skip to Main Content
خطبہ جمعہ سیّدنا حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ26؍جولائی 2019ء بمطابق 26؍ وفا 1398 ہجری شمسی بمقام مسجدبیت الفتوح (مورڈن، سرے) ،یوکے

اخلاص و وفا کے پیکر بدری اصحاب نبی ﷺ حضرت مُظَھِّر بن رَافِع، حضرت مَالِک بن قدامہ،
حضرت خُرَیْم بن فَاتِک، حضرت معمر بن حارث، حضرت ظھَیر بن رافع ، حضرت عمرو بن ایاس،
حضرت مدلج بن عمرو، حضرت عبداللہ بن سُہَیْل، حضرت یزید بن حارث، حضرت عُمَیر بِن حُمَام،
حضرت حمید انصاری، حضرت عمرو بن معاذ بن نعمان اَوسی، حضرت مسعود بن ربیعہ بن عمرو
رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کی سیرتِ مبارکہ کا دل نشین تذکرہ
٭…جلسہ سالانہ برطانیہ کے ہر لحاظ سے بابرکت ہونے کے لیے دعا کی تحریک
٭…ڈیوٹی کنندگان کو کوشش اور دعا کے ذریعے بہترین انداز میں حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کی تلقین
٭…جلسے کے دنوں میں شعبہ ٹرانسپورٹ کو مہمانوں کو مسجد مبارک اسلام آباد
نماز کی ادائیگی کے لیے لانے لے جانے کے لیے خاص انتظام کرنے کا ارشاد

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ٪﴿۷﴾

آج بھی میں بدری صحابہ کا ذکر ہی کروں گا۔ پہلے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت مُظَھِّر بن رَافِعؓ۔ حضرت مُظَھِّر کے والد کا نام رافع بن عدی تھا۔ حضرت مُظَھِّر کا تعلق انصار کے قبیلہ اوس کے خاندان بنو حارثہ بن حارث سے تھا۔ حضرت مُظَھِّر اور حضرت ظُھَیْرؓ دونوں سگے بھائی تھے۔ یہ دونوں حضرت رَافِع بن خُدَیج رضی اللہ تعالیٰ کے چچا تھے۔
(السیرة النبویۃ لابن ہشام صفحہ324حاشیہ، باب اسماء من شھد العقبہ دارالکتب العلمیہ بیروت2001ء)
یعنی حضرت رَافِع بن خُدَیْجؓ کا بھی ذکر آتا ہے جو بدری صحابی تو نہیں تھے لیکن ان کا بھی تاریخ میں ایک مقام ہے، ان کے یہ چچا تھے یعنی بھتیجے کا نام بھی رافع تھا اور باپ کا نام بھی۔ حضرت رافعؓ کے بارے میں مختصر یہ بتا دوں کہ یہ وہ صحابی تھے جنہوں نے غزوۂ بدر میں جانے کے لیے خود کو پیش کیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کم عمری کی وجہ سے واپس بھیج دیا تھا اور اُحد کے دن ان کو شامل ہونے کی اجازت دے دی تھی۔ حضرت رافعؓ غزوۂ احد اور خندق اور دیگر غزوات میں شریک ہوئے تھے۔ احد کے دن ایک تیر ان کی ہنسلی کی ہڈی میں لگا تھا۔ تیر تو نکال لیا گیا تھا لیکن اس کا اگلا حصہ ان کی وفات تک جسم کے اندر ہی رہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رافعؓ سے فرمایا کہ قیامت کے دن میں تمہارے لیے شہادت دوں گا۔ ان کی وفات عبدالملک بن مروان کے دور ِحکومت میں 74؍ ہجری میں 86؍ سال کی عمر میں ہوئی تھی۔
(اسدالغابہ فی معرفة الصحابہ لابن اثیر جلد2 صفحہ232-233 ، رافع ؓ بن خدیج،دارالکتب العلمیہ بیروت2008ء)
یہ تو ان کے بھتیجے کا ذکر تھا۔ حضرت ظُھَیرؓ کے بارے میں بتاتا ہوں۔ امام بخاریؒ نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ حضرت ظُھَیر اپنے بھائی کے ہمراہ غزوۂ بدر میں شامل ہوئے تھے اور اس بھائی کا نام انہوں نے اپنی کتاب میں درج نہیں کیا۔ بخاری کے شارحین نے لکھا ہے کہ حضرت ظُھَیر کے بھائی کا نام مُظَھِّر تھا۔ اسی طرح سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مشتمل کتاب سُبُلُ الْھُدٰی وَالرَّشَاد میں حضرت ظُھَیر بن رافع کے ضمن میں لکھا ہے کہ بخاری کے مطابق ان کے بھائی حضرت مُظَھِّر بھی غزوۂ بدر میں شامل ہوئے تھے۔ حضرت ظُھَیر میں نے کہا تھا۔ حضرت مُظَھِّر کا ذکر ہو رہاہے۔ یہ ان کے بارے میں بتا رہا ہوں۔ صحابہ کے حالات پر مشتمل کتابیں جیسے اُسُد الغابہ، الاِصابة، الاِستِیْعاب وغیرہ جو ہیں ان میں حضرت مُظَھِّر کے حالات کے ضمن میں ان کے غزوۂ بدر میں شامل ہونے کا تذکرہ نہیں ملتا۔ ان تینوں کتابوں میں حضرت مُظَھِّر کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ غزوۂ اُحد اور بعد کے تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے تھے۔ حضرت مُظَھِّر حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں فوت ہوئے۔
(صحیح البخاری کتاب المغازی باب تسمیۃ من سمی من اھل بدر……)(ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری جلد7 صفحہ195، دارالفکر بیروت2010ء) (سبل الہدیٰ والرشاد جلد 4 صفحہ 106، غزوہ بدر الکبریٰ، دارالکتب العلمیۃ بیروت 1993ء)(اسدالغابہ فی معرفة الصحابہ لابن اثیر جلد5 صفحہ185، مظھر بن رافع،دارالکتب العلمیہ بیروت2008ء)(الاصابۃ فی تمییز الصحابہ جزء6 صفحہ106، مظھر بن رافع دار الکتب العلمیہ بیروت1995ء)(الاستیعاب فی معرفة الاصحاب جلد4 صفحہ 39، مظھر بن رافع،دارالکتب العلمیہ بیروت2002ء)
لیکن جو کتابیں ہیں وہ حضرت مُظَھِّر کو ثابت کرتی ہیں کہ غزوۂ بدر میں شامل ہوئے تھے، اسی پر زیادہ تر اعتماد کیا جاتا ہے۔ یَحْیٰ بن سَہْل بن اَبُو حَثْمَہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مُظَھِّر بن رَافِع حَارِثِی میرے والد کے پاس ملک شام سے چند طاقتور مزدور اپنے ساتھ لے کر آئے تا کہ وہ ان کی زمینوں میں کام کر سکیں۔ جب یہ خیبر میں پہنچے تو وہاں تین دن قیام کیا۔ وہاں یہود نے ان مزدوروں کو حضرت مُظَھِّر کے قتل پر اکسانا شروع کر دیا اور دو یا تین چھریاں مخفی طور پر انہیں دے دیں۔ جب حضرت مُظَھِّر خیبر سے باہر نکلے اور ثبار نامی جگہ پر پہنچے جو خیبر سے 6؍ میل کے فاصلے پر واقع ہے تو ان لوگوں نے حضرت مُظَھِّر پر حملہ کر دیا اور پیٹ چاک کر کے انہیں شہید کر دیا۔ پھر وہ لوگ خیبر واپس چلے گئے جس پر یہود نے انہیں زادِ راہ اور خوراک دے کر روانہ کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ ملک شام واپس پہنچ گئے۔ جب حضرت عمر بن خطابؓ کو یہ خبر ملی تو فرمایا کہ میں خیبر کی طرف نکلنے والا ہوں اور وہاں موجود اموال کو تقسیم کرنے و الا ہوں اور اس کی حدود کو واضح کرنے والا ہوں اور زمینوں میں حدِ فاصل لگانے والا ہوں یعنی اس کا بدلہ لیا جائے گا اور یہود کو وہاں سے جلاوطن کرنے والا ہوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ میں تمہیں اس وقت تک ٹھکانہ دوں گا جب تک اللہ نے تمہیں ٹھکانہ دیا اور اللہ نے انہیں جلا وطن کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے پھر ایسا ہی کیا۔
(کنزالعمال جلد 4 صفحہ 509، اخراج الیھود، حدیث نمبر11505، مکتبہ مؤسسة الرسالہ)(الاستیعاب فی معرفة الاصحاب جلد4 صفحہ 39-40، مظھر بن رافع، دارالکتب العلمیہ بیروت2002ء) (معجم البلدان جلد 2 صفحہ6، داراحیاء التراث العربی)
حضرت مُظَھِّر کی شہادت کا واقعہ 20؍ہجری میں پیش آیاتھا۔
(الکامل فی التاریخ لابی الحسن علی جلد2صفحہ410، باب ثم دخلت سنة عشرین، دارالکتب العلمیہ بیروت2006ء)
پھر اگلے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام حضرت مالک بن قُدَامَہؓ ہے۔ حضرت مَالِک بن قُدَامَہؓ کے والد کا نام قُدَامَہ بن عَرْفَجَہ تھا جبکہ ایک روایت کے مطابق ان کے دادا کا نام حارث بھی بیان ہوا ہے۔ حضرت مالک یعنی عَرْفَجَہ کے بجائے حارث بھی کہا جاتا ہے۔ حضرت مالک کا تعلق انصار کے قبیلہ اوس کے خاندان بنو غَنَم سے تھا۔ حضرت مالک اپنے ایک بھائی حضرت مُنْذِر بن قُدَامَہ کے ہمراہ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ حضرت مالک غزوۂ احد میں بھی شریک ہوئے۔
(السیرۃ النبویہ لابن ہشام صفحہ466، الانصار ومَن معھم من بنی غنم، دار الکتب العلمیۃ بیروت 2001)
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثالث صفحہ 367 مالک بن قدامہ ۔دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان 1990ء)
پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت خُرَیْم بن فَاتِکؓ ہے۔ حضرت خُرَیْم بن فَاتِکؓ کا تعلق بنو اسد سے تھا۔ ان کے والد کا نام فَاتِک بن اَخْرَم یا اَخْرَم بن شَدَّادْ بھی بیان کیا گیا ہے۔ ان کی کنیت ابو یحیٰ جبکہ ایک روایت کے مطابق ابو ایمن بیان ہوئی ہے کیونکہ ان کے بیٹے کا نام حضرت ایمن بن خُرَیْم تھا۔ حضرت خُرَیْم بن فَاتِک اپنے بھائی حضرت سَبْرہ بن فَاتِک کے ہمراہ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے۔
(اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ المجلد الثانی صفحہ 167 خُرَیْم بن فَاتِک دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان2008ء)
ایک قول کے مطابق حضرت خُرَیْم ؓصلح حدیبیہ میں شامل تھے۔ ایک غیر معروف روایت یہ بھی ہے کہ حضرت خُرَیْمؓ اور ان کے بیٹے حضرت ایمنؓ نے اس وقت اسلام قبول کیا جب فتح مکہ کے بعد قبیلہ بنواسد نے اسلام قبول کیا تھا جبکہ پہلی روایت زیادہ درست ہے کہ حضرت خُرَیْمؓ غزوۂ بدر میں شامل ہوئے اور امام بخاریؒ نے اپنی کتاب التَّارِیخ الکبیر میں ان کا بدری ہونا بیان کیا ہے۔ حضرت خُرَیْمؓ بیٹے سمیت بعد میں کوفہ چلے گئے اور ایک روایت کے مطابق یہ دونوں رَقَّہ شہر جو دریائے فرات کے شرقی جانب ایک مشہور شہر ہے وہاں منتقل ہو گئے اور یہ دونوں اسی جگہ حضرت امیر معاویہؓ کے دور ِحکومت میں فوت ہوئے۔
(الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی جلد2صفحہ236 خُرَیْم بن فَاتِک،دارالفکر بیروت 2001ء)(التاریخ الکبیر از عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری جلد 3صفحہ196،مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان2001ء)(معجم البلدان جلد 4صفحہ413-414)
حضرت خُرَیْم بن فَاتِکؓ اپنے اسلام قبول کرنے کا واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اونٹ گم گئے تھے تو میں اپنے اونٹوں کو ڈھونڈھنے نکلا، ان کے نشانات کا پیچھا کرتے کرتے مجھے رات ہو گئی۔ چنانچہ میں نے انہیں اَبْرَقُ العَزَّافٗ یہ بنو اسد بن خزیمہ کے پانی پینے کی مشہور جگہ کا نام ہے جو مدینہ سے بصرہ کے راستے پر ہے، وہاں جا کر پا لیا تو میں نے انہیں وہیں باندھ دیا اور ان میں سے ایک اونٹ کی ران کے ساتھ ٹیک لگا کر لیٹ گیا۔ رات گزارنے کے لیے وہیں رہ گئے اور کہتے ہیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے ابتدائی زمانے کی بات ہے۔ میں نے کہا کہ میں اس وادی کے سردار کی پناہ مانگتا ہوں۔ اونچی آواز میں کہا ۔یہ اس زمانے میںان کا رواج تھا ۔ میں اس وادی کے عظیم کی پناہ مانگتا ہوں۔ حضرت خُرَیْمؓ کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اسی طرح کہا کرتے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی شخص کسی ویران وادی میں رات گزارنے کی غرض سے داخل ہوتا تو اس کے اہل اور بیوقوفوں کے شر سے بچنے کے لیے یہ الفاظ کہا کرتا تھا۔ بہرحال کہتے ہیں کہ جب میں یہ کہہ رہا تھا تو اچانک ایک پکارنے والے نے مجھے آواز دی اور یہ اشعار پڑھے کہ تیرا بھلا ہو تُو اللہ ذوالجلال کی پناہ مانگ جو حرام اور حلال کا نازل کرنے والا ہے۔ اللہ کی توحید کا اقرار کر پھر تجھے جِنَّات کی آزمائشوں کی کوئی پروا نہیں ہو گی۔ جب تُو اللہ کو یاد کرے گا تو کئی میلوں اور زمینوں اور پہاڑوں کی پنہائیوں میں جِنَّات کا مکر ناکام ہو جائے گا سوائے تقویٰ والے شخص کے اور نیک اعمال کے یعنی نیکیاں جاری رہیں گی ۔کوئی برائی نہیں آئے گی۔
حضرت خُرَیْمؓ کہتے ہیں کہ میں نے جواباً کہا کہ اے پکارنے والے! تو جو کچھ کہہ رہا ہے کیا تیرے نزدیک وہ ہدایت کی بات ہے یا تُو مجھے گمراہ کر رہا ہے۔ یہ زمانہ جاہلیت کی باتیں تو اَور تھیں۔ اور یہ تم توحید کی عجیب باتیں کر رہے ہو۔ اس نے کہا یہ اللہ کے رسول ہیں۔ بھلائیوں والے ہیں۔ یٰس اور حٰمِیْمَات لے کر آئے ہیں اور اس کے بعد مُفَصَّلَات سورتیں بھی لائے ہیں جنہوں نے ہمیں یہ ساری باتیں بتائی ہیں اور جو بہت ساری چیزوں کو حرام قرار دینے والے ہیں اور بہت ساری چیزوں کو حلال قرار دینے والے ہیں۔ وہ نماز اور روزے کا حکم دیتے ہیں اور لوگوں کو ان برائیوں سے روکتے ہیں جو گزشتہ دنوں کی برائیاں لوگوں میں موجود تھیں۔ یہ ان کو جواب ملا کہ اس طرح ہمیں توحید کا اعلان پتا لگا ہے اس لیے ہم کہتے ہیں۔ حضرت خُرَیْمؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اللہ تجھ پر رحمت کرے تم کون ہو؟ اس نے کہا میں مَلَک بن مَالِک ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اہلِ نجد کے جِنّ یعنی سرداروں پر مقرر کر کے بھیجا ہے۔ یہ ان کی آپس میں بات چیت ہو رہی ہے۔ حضرت خُرَیْمؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا اگر میرے لیے کوئی ایسا شخص ہوتا جو میرے اونٹوں کی کفالت کرتا، تو مَیں ضرور اس رسولؐ کے پاس جاتا، یہاں تک کہ اس پر ایمان لے آتا۔ان کو توحید کی باتیں اچھی لگیں، مَلَک بن مَالِک نے کہا کہ میں ان کی تمہارے اونٹوں کی ذمہ داری لیتا ہوں یہاں تک کہ میں انہیں تیرے اہل تک ان شاء اللہ صحیح سلامت پہنچا دوں گا۔ کہتے ہیں کہ میں نے ان میں سے ایک اونٹ تیار کیا اور اس پر سوار ہو کر مدینہ آ گیا۔ باقی اونٹ ان کے سپرد کر دیئے۔ میں ایسے وقت میں پہنچا کہ جب لوگ نماز ِجمعہ میں مصروف تھے۔ جمعہ کا وقت تھا تو میں نے سوچا یہ لوگ نماز پڑھ لیں پھر میں اندر جاؤں گا کیونکہ میں تھکا ہوا تھا لہٰذا میں نے اپنی سواری کو بٹھا دیا۔ جب حضرت ابو ذرؓ باہر نکلے تو انہوں نے مجھے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ اندر آ جاؤ۔ پس میں اندر آ گیا۔ جب آپؐ نے مجھے دیکھا تو فرمایا اس بوڑھے شخص کا کیا بنا جس نے تمہیں ضمانت دی تھی کہ تمہارے اونٹ صحیح سلامت تمہارے گھر پہنچا دے گا۔ اس نے تمہارے اونٹ تمہارے گھر صحیح سلامت پہنچا دیئے ہیں؟ یہ سارا نظارہ جو تھا اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی اطلاع دے دی۔ حضرت خُرَیْمؓ کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے کہا اللہ اس پر رحم کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اللہ اس پر رحم کرے۔ اس پر حضرت خُریمؓ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس طرح بڑے اچھے انداز میں وہ اسلام لے آئے۔
(المعجم الکبیر از حافظ ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی،جلد4صفحہ 211تا 213 حدیث نمبر4166،مکتبہ ابن تیمیہ قاہرہ)(السیرۃ النبویہ لابن کثیر جلد 1صفحہ 379 ،مکتبہ دار المعرفہ بيروت لبنان1976ء)
(معجم البلدان جلد 1 صفحہ 68) (بلوغ الارب مترجم از ڈاکٹر پیر محمد حسن جلد3صفحہ135۔ اردو سائنس بورڈ لاہور 2002ء)
انہوں نے اپنا اسلام لانے کا یہ واقعہ بیان کیا۔ حضرت خُریم بن فاتِکؓ نہایت لطیف مزاج اور نفاست پسند تھے۔ لباس اور وضع قطع میں خوبصورتی اور نفاست کا بہت لحاظ رکھتے تھے۔
( ماخوذ از سیر الصحابہ جلدہفتم صفحہ 307 حضرت زید بن حارثہؓ مطبوعہ دار الاشاعت کراچی)
اسلام لانے سے پہلےنیچا ازار پہنتے تھے، لمبا پاجامہ یا جو نچلا لباس ہے وہ لمبا کر کے پہنتے تھے۔ لمبے بال رکھا کرتے تھے۔ چنانچہ مستدرک حاکم میں اس کے متعلق ایک حدیث میں بیان ہوا ہے کہ حضرت خُریم بن فَاتِک سے مروی ہے کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا اے خُریم اگر تم میں دو باتیں نہ ہوتیں تو تم بہت اچھے شخص ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں وہ دو باتیں کون سی ہیں یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا تمہارا اپنے بال بڑھانا اور اپنا ازار لٹکانا یعنی ایسا لمبا پاجامہ پہننا جو فخر کے طور پر پہنا جاتا ہے۔ پس حضرت خُرَیْم گئے اور اپنے بال کٹوا دیئے اور اپنا ازار چھوٹا کر دیا۔
(المستدرک علی الصحیحین للحاکم جلد 6 صفحہ 2363 کتاب معرفة الصحابة، حدیث6608 مکتبہ نزار مصطفی الباز مکہ المکرمہ 2000ء)
ایک یہ روایت ہے اور ایک روایت تاریخ الکبیر میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابن حَنْظَلِیَّہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خُریم اَسَدِی کتنا ہی اچھا شخص ہوتا اگر اپنے بال مونڈھوں تک نہ بڑھاتا۔ کندھے تک نہ لاتا اور اپنا ازار نہ لٹکاتا فخر کے طور پر۔ اپنا پاجامہ جو نچلا لباس ہے یا جو بھی نیچے لباس پہنا ہوتا ہے وہ زیادہ لمبا نہ ہو۔ حضرت خُرَیْمؓ کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے اپنا چھوٹا استرا لیا اور اپنے بال کانوں تک کاٹ دیئے۔ لمبے بالوں کی بجائے یہاں تک کاٹ دیئے، اور اپنا ازار نصف پنڈلیوں تک اوپر کر لیا۔
(التاریخ الکبیر از عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری جلد 3صفحہ196 حدیث 3651،مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان2001ء)
کیونکہ وہ اس وقت لوگوں میں فخر کی نشانی سمجھی جاتی تھی۔ اس لیے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ بلا وجہ بلاضرورت لمبے بال رکھنے میںکیا حرج ہے۔ اتنے ہی پٹے کانوں کی لَو تک، رکھنے چاہئیں جتنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کی طرح لمبے نہیں ہونے چاہئیں۔
حضرت عمرؓ کے زمانے میں شام کی فتوحات میں یہ شریک ہوئے تھے ۔
(سیر الصحابہ جلد ہفتم صفحہ307 حضرت زید بن حارثہ مطبوعہ دار اشاعت کراچی)
حضرت قَیس بن ابو حَازِمؓ اور حضرت عَامِرشَعْبِیؓسے مروی ہے کہ مَرْوَان بِن حَکَمنے حضرت اَیْمَن بن خُریمؓ سے کہا تم ہمارے ساتھ جنگ میں کیوں شریک نہیں ہوتے؟ انہوں نے کہا میرے والد اور میرے چچا غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے اور انہوں نے مجھے یہ تاکیدی حکم دیا تھا کہ میں کسی ایسے شخص سے نہ لڑوں جو کہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبو دنہیں۔
حضرت ایمنؓ نے مروان بن حکم سے کہا کہ اگر تم میرے پاس آگ سے براء ت لائے ہو تو مَیں تمہارے ساتھ جنگ میں شریک ہو جاؤں گا تو مروان نے کہا تم ہمارے پاس سے چلے جاؤ۔ پس وہ نکلے تو یہ اشعار پڑھتے جا رہے تھے کہ میں کسی شخص سے نہیں لڑوں گا جو قریش کے کسی دوسرے سلطان کی تعریف کرتا ہے۔ اس کے لیے اس کی سلطنت ہے اور میرے اوپر میرا گناہ۔ میں ایسی جہالت اور غصّے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ کیا میں ایک مسلمان کو بغیر کسی جرم کے قتل کروں گا۔ اگر ایسا ہوا تو میں جتنی زندگی بھی جی لوں اس کا مجھے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
(المستدرک علی الصحیحین للحاکم جلد3 صفحہ 1004 کتاب معرفة الصحابة، ذکر خُرَیْم بن فَاتِک، حدیث2667 مکتبہ نزار مصطفی الباز مکہ المکرمہ 2000ء)
آج کل کے مسلمانوں کے عمل دیکھیں تو پتا لگتا ہے کہ یہ اصل تعلیم سے کتنی دُور جا چکے ہیں۔
پھر جن صحابی کا ذکر ہے حضرت مَعْمَر بن حارِثؓ ان کا نام ہے۔ حضرت مَعْمَر بن حارِثؓ کا تعلق قبیلہ قریش کے خاندان بنو جُمَحّ سے تھا۔ ان کے والد کا نام حارِث بن مَعْمَر تھا اور والدہ کا نام قَتِیْلہ بنت مَظْعُون تھا جو حضرت عثمان بن مظعونؓ کی بہن تھیں۔ یوں حضرت عثمان بن مظعونؓ حضرت مَعْمَرؓ کے ماموں تھے۔ حضرت معمرؓ کے دو اَور بھائی تھے جن کے نام حَاطِبْؓ اور حَطَّابؓ تھے۔ یہ تینوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دارِ ارقم میں داخل ہونے سے قبل اسلام قبول کر چکے تھے۔ حضرت معمرؓ کا شمار اَلسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ میں ہوتا ہے۔
(اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ المجلد الخامس صفحہ 226 معمر بن الحارث دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان2008ء)(سیر اعلام النبلاء لامام محمد بن احمد الذھبی جلد 1 صفحہ 144، الرسالة العالمیة 2014)
حضرت عائشہؓ بنت قُدَامہ سے روایت ہے کہ بنو مَظْعُون میں سے حضرت عثمانؓ، حضرت قُدَامَہؓ، حضرت عبداللہؓ اور حضرت سَائِبؓ بن عثمان بن مظعون اور حضرت مَعْمَر بن حارِثؓ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو حضرت عبداللہ بن سَلَمہؓ عَجْلَانِی کے گھر ٹھہرے تھے۔
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثالث صفحہ 302 عثمان بن مظعون ، دارالکتب العلمیة بیروت لبنان 1990ء)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معمرؓ کی مؤاخات حضرت مُعَاذ بن عَفْراءؓ کے ساتھ کروائی تھی۔ حضرت مَعْمَر بن حارِثؓ غزوۂ بدر، اُحد، خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔ حضرت مَعْمَر بن حارِثؓ کی وفات حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں 23؍ ہجری میں ہوئی تھی۔
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثالث صفحہ 307 معمر بن الحارث ، دارالکتب العلمیة بیروت لبنان 1990ء) (البدایۃ و النھایۃ لابن کثیر جلد 7 صفحہ 139، ذِكْرُ مَنْ تُوُفِّيَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، دار الکتب العلمیة بیروت 2001ء)
پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے ظُھَیر بن رَافِعؓ۔ پہلے صحابی حضرت مظھّرکا جو ذکر آیا تھا، یہ ان کے بھائی تھے۔ حضرت ظُھَیرانصار کے قبیلہ اوس کے خاندان بنو حَارِثَہ بن حارِث سے تعلق رکھتے تھے۔
(السیرۃ النّبویّہ لابن ہشام مَنْ شَھِدَ مِنْ بَنِیْ حَارِثَہْ بِنْ الْحَارِثْ صفحہ 209 مطبوعہ دار ابن حزم بیروت 2009ء)
حضرت ظُھَیربن رَافِع کے بیٹے کا نام اُسَیْد تھا جنہیں صحابی ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔ حضرت ظُھَیر، رافع بن خُدَیْج کے چچا تھے، حضرت رافع کا ذکر میںپہلے کر چکا ہوں۔ حضرت ظُھَیرکی بیوی کا نام فاطمہ بنت بِشْر تھا جو بنو عَدِی بن غَنَم سے تھیں۔
(اُسدالغابۃ فی تمییز الصحابۃ جلد3 صفحہ103 ظُہَیْر بِنْ رَافِعْ دارالکتب العلمیہ بیروت 2008ء) (اُسدالغابۃ فی تمییز الصحابۃ جلد1 صفحہ243 -244 أُسَيْد بِنْ ظُهَيْردارالکتب العلمیہ بیروت 2008ء)(الطبقات الکبریٰ جلد 4 صفحہ 273 اسید بن ظُھَیر مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)
حضرت مُظَھِّربن رَافِعْ، حضرت ظُھَیرکے سگے بھائی تھے۔ دونوں بھائیوں کو غزوۂ بدر میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔
(اُسدالغابۃ فی تمییز الصحابۃ جلد5 صفحہ 185 مُظَھِّرْ بِنْ رَافِعْ دارالکتب العلمیہ بیروت 2008ء) (صحیح البخاری کتاب المغازی باب تسمیۃ من سمی من اھل بدر ……)
جو کہتے ہیں کہ نہیں یہاں یہ کہہ رہے ہیں اور اکثر تاریخیں یہ کہتی ہیں کہ دونوں بھائی شامل ہوئے تھے۔ حضرت ظُھَیربیعت عقبہ ثانیہ اور غزوۂ بدر اور غزوۂ احد اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے تھے۔
(اسدالغابۃ فی تمییز الصحابۃ جلد3 صفحہ 103 ظہیر بن رافع، دارالکتب العلمیہ بیروت 2008ء)
حضرت رافع بن خُدَیج اپنے چچا حضرت ظُھَیربن رافع سے روایت کرتے تھے کہ حضرت ظُھَیرنے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسی بات سے منع فرمایا جو ہمارے لیے فائدہ مند تھی۔ میں نے کہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہی بجا تھا۔ ظُھَیرنے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔ آپؐ نے پوچھا تم اپنے کھیتوں کو کیا کرتے ہو۔ میں نے کہا کہ ہم انہیں ٹھیکے پر دے دیتے ہیں۔ زمینیں ہیں جو ہم اس شرط پر ٹھیکے پر دے دیتے ہیں کہ جو نالیوں کے قریب پیداوار ہو وہ ہم لیں گے یعنی جو پانی کے قریب جگہ ہے وہاں اچھی فصل ہو گی وہ ہم لیں گے اور کھجور اور جَو میں چند وسق کے حساب سے لیں گے۔ ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں اور ایک صاع اڑھائی کلو کے قریب ہوتا ہے۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کے فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو۔ تم خود اس میں کاشت کرو یا ان میں کاشت کراؤ یا انہیں خالی رہنے دو۔ حضرت رافعؓ کہتے تھے کہ میں نے کہا میں نے سن لیا اور اب ایسا ہی ہوگا۔
(صحیح بخاری جلد4 کتاب الْحَرْثِ وَ الْمُزَارِعَہْ بَابُ مَا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَاسِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا فِي الزِّرَاعَةِ وَالثَّمَرَةِ۔ حدیث 2339 و مترجم اردو ۔ صفحہ334۔ شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ)(لغات الحدیث جلدچہارم صفحہ51‘‘وسق’’۔لغات الحدیث جلد دوم صفحہ 113‘‘صاع’’)
اس کے بعد ہم خود کاشت کیا کرتے تھے یا ایسے طریقے سے لیتے تھے جہاں حق دار کو اس کا حق بھی مل جائے۔
پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کانام حضرت عَمْرو بن اِیَاسؓ ہے۔ حضرت عَمْروؓ یمن سے تعلق رکھتے تھے اور انصار کے قبیلہ بنو لَوْذَان کے حلیف تھے۔ ان کے والد کا نام اِیَاس بن عمرو تھا۔ دونوں ایک اَور قول، روایت یہ بھی ہے کہ ان کے دادا کا نام زید تھا۔ حضرت عمروؓ غزوۂ بدر اور اُحد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے۔ حضرت عمروؓ حضرت رَبِیع بن اِیَاسؓ اور حضرت وَرَقَہ بن اِیَاسؓ کے بھائی تھے اور ان تینوں بھائیوں کو غزوۂ بدر میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔
(السیرة النبویہ لابن ہشام صفحہ 469 الانصار ومن معہم/ من بنی لوذان وحلفائہم، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان 2001ء)(اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ جزء 4 صفحہ 186 عمرو بن ایاس بن زید، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان 2008ء)
پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت مُدْلِجْ بن عَمْروؓ ہے۔ حضرت مُدْلِجْ بن عَمْرو کا نام مِدْلَاجْ بھی بیان ہوا ہے۔ ان کا تعلق قبیلہ بَنُو سُلَیم کے خاندان بَنُو حُجْر سے تھا۔ یہ بنو کبیر بن غَنْم بن دُوْدَان کے حلیف تھے جبکہ ایک دوسرے قول کے مطابق بَنُو عَمرو بن دُوْدَان کے حلیف تھے جو پھر آگے بَنُو عَبد شَمْس کے حلیف تھے۔
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثالث صفحہ 53 مدلاج بن عمرو دار احیاء التراث العربی بیروت 1996ء)(السیرة النبویۃ لابن ہشام صفحہ 460 «ذکر من حضر بدراً من المسلمین» دارالکتب العلمیة بیروت لبنان2001ء) (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ جزء سادس صفحہ 49 «مدلاج بن عمرو الاسلمی» دارالکتب العلمیة بیروت لبنان2005ء)
حضرت مُدْلِجؓ غزوۂ بدر میں اپنے دو بھائیوں حضرت ثَقْف بِن عَمْروؓ اور حضرت مَالِک بن عَمْروؓ کے ہمراہ شامل ہوئے تھے۔ حضرت مُدْلِج بن عمروؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بدر، اُحد اور بعد کے تمام غزوات میں شامل ہوئے۔
(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب جزء رابع صفحہ 31-32 «مدلاج بن عمرو السلمی» دارالکتب العلمیة بیروت2002ء)(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جزء الخامس صفحہ 127 مدلج بن عمرو دار الکتب العلمیہ بیروت 2008ء)
حضرت مُدْلِج بن عمروؓ کی وفات پچاس ہجری میں حضرت امیر معاویہؓ کے دور ِحکومت میں ہوئی تھی۔
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثالث صفحہ 53 ‘‘مدلاج بن عمرو’’۔ داراحیاء التراث العربی بیروت لبنان1996ء)
پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت عبداللہ بن سُہَیْلؓ ہے۔ حضرت عبداللہ کے والد کا نام سُہَیْل بن عَمرو اور والدہ کا نام فَاخْتَہ بنتِ عَمرو تھا۔ ان کے بھائی کا نام ابوجَنْدَل تھا۔ حضرت عبداللہ اپنے بھائی ابوجَنْدَل سے عمر میں بڑے تھے۔ حضرت عبداللہ کی کنیت ابوسُہَیْل تھی۔ حضرت عبداللہ بن سُہَیْل کا تعلق قبیلہ قریش کے خاندان بنو عَامِر بن لُؤَیّ سے تھا۔تاریخ کی جو کتاب ہے اس میں ابن اسحاق نے مہاجرین حبشہ ثانیہ میں ان کا ذکر کیا ہے ۔ جب حضرت عبداللہ بن سُہَیْلؓ حبشہ سے لوٹے تو ان کے والد نے انہیں پکڑ کر ان کے دین سے ہٹا دیا یعنی زبردستی کی ان پہ۔ حضرت عبداللہ بن سُہَیْلؓ نے رجوع کا اظہار کیا اور آپؓ مشرکین کے ہمراہ مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بدر کی طرف روانہ ہوئے یعنی انہوں نے باپ کو کہا کہ ٹھیک ہے میں اس دین سے واپس آتا ہوں، اسلام سے توبہ کرتا ہوں۔ کہہ تو یہ دیا لیکن دل میں تسلی نہیں تھی۔ بہرحال مشرکین کے ساتھ بدر کی جنگ کے لیے آ گئے۔ حضرت عبداللہ اپنے والد سُہَیْل بن عمرو کے ساتھ ان کے نفقہ اور انہی کی سواری میں سوار تھے۔ ان کے والد کو کسی قسم کا شک نہ تھا کہ اس نے اپنے دین کی طرف رجوع کر لیا ہے یعنی اسلام چھوڑ کے واپس آ گیا ہے۔ جب بدر کے مقام پر مسلمان اور مشرکین مقابلہ کے لیے آمنے سامنے ہوئے اور دونوں لشکروں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تو حضرت عبداللہ بن سُہَیْل مسلمانوں کی طرف پلٹ آئے اور لڑائی سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ یوں آپؓ بحالتِ اسلام غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے۔ اس وقت ان کی عمر 27 سال تھی۔ حضرت عبداللہ کے ایسا کرنے کی وجہ سے ان کے والد سُہَیْل بن عمرو کو شدید غصہ آیا۔ حضرت عبداللہ بن سُہَیْلؓ بدر، احد، خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے۔ حضرت عبداللہؓ نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے والد کے واسطے امان لی یعنی کہ ان کو معاف کر دیں۔ پناہ میں لے لیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپؐ میرے والد کو امان دیں گے ۔ آپؐ نے جواب دیا کہ وہ اللہ کی امان کی وجہ سے امن میں ہے۔ ٹھیک ہے اسے چاہیے کہ وہ باہر آ جائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارد گرد احباب سے فرمایا جو شخص سُہَیْل بن عمرو کو دیکھے تو اسے حقارت کی نظر سے نہ دیکھے۔ میری زندگی کی قسم ہے کہ یقینا ًسُہَیْل عقل مند اور شریف آدمی ہے اور سُہَیْل جیسا شخص اسلام سے ناواقف نہیں رہ سکتا۔ حضرت عبداللہ بن سُہَیْلؓ اٹھ کر اپنے والد کے پاس گئے اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو سے آگاہ کیا۔ سُہَیْل نے کہا کہ اللہ کی قسم! وہ بڑھاپے اور بچپن میں نیکو کار تھے۔یوں حضرت عبداللہ کے والد سُہَیْل نے اس موقع پر اسلام قبول کر لیا۔ حضرت سُہَیْلؓ امان والے واقعہ کے بعد کہتے تھے کہ اللہ نے اسلام میں میرے بیٹے کے لیے بہت زیادہ بھلائی رکھ دی ہے۔ حضرت عبداللہ جنگِ یمامہ میں بھی شریک ہوئے تھے اور اسی جنگ میں بارہ ہجری میں دورِ خلافت حضرت ابوبکر صدیقؓ میں شہید ہوئے۔ اس وقت ان کی عمر 38 سال تھی۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب اپنے دورِ خلافت میں حج کے لیے مکہ تشریف لائے تو حضرت عبداللہ بن سُہَیْلؓ کے والد حضرت سُہَیل بن عمرو مکہ میں حضرت ابوبکرؓ سے ملنے آئے تب حضرت ابوبکرؓ نے ان سے ان کے بیٹے عبداللہ کی تعزیت کی۔ اس پر حضرت سُہَیْلؓ نے کہا کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شہید اپنے اہل میں سے ستر افراد کی شفاعت کرے گا تو میں یہ امید رکھتا ہوں کہ میرا بیٹا مجھ سے قبل کسی اور سے آغاز نہ کرے گا یعنی میں جب مروں تو وہ میری بخشش کی سفارش کرے۔ اسی طرح دوسری رائے کے مطابق حضرت عبداللہ بحرین کے علاقہ جُوَاثَاء میں 88سال کی عمر میں شہید ہوئے تھے۔ جَوَاثَاء بحرین میں عَبْدُالقَیْس کا قلعہ ہے جس کو عَلَاء بن حَضْرَمِینے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں 12؍ ہجری میں فتح کیا تھا۔(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثالث صفحہ 216-217عَبْدُاللہْ بِنْ سُھَیْل،داراحیاء التراث العربی بیروت لبنان 1996ء)(الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد 4 صفحہ107 عَبْدُاللہْ بِنْ سُھَیْل ،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2005ء)(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃالجزءالثالث صفحہ 272 عَبْدُاللہْ بِنْ سُھَیْل ،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان2008ء)(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃالجزءالثانی صفحہ585 سُہَیْل بن عمرو قرشی،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان2008ء)(معجم البلدان جلد2صفحہ84 دار احیاء الترث العربی بیروت)بہرحال یہ دو روایتیں ہیں۔
حضرت یَزِیْد بن حارِثؓ صحابی ہیں جن کا اب ذکر ہو گا۔ حضرت یَزِیْد بن حارِثؓ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو اَحْمَر بن حَارِثَہ سے تھا ۔ حضرت یَزِید کے والد کا نام حَارِث بن قَیس اور والدہ کا نام فُسْحُمْتھا جو قبیلہ قَیْن بن جَسْر سے تعلق رکھتی تھیں۔ قَیْن یمن میں قُضَاعَہ کا ایک قبیلہ تھا۔ حضرت یزیدؓ اپنی والدہ کی نسبت سے یزید فُسْحُمْ اور یزید بن فُسْحُمْ کے نام سے بھی پکارے جاتے تھے۔
(السیرۃ النبویۃلابن ہشام باب الانصار و من معھم من بنی احمر صفحہ467دار الکتب العلمیۃ بیروت 2001ء)
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جز 3 صفحہ 275 یزید بن حارث دار احیاء التراث العربی بیروت 1996ء)
(الانساب للسمانی جلد 10 صفحہ 545 حاشیہ از المکتبہ الشاملہ)
حضرت یزید بن حارِثؓ کے ایک بھائی عبداللہ بن فُسْحُمبھی تھے۔ ان کا نام ‘ذوالشمالین’ بھی تھا۔ حضرت عُمَیر بن عبد ِعمرو ‘ذوالشمالین ’کے بارے میں ابن ہشام بیان کرتے ہیں کہ انہیں ذوالشمالین اس لیے کہا جاتا تھا کیونکہ یہ بائیں ہاتھ سے زیادہ کام کرتے تھے۔ ‘ذوالیدین’ کے لقب سے بھی یہ مشہور تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ہاتھ بہت لمبے تھے۔ اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ دونوں ہاتھوں سے کام لیتے تھے اس لیے انہیں ‘ذوالیدین’ بھی کہا جاتا تھا۔ ان کا نام عُمَیر بن عَبدِ عمرو خُزَاعِی تھا۔ جب وہ ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور حضرت یزید بن حارث کے درمیان مؤاخات قائم فرمائی تھی۔ عمیر بن عبد عمرو کا یہ ذکر یا ذوالشمالین کا یہ ذکر اس لیے ہوا کہ ان کی مؤاخات یزید بن حارثؓ کے ساتھ ہوئی تھی۔ حضرت یزید اور حضرت ذوالشمالین دونوں کو غزوۂ بدر میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی اور دونوں نے ہی اسی جنگ میں شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ نَوفَل بِن مُعَاوِیَہ دَیْلِیّ نے حضرت یزید کو شہید کیا تھا اور ایک دوسرے قول کے مطابق قاتل کا نام طُعَیْمَہ بن عَدِیّ تھا۔
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جز 3 صفحہ 275 یزید بن حارث دار احیاء التراث العربی بیروت 1996ء)(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ جزء 6 صفحہ 511 یزید بن حارث دار الکتب العلمیۃ بیروت 2005ء)(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جلد 5 صفحہ 449 یزید بن حارث دار الکتب العلمیۃ بیروت 2006ء)(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام صفحہ 461 من حضر بدراً من المسلمین/ من بنی زہرہ، دارالکتب العلمیۃ بیروت 2001ء)(الروض الانف جلد 5 صفحہ 299من استشہد من المسلمین یوم بدر…… بحوالہ المکتبۃ الشاملۃ) (الطبقات الکبریٰ لابن سعد جز 3 صفحہ 124، ذوالیدین، دار احیاء التراث العربی بیروت 1990ء)
حضرت یَزِیْد بِن حَارِثؓ نے جنگِ بدر کے روز اپنے ہاتھ میں کھجوریں پکڑی ہوئی تھیں۔ انہوں نے وہ پھینک کر لڑائی شروع کی اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔
(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ جزء 6 صفحہ 511 یزید بن حارث دار الکتب العلمیۃ بیروت 2005ء)
پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت عُمَیر بِن حُمَامؓ ہے۔ حضرت عُمَیر بِن حُمَامؓ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بَنُو سَلَمَہ کے خاندان بَنُو حَرَام بن کَعْب سے تھا۔
(السیرة النبویة لابن ہشام صفحہ 476 «من استشہد من المسلمین یوم بدر» دارالکتب العلمیة بیروت لبنان2001ء)
حضرت عمیر کے والد کا نام حُمَام بِن جَمُوح اور والدہ کا نام نُوَارْ بِنتِ عَامِر تھا۔
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزءثالث صفحہ 426 «عمیر بن الحمام»۔دارالکتب العلمیة بیروت لبنان2012ء)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عُمَیر بِن حُمَام، حضرت عُبَیْدَہ بن حَارِثْ مُطَّلِبِیکے درمیان مؤاخات قائم فرمائی جنہوں نے مکے سے مدینہ ہجرت کی۔ یہ دونوں بدر کے دن شہید ہونے والوں میں شامل تھے۔
(اسد الغابة فی معرفة الصحابة جزءرابع صفحہ 278»عمیر بن الحمام» دارالکتب العلمیة بیروت لبنان2008ء)
غزوہ بدر کے موقع پر جب مشرک قریب آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس جنت کے لیے آگے بڑھو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عُمَیر بن حُمَامؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ جنت جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ کیا آپؐ یہ فرما رہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ اس پر انہوں نے کہا بَخِ بَخِ! یعنی واہ واہ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بَخِ بَخِ کیوں کہہ رہے ہو،کس وجہ سے کہہ رہے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! خدا کی قسم میں صرف اس خواہش کی وجہ سے کہہ رہا ہوں کہ میں جنت کے باشندوں میں سے ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کے باشندوں میں سے ہو۔ حضرت عُمَیر بن حُمَامؓ نے اپنی ترکش سے کھجوریں نکالیں اور انہیں کھانے لگے۔ پھر آپؓ نے فرمایا اگر میں ا پنی یہ کھجوریں کھانے تک زندہ رہوں تو یہ بڑی لمبی زندگی ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؓ نے وہ کھجوریں جو آپ کے پاس تھیں پھینک دیں اور کفار سے یہاں تک لڑے کہ شہید ہو گئے۔
(صحیح مسلم کتاب الامارة باب ثبوت الجنة للشہید حدیث نمبر 3506ترجمہ شائع کردہ نور فاؤنڈیشن جلد 10 صفحہ 102تا 104)
غزوۂ بدر کے موقع پر حضرت عُمَیر بِن حُمَام یہ رجزیہ شعر پڑھ رہے تھے کہ
رَکْضًا اِلَی اللّٰہِ بِغَیْرِ زَادِ
اِلَّا التُّقٰی وَ عَمَلَ الْمَعَادِ
وَالصَّبْرَ فِی اللّٰہِ عَلَی الْجِھَادِ
اِنَّ التُّقٰی مِنْ اَعْظَمِ السَّدَادِ
وَ خَیْرُ مَا قَادَ اِلَی الرَّشَادِ
وَ کُلُّ حَیٍّ فَاِلٰی نَفَادِ
کہ اللہ کی طرف سوائے تقویٰ اور آخرت کے اور کچھ زادِ راہ نہیں لے جاتا اور اللہ کی راہ میں جہاد پر ثابت قدم رہتا ہوں۔ بے شک تقویٰ عمدہ چیز ہے اور سب سے بہتر ہدایت کی طرف رہنما ہے اور سب زندہ فنا ہونے والے ہیں۔
(اسد الغابة فی معرفة الصحابة جزء رابع صفحہ 278 ‘‘عُمَیر بِن حُمَام’’ دارالکتب العلمیة بیروت لبنان2008ء)
اسلام میں انصار کی طرف سے سب سے پہلے شہید حضرت عُمَیر بن حُمَامؓ ہیں۔ انہیں خَالِدبن اعلَم نے شہید کیا یا بعض کے نزدیک سب سے پہلے انصاری شہید حضرت حارثہ بن قیسؓ تھے۔ دو روایتیں ہیں۔ بہرحال یہ دو بدر کے شہید تھے۔
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزءثالث صفحہ 426 ‘‘عمیر بن الحمام’’۔دارالکتب العلمیة بیروت 1990ء)(السیرة الحلبیة جلد 2 صفحہ 222باب ذکر مغازیہﷺ، دارالکتب العلمیة بیروت لبنان 2002ء)
حضرت حُمَید انصاریؓ ایک صحابی تھے جن کا اب ذکر کروں گا۔ حضرت زُبیرؓ بیان کرتے ہیں کہ مدینے کی پتھریلی زمین کے ایک کاریزہ یعنی کھیتوں کو پانی دینے والی جو چھوٹی نالی ہوتی ہے اس کے متعلق ان کا ایک انصاری شخص سے جھگڑا ہو گیا جو غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ جھگڑا فیصلے کے لیے آیا۔ وہ دونوں زمین کو اس کاریزہ سے پانی دیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیرؓ سے فرمایا کہ زبیر تم پانی دو۔ (پہلے ان کی زمین تھی) پھر اپنے پڑوسی کے لیے اسے چھوڑ دو۔ پانی لگاؤ، پھر اس کا حصہ بھی اس کو دے دو اور آگے چھوڑ دو۔ وہ انصاری اس بات پہ ناراض ہو گیا۔ اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! اس لیے آپ ان کے حق میں یہ فیصلہ دے رہے ہیں کہ وہ آپؐ کی پھوپھی کا بیٹا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیرؓ سے فرمایا کہ پہلے تو احسان کے رنگ میں مَیں نے بات کی تھی کہ تھوڑا سا پانی دے کے اس کو چھوڑو۔ اب یہ حق والی بات آ رہی ہے کہ تم پانی دو اور اسے روکے رکھو یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک آ جائے۔ اپنے کھیتوں کو پورا پانی لگاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیرؓ کو ان کا پورا حق دلوایا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے حضرت زبیر کو اپنی رائے کا اشارہ کر چکے تھے جس میں ان کے اور اس انصاری کے لیے بڑی گنجائش تھی۔ جب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیرؓ کو صاف اور صحیح فیصلہ دے کر ان کا پورا حق دلا دیا۔ عُروہ نے کہا کہ حضرت زبیرؓ کہتے تھے کہ بخدا میں یہی سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی واقعہ سے متعلق نازل ہوئی ہے کہ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ (النساء:66) کہ تیرے رب کی ہی قسم ہے ہرگز ہرگز مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ تجھے ان باتوں میں حکَم نہ بنائیں جو ان کے درمیان اختلافی صورت اختیار کرتی ہیں۔
پوری آیت بھی مَیں بتا دیتا ہوں اس طرح ہے کہ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (النساء: 66) کہ تیرے رب کی قسم ہے کہ جب تک وہ ہر بات میں جس کے متعلق ا ن میں جھگڑا ہو جائے تجھے حکم نہ بنائیں اور پھر جو فیصلہ تو کرے اس سے اپنے نفوس میں کسی قسم کی تنگی نہ پائیں اور پورے طور پر فرمانبردار نہ ہو جائیں ہرگز ایماندار نہیں ہوں گے۔
الاصابة، اسد الغابة اور صحیح بخاری کی شرح ارشاد الساری میں یہ لکھا ہے کہ انصار کے جس شخص کی حضرت زبیرؓ سے تکرار ہوئی وہ حضرت حُمید انصاریؓ تھے جو غزوۂ بدر میں شامل ہوئے تھے۔
(الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر العسقلانی، جلد2 صفحہ112، حمید الانصاری، دارالکتب العلمیہ بیروت2005ء)(اسدالغابہ فی معرفة الصحابہ لابن اثیر جلد2 صفحہ76، حمید الانصاریؓ،دارالکتب العلمیہ بیروت2008ء)(ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری ، کتاب الصلح باب اذا اشار الامام بالصلح…… حدیث نمبر2708، جلد5 صفحہ140،دارالفکر بیروت2010ء)
بہرحال بعض دفعہ شیطان چپکے سے حملہ کر دیتا ہے لیکن ان بدری صحابہ کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی بخشش کی گواہی دی اور اعلان کیا ہوا ہے۔
حضرت عَمرو بن مُعاذ بن نُعْمان اَوسیؓ ایک صحابی تھے۔ حضرت عَمروؓ کے والد کا نام مُعاذ بن نُعمان اور ان کی والدہ کا نام کَبْشَہ بنتِ رَافِع تھا۔ حضرت عَمرو بن مُعاذ انصاریؓ اَشْھَلِی قبیلہ اَوس کے سردار حضرت سعد بن معاذؓ کے بھائی ہیں۔ انصار کے قبیلہ بَنُو عَبدِ الْاَشْھَل سے تعلق رکھنے والوں کواَشْھَلِیبھی کہا جاتا تھا۔ اس قبیلے سے ایک کثیر جماعت نے اسلام قبول کیا تھا۔ حضرت عَاصِم بن عُمَر بن قَتَادہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے حضرت عمرو بن معاذؓ اور مکے سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچنے والے حضرت عُمیر بن ابووقاصؓ کے درمیان عقد مؤاخات قائم فرمایا۔ عُمَیر بن ابووقاصؓ ، حضرت سعد بن ابو وقاصؓ کے بھائی تھے۔ حضرت عَمرو بن مُعاذؓ اپنے بھائی حضرت سعدؓ کے ہمراہ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ حضرت عَمرو بن مُعاذؓ غزوۂ احُد میں شہید ہوئے۔ انہیں ضِرَار بن خَطَّاب نے شہید کیا۔ ضِرَار بن خَطَّاب نے جب حضرت عمرو بن معاذؓ کو نیزہ گھونپا جو ان کے جسم کے آر پار ہو گیا تو ان سے بطور استہزاء کہا کہ دیکھنا تم سے وہ شخص نہ چھوٹنے پائے جو حُورٌ عِین سے تمہاری شادی کرائے۔ اس وقت ضِرار نے بڑا طنزیہ لفظ استعمال کیا۔ ضرار مسلمان نہیں ہوئے تھے اور فتح مکہ کے دن انہوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ حضرت عَمرو بن معاذؓ کی عمر شہادت کے وقت 32 سال تھی۔ ضِرَار بن خَطَّاب بن مِرْدَاس کے والد خَطَّابْ اپنے زمانے میں بَنُو فِھْرکے رئیس تھے۔ اپنی قوم کے لیے ایک مسافر خانہ بنایا ہوا تھا۔ ضِرَار جنگ فُجَّار کے دن بنو محارب بن فہر کے سردار تھے۔ قریش کے شہ سواروں، بہادروں اور شیریں کلام شاعروں میں سے تھے۔ یہ ان چار آدمیوں میں سے تھے جنہوں نے خندق پار کی تھی۔ ابنِ عساکر دمشقی نے تاریخ دمشق میں ان کا نام، بطور صحابی کے ان کا ذکر کیا ہے۔ ضرار حضرت ابو عبیدہ کے ہمراہ فتوحاتِ شام میں شریک تھے اور فتح مکہ کے دن انہوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ ان کا اسلام لانا مشہور ہے اور ان کی نظم و نثر ان کے اسلام پر دلالت کرتی ہے۔
(اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ المجلد الرابع صفحہ 260 «عَمْرو بن مُعَاذ اَلْأَنْصَارِی « دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان2008ء)(اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ المجلد الثانی صفحہ 447-448 «ضِرَار بن خَطَّاب « دارالفکر بیروت لبنان2003ء)(الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی جلد 4 صفحہ 567 «عَمْرو بن مُعَاذ » دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان 2005ء)(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب الجزء الثالث صفحہ 279 «عَمْرو بن مُعَاذ الأَشْهَلِي، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان 2002ء) (الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثانی صفحہ 359 « عَمْرو بِنْ مُعَاذ « دار الفکر بیروت لبنان 2012ء)(الانساب از ابو سعد عبد الکریم بن محمد بن منصور التمیمی الجزاء الاوّل صفحہ 283 – 284 الطبعۃ الثانیۃ مکتبۃ ابن تیمیۃ 2009ء)
حضرت مسعود بن رَبیعہ بن عمروؓ ایک صحابی ہیں۔ حضرت مسعود بن رَبِیعہؓ کا تعلق قبیلہ قَارَہ سے تھا اور آپؓ قبیلہ بنو زُہرہ کے حلیف تھے۔ حضرت مسعودؓ کی کنیت ابو عمیر تھی۔ حضرت مسعودؓ کے والد کا نام ربیع کے علاوہ رَبیعہ اور عامر بھی بیان کیا گیا ہے۔ حضرت مسعودؓ کے ایک بیٹے کا نام عبداللہ بھی ملتا ہے۔ حضرت مسعودؓ کے خاندان کومدینہ میں بنو قَارِی کہا جاتا تھا۔ حضرت مسعود بن رَبیعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دارِ ارقم میں داخل ہونے سے پہلے ایمان لے آئے تھے۔ حضرت مسعود بن رَبیعہ نے جب مدینے کی طرف ہجرت کی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اور حضرت عُبید بن تَیِّھَانْ کے درمیان مؤاخات کا رشتہ قائم فرمایا۔ حضرت مسعود بن رَبِیعہ غزوۂ بدر، غزوۂ اُحد، غزوۂ خندق اور اس کے علاوہ تمام دیگر غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔ آپؓ کی وفات تیس ہجری میں ہوئی اور اس وقت آپؓ کی عمر 60؍ سال سے زیادہ تھی۔
(السیرۃ النبویہ لابن ہشام صفحہ460-461، من حضر بدرًا من المسلمین /من بنی زھرة ، دار الکتب العلمیۃ بیروت 2001ء)(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثالث صفحہ 89-90 مسعود بن ربیع ۔داراحیا ء التراث العربی بیروت لبنان 1996ء)(اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ المجلد الخامس صفحہ 154-155 ‘‘مسعود بن ربیعہ’’ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان2008ء)(الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی جلد6صفحہ77 مسعود بن ربیعہ ،دارالفکر بیروت 2001 )
اللہ تعالیٰ ان تمام صحابہ کے درجات بلند فرماتا چلا جائے اور جو ان کی نیکیاں تھیں ہم بھی ان کو جاری رکھنے والے ہوں۔
اس کے بعد میں مختصراً صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگلے جمعہ سے ان شاء اللہ تعالیٰ یہاں برطانیہ کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے۔ اس کے ہر لحاظ سے بابرکت ہونے کے لیے دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے۔ جن کی ڈیوٹیاں ہیں وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ ان ڈیوٹیوں کو سرانجام دینے کی کوشش کریں اور دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں توفیق دے کہ صحیح طور پہ ڈیوٹیاں ادا کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں بہتر رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے مہمانوں کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ اس سال شعبہ ٹرانسپورٹ کو اس لحاظ سے کچھ زیادہ کام کرنا پڑے گا اور پلاننگ بھی کرنی ہو گی کہ یہاں جماعتی قیام گاہوں میں جو مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں ان کو اسلام آباد جلسے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی چند دن لانے کا انتظام کرنا ہو گا اور ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنا ہو گا ۔ اس کے لیے میں نے افسر جلسہ سالانہ کو کہا تھا کہ پلاننگ کر لیں۔ امید ہے اس پہ کام شروع ہو گیا ہو گا تا کہ مہمان وہاں اسلام آباد میں بھی آکے نمازیں ادا کر سکیں اور جلسے کے دنوں میں تو حدیقة المہدی میں یہاں سے انتظام ہوتا ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کام احسن رنگ میں سب کو انجام دینے کی توفیق دے۔
(الفضل انٹرنیشنل 16؍اگست 2019ءصفحہ 5 تا 9)

image_printپرنٹ کریں