skip to Main Content

ارشادِ باری تعالیٰ

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوۡمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَہُمۡ ؕ فَیُضِلُّ اللّٰہُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۵﴾

اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان میں تا کہ وہ انہیں خوب کھول کر سمجھا سکے۔ پس اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ ٹھہراتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ کامل غلبہ والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔
(ابراہیم:5)

کلامِ الٰہی

جس کا خا وند خوش ہو

حضرت ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:۔
جو عورت اس حالت میں فوت ہوئی کہ اس کا خاوند اس سے خوش اور راضی ہے تو وہ جنت میں جائے گی۔

(جامع ترمذی کتاب الرضاع باب حق الزوج حدیث نمبر:1081)

فرمانِ رسول ﷺ

مہمان خانہ کے منتظمین کے لئے ہدایات

لنگرخانہ کے مہتمم کو تاکید کر دی جاوے کہ وہ ہر ایک شخص کی احتیاج کو مد نظر رکھے مگر چونکہ وہ اکیلا آدمی ہے اور کام کی کثرت ہے ممکن ہے کہ اُسے خیال نہ رہتا ہو، اس لئے کوئی دوسرا شخص یاد دلا دیا کرے۔کسی کے میلے کپڑے وغیرہ دیکھ کر اس کی تواضع سے دست کش نہ ہوان چاہئے،کیونکہ مہمان تو سب یکساں ہی ہوتے ہیں اور جو نئے ناواقف آدمی ہیں تو یہ ہمارا حق ہے کہ اُن کی ہر ایک ضرورت کو مد نظر رکھیں۔بعض وقت کسی کو بیت الخلا کا ہی پتہ نہیں ہوتاتو اُسے سخت تکلیف ہوتی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ مہمانوں کی ضروریات کا بڑا خیال رکھاجاوے۔میں تو اکثر بیمار رہتا ہوں، اس لئے معذور ہوں۔مگر جن لوگوں کو ایسے کاموں کے لئے قائمقام کیا ہے یہ ان کا فرض ہے کہ کسی قسم کی شکایت نہ ہونے دیں۔کیونکہ لوگ صدہا اور ہزار ہا کوس کا سفر طے کرکے صدق اور اخلاص کے ساتھ تحقیق حق کے واسطے آتے ہیں۔پھر اگر اُن کو یہاں تکلیف ہوتو ممکن ہے کہ رنج پہنچے اور رنج پہنچنے سے اعتراض بھی پید اہوتے ہیں اس طرح سے ابتلا کاموجب ہوتا ہے۔اور پھر گناہ میزبان کے ذمہ ہوتا ہے۔
بیان کیا گیا کہ حضور بعض لوگ جو مسافر خانہ میں نوواردوں سے مذہبی مناظرے شروع کردیتے ہیں اور اس میں وہ اپنے خیال اور رائے کے موافق کلام کرتے ہیں جو کہ بعض اوقات بے محل اور حضور کے منشا کے خلاف بھی ہوتی ہے اور نووارد متلا شی بھی اس سے اندازہ لگاتا ہے کہ یہاں کے لوگوں کا یہی مشرب ہوگا؛ حالانکہ یہ بالکل غلطی ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ نوواردوں کے لئے ابتلا ہوتاہے۔
lحضور ؑ نے تجویز فرمایا کہ
اس قسم کی کلام ہرگز نہ ہونی چاہئے۔ہمارے بعض مناظرین کو چونکہ نصریٰ کے ساتھ کلام کرنی پڑتی ہے اور جب وہ آنحضرت ﷺ کی کسر شان کرتے ہیں تو محل اور موقعہ کے لحاظ سے اُن کو یسوع کی نسبت اسی قسم کے ثبوت دینے پڑتے ہیں۔اور وہ مقتضائے وقت ہوتا ہے مگر ہر ایک آدمی اس کا اہل نہیں ہے اور دوسرے لوگ اکثر کسی نبی کی شان میں بھی کوئی کلمہ گستاخی یا بے ادبی کا استعمال کرتے ہیں، تو وہ گناہ کرتے ہیں۔یہ کبھی نہ گمان کرنا چاہئے کہ حضرت مسیحؑ یا دوسرے انبیاء ایک معمولی آدمی تھے۔وہ اﷲ تعالیٰ کے برگزیدہ اور مقرب تھے۔قرآن شریف نے مصلحت اور موقعہ کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ کی نسبت ایک لفظ اس قسم کا بیان فرمایا ہے کہ جہاں آپ کے بہت سے انوار و برکات اور فضائل بیان کئے ہیں وہاں… بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ (الکہف :111)بھی کہہ دیا ہے مگر اس کے یہ ہرگز معنی نہیں ہیں کہ آنحضرت ﷺ فی الواقعہ ہی عام آدمیوں جیسے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے یہ لفظ آپ کی شان میں اس لئے استعمال فرمایا کہ دوسرے انبیاء کی طرح آپ کی پرستش نہ ہو اور آپ کو خدا نہ بنا یا جاوے۔اس سے یہ مراد ہرگز نہیں ہے کہ آپؐ کے فضائل و مراتب ہی سلب کر دیئے جاویں ۔
آخر کار تجویز ہوا کہ ایک صاحب ذی وجاہت و ذی اثر کے ہاتھ میں مہمانوں کی تواضع کا اہتمام دیا جاوے۔

(ملفوظات جلد چہارم ص 170)

ارشاد حضرت مسیح موعود

ہر کام کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہے

ہر کام کرتے ہوئے یہ خیال ہر نوجوان اور ہربچےکورکھنا چاہئے کہ مجھے خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ میں ماں باپ سے چھپ کر، جماعتی عہد یداروں سے چھپ کر کوئی کام کرسکتا ہوں لیکن خدا تعالیٰ کی نظر سے میرا کوئی کام اوجھل نہیں ہے اور میں نے تو اپنے ہر کام کو خدا تعالیٰ کی خاطر کرنے کا عہد کیا ہے۔ پس یہ جذبہ ہے جو ہر خادم میں اور ہر طفل میں پیدا ہونا چاہئے اور اگر غلط کام ہے تو اس سے اس لئے بچنا ہے کہ اگر میں نے اس کو کیا تو کہیں میں خدا تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والانہ بن جاؤں ۔ جب یہ حالت ہوگی تو پھر اللہ تعالیٰ کا قرب بھی ملتا ہے ۔

(مشعل راہ جلد پنجم حصہ ششم صفحہ 45)

وقت کی آواز

ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الخامس

آج کے شمارے میں

اداریہ: ہمارا سٹیٹس

اس دنیامیں ہر انسان کااپنی پہچان کے لئے شناختی کارڈ ہوتا ہے۔ مختلف کمپنیوں اور اداروں کا ایک سمبل(Symbol) ہوتا ہے جو عموماً writing pad پر لگا ہوتا ہے جسے لوگو(logo) بھی کہتے ہیں۔ آج کل موبائل فونز پر statusکے…

منصورہ فضل منؔ ۔قادیان: پیارے آقا

جو گلیوں سے گزرے نگر مسکرا دے اُداسی بھَری ہر نظر مسکرا دے ثمر مسکرا دے شجر مسکرا دے میرے پیارے آقا کی مُسکان ایسی اُسے دیکھ کر تو قمر مسکرا دے وہ ماہِ منور وہ چہرہ نورانی کہ ہیں…

امۃالباری ناصر ۔امریکہ: عطاکیں تو نے سب میری مرادات: یونیورسٹی میں داخلہ

جامعہ نصرت ربوہ میں جب بی اے کا امتحان ہو گیا ۔ توعمومی معیار کے مطابق یہ تعلیم کی تکمیل تھی مگر مجھے مزید تعلیم حاصل کرنے کا جنون تھا ۔ ابھی تو پڑھنےکاسلیقہ آنے لگا تھا ۔ ابھی تو…

باسل احمد بشارت: مکرم مجیب الرحمٰن ایڈووکیٹ کی چند خوشگواریادیں

مورخہ30جولائی2019ءکو علی الصبح بزرگوارم مکرم مجیب الرحمان ایڈووکیٹ کی رحلت کی جاں سوزخبر ملی۔آنکھ اشکبارتھی تو دل حزیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اورجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین بزرگوارم مجیب صاحب کے پروگرامز ایم ٹی اے پر تو…

کاشف احمد :جذبات واحساسات کی قربانی

ایک مشہور دانشورکاقول ہے۔قربانی کمزور آدمیوں کا فعل نہیں ہوتا۔ یہ صرف بہادروں کاہی شیوہ ہوسکتا ہے۔ اگرکسی کولگی لگائی پکّی نوکری چھوڑنی پڑ جائے صرف اس لئے کہ وہاں اپنے عقائد پر کھل کے عمل نہیں ہو سکتایاپهر شہریاملک…

قیصر شیراز:غزل

نَے نمو بخت کے تلووں پہ جہاں رکھے ہیں تیرے بھیجے ہوئے خط ٹھیک وہاں رکھے ہیں اب تو منظر بھی دریچے سے بہنگامِ در جھانک کر دیکھتا ہے آزار کہاں رکھے ہیں تم مفاہیم کے کھلنے پہ پریشاں کیوں…

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کا جنگ 1965ء کے حوالہ سے صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے نام پیغام

‘‘ میں اپنی طرف سے اور جماعت احمدیہ کی طرف سے آپ کو دل و جان کے ساتھ مکمل تعاون اور مدد کا یقین دلاتا ہوں اس نازک موقع پر ہم ہر مطلوبہ قربانی بجالانے کاعہد کرتے ہیں۔ میںاللہ تعالیٰ…

سید میر قمر سلیمان احمد: گاہے گاہے باز خواں

اٹھارھویں صدی کے آغاز سے ہی یورپ میں عمومی بیداری کے نتیجہ میں نئی نئی ایجادات ہونے لگیں۔خصوصاً مکینکل انجینئرنگ کے شعبہ میں ایسی مشینیں ایجاد ہونا شروع ہوئیں۔جو نہایت تیز رفتاری سے کام کرتی تھیں اور انسانی ہاتھوں سے…

Guldasta Mobile Apps

iPhone/iPad

‎Guldasta
‎Guldasta
Price: Free

Android

Guldasta
Guldasta
Price: Free