skip to Main Content
کرامت الرحمن:آنسو

آنسو بہتے ہیں بہہ لینے دو
آک لگی ہے لگ لینے دو

میرے دل میں پنہاں راز ہیں
پوچھتا ہے کوئی پوچھ لینے دو

زمانے میں کیا ہنگامہ برپا ہے
ہنگامہ ہوتا ہے ہو لینے دو

جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں
بارش ہوتی ہے ہو لینے دو

لہو گرم ہے سب کا آج
دما دم مست قلندر کو ہو لینے دو

ظالم ظلم کے نشے میں ہے
اس دور کو گزر لینے دو

باغ کے پھول مرجھائے ہوئے ہیں
خزاں کو بھی گزر لینے دو

شرافت کا جنازہ نکلا جا رہا ہے
رکو ذرا اسے گزر لینے دو

کتنی خوبصورت تصویر ہے یار کی
موت آئے اسے گزر لینے دو

بر کوئی پکار اٹھا ہے اب کرامت
آگ لگی ہے گزر لینے دو

 

image_printپرنٹ کریں