوں تو Onlineنہیں ہوسکتا۔ اہم اور تاریخی مضمون یا اہم رپورٹ downloadکر کے شامل اشاعت کی جاتی ہیں۔
یہ اخبار چونکہ یورپ کا اخبار ہے اور لندن سے اشاعت ہوتی ہے۔ اس لئے مغربی دنیا کی ضروریات کا بہت احساس رہتا ہے۔ اردو اسباق تیاری کے مراحل میں ہیں۔یہ سلسلہ جلد شروع ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ
مضامین میں تاخیر اس لئے ہوتی ہے کہ ہمارا ایک بورڈ ہے جس میں یہ مضامین جاتے ہیں۔ اور اسلامی تعلیمات و حوالوں سے مزین ہوتے ہیں۔
اس میں آپ قارئین سے بھی درخواست ہے کہ آپ بھی مواد مہیا کریں۔ خبریں ۔ مختلف پروگرامز ترتیب دے کر بھجوائیں۔
ہمارا تو بہت سا وقت پروف ریڈنگ میںْ ہی خرچ ہو جاتا ہے۔ جیسے آپ کے خط کو پروف کرنے میں ہی خاکسار کے 4-5منٹ لگ گئے ہیں۔ ایک صفحہ کے خط میں 19اغلاط تھیں۔ اگر مضمون نگار اور خطوط لکھنے والے میرے ایک اداریہ کو مدنظر رکھ کرکمپوز کریں تو ہمارا کام آسان ہو جائے۔
جہاں تک ناقابل اشاعت مضامین کا تعلق ہے۔ میرے نزدیک کوئی مضمون ناقابل اشاعت نہیں ہوتا۔ میرا پورا اسٹاف بہت محنت کے ساتھ اسے قابل اشاعت بناتا ہے۔ میں گلدستہ علم وادب کو استاد کے طو رپر دنیا بھر میں متعارف کروا رہا ہوں۔ آپ تمام مضمون اور مراسلہ نگار اخبار گلدستہ کے شاگرد ہیں۔ جن کو یہ اخبار حضرت سلطان القلم کے گروہ میں شامل کرتا ہے اور حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
مجھے اور میرے اسٹاف کو اپنی دعائوں میں یاد رکھا کریں جو بہت محنت کے ساتھ یہ روحانی مائدہ روزانہ کی بنیاد پر آپ کو مہیا کرتا ہے۔
کَانَ اللہُ مَعَکُم اَجمَعِینَ

image_printپرنٹ کریں