skip to Main Content

فرمان الٰہی

عَالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ الرَّسُولٍ۔ 

یعنی اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اوروہ اپنے غیب کی خبریں صرف چنیدہ رسولوں کو ہی دیا کرتا ہے۔

(الجن:27۔28)

کلامِ الٰہی

مسجد اور گھر میں نماز

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ‏‏ سَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰه عَلَيْهِ وَسَلَّمْ عَنِ الصَّلاةِ فِي بَيْتِي وَالصَّلاةِ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ‏‏ قَدْ تَرَى مَا أَقْرَبَ بَيْتِي مِنَ الْمَسْجِدِ، فَلأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَلاةً مَكْتُوبَةً‏۔

حضرت عبداللہ بن سعدؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے مسجد اور گھر کی نماز کے بارے میں سوال پوچھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم دیکھتے ہو کہ میرا گھر مسجد سے کس قدر قریب ہے۔ لیکن میں سوائے فرائض کے باقی نماز اپنے گھر میں پڑھتا ہوں۔ اور اسی کو پسند کرتا ہوں۔

(صحیح بخاری باب الصلوٰۃ التطوع حدیث نمبر 297)

فرمانِ رسول ﷺ

ماننا کیوں ضروری ہے

دیکھو جس طرح جو شخص اللہ اوراس کے رسول اورکتاب کو ماننے کا دعویٰ کرکے ان کے احکام کی تفصیلات مثلاً نماز ،روزہ ،حج ،زکوٰۃ ‘تقویٰ طہارت کو بجانہ لاو ے اوران احکام کو جو تزکیہ نفس ،ترک شر اور حصول خیر کے متعلق نافذ ہوئے ہیں چھوڑ دے وہ مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں ہے اور اس پر ایمان کے زیور سے آراستہ ہونے کا اطلاق صادق نہیں آسکتا۔ اسی طرح سے جو شخص مسیح موعود کو نہیں مانتا یا ماننے کی ضرورت نہیں سمجھتا وہ بھی حقیقت اسلام اورغایت نبوت اور غر ض رسالت سے بے خبر محض ہے اور وہ اس بات کا حقدار نہیں ہے کہ اس کو سچا مسلمان ‘خدااوراس کے رسول کا سچاتابعدار اورفرمانبردار کہہ سکیں کیونکہ جس طرح سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے قرآن شریف میں احکام دئیے ہیں اسی طرح سے آخری زمانہ میں ایک آخری خلیفہ کے آنے کی پیشگوئی بھی بڑے زورسے بیان فرمائی ہے اور اس کے نہ ماننے والے اور اس سے انحراف کرنے والوں کا نام فاسق رکھا ہے ۔ قرآن اورحدیث کے الفاظ میں فرق (جوکہ فرق نہیں بلکہ بالفاظ دیگر قرآن شریف کے الفاظ کی تفسیر ہے )صرف یہ ہے کہ قرآن شریف میں خلیفہ کا لفظ بولا گیا ہے اور حدیث میں اسی خلیفہ آخری کو مسیح موعودؑ کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے ۔پس قرآن شریف نے جس شخص کے مبعوث کرنے کے متعلق وعدے کا لفظ بولا ہے اور اس طرح سے اس شخص کی بعثت کو ایک رنگ کی عظمت عطا کی ہے وہ مسلمان کیسا ہے جو کہتا ہے کہ ہمیں اس کے ماننے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ551)

ارشاد حضرت مسیح موعود

صحابہ وفا کے پتلےتھے

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔
حضرت عامر بن فُہَیْرَۃؓ کی شہادت کے وقت آپؓ کے منہ سے جو الفاظ نکلے ان میں فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ اور فُزْتُ وَاللّٰہِ دونوں الفاظ ملتے ہیں۔ دونوں روایتیں ہیں اور یہ الفاظ اَور صحابہؓ کے منہ سے بھی نکلے تھے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اس کا بھی ذکر کیا ہے اور کرتے ہوئے آپؓ فرماتے ہیں کہ
ہمیں تاریخ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہؓ جنگوں میں اس طرح جاتے تھے کہ ان کو یوں معلوم ہوتا تھا کہ جنگ میں شہید ہونا ان کے لئے عین راحت اور خوشی کا موجب ہے۔ اگر ان کو لڑائی میں کوئی دکھ پہنچتا تھا تو وہ اس کو دکھ نہیں سمجھتے تھے بلکہ سکھ خیال کرتے تھے۔ چنانچہ صحابہؓ کے کثرت کے ساتھ اس قسم کے واقعات تاریخوں میں ملتے ہیں کہ انہوں نے خدا کی راہ میں مارے جانے کو ہی اپنے لئے عین راحت محسوس کیا۔ مثلاً وہ حفاظ جو رسول کریم ﷺ نے وسط عرب کے ایک قبیلہ کی طرف تبلیغ کے لئے بھیجے تھے ان میں حَرَام بن مِلْحَانؓ اسلام کا پیغام لے کر قبیلہ عامر کے رئیس عَامِر بن طُفَیل کے پاس گئے اور باقی صحابہؓ پیچھے رہے۔ شروع میں تو عَامِر بن طُفَیل اور ان کے ساتھیوں نے منافقانہ طور پر ان کی آؤ بھگت کی لیکن جب وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور تبلیغ کرنے لگے تو ان میں سے بعض شریروں نے ایک خبیث کو اشارہ کیا اور اس نے اشارہ پاتے ہی حرام بن مِلْحَانؓ پر پیچھے سے نیزے کا وار کیا اور وہ گر گئے۔ گرتے وقت ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا کہ اَللّٰہُ اَکْبَر۔ فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ۔ یعنی مجھے کعبہ کے رب کی قَسم! میں نجات پا گیا۔ پھر ان شریروں نے باقی صحابہؓ کا محاصرہ کیا اور ان پر حملہ آور ہو گئے۔ اس موقع پر حضرت ابوبکرؓ کے آزاد کردہ غلام عامر بن فُہَیْرَۃؓ جو ہجرت کے سفر میں رسول کریم ﷺکے ساتھ تھے ان کے متعلق ذکر آتا ہے بلکہ خود ان کا قاتل جو بعد میں مسلمان ہو گیا تھا وہ اپنے مسلمان ہونے کی وجہ ہی یہ بیان کرتا تھا کہ جب میں نے عامر بن فُہَیْرَۃؓ کو شہید کیا تو ان کے منہ سے بے ساختہ نکلا فُزْتُ وَاللّٰہِ۔ یعنی خدا کی قسم! میں تو اپنی مراد کو پہنچ گیا ہوں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ صحابہؓ کے لئے موت بجائے رنج کے خوشی کا موجب ہوتی تھی۔

(ایک آیت کی پُر معارف تفسیر، انوار العلوم جلد18 صفحہ612)
(خطبہ جمعہ فرمودہ 18جنوری 2019ء)

وقت کی آواز

ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الخامس

آج کے شمارے میں

امۃ الباری ناصر۔امریکہ:حضرت سیدہ بشری بیگمؒ حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ مہر آپا کی یاد میں

مامتا، چاندنی نور و نکہت، حیا جیسی اُس پیاری صورت کی یاد آئی ہے وہ جو مخصوص تھی صرف میرے لئے اس محبت کی، شفقت کی یاد آئی ہے صبر، قربانی، ہمت، وفا، حوصلہ اک اولوالعزم سے پا گئے تھے…

محمد فاتح ملک : سنگ مرَ مرَ کا قادیان

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو غیب کی خبروں سے آگاہ کرتا ہے۔ وہ اپنے پیارے نبیوں کو ایسی عظیم الشان خبریں دیتا ہے جس کا ایک عام انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔ رسولوں کو خارق عادت غیب کی خبروں سے…

انیس احمدخلیل: حصول علم کی اہمیت وضرورت اور فضلیت

دنیا بھر میں ہر سال 12۔اگست کو نوجوانوں کا عالمی دن منایا جا تا ہے۔ اقوام متحدہ نے 1998ءمیں پہلی بار عالمی یوم نوجوانان منانے کی منظوری دی تھی جس کے بعد سے اسے ہر سال دنیا بھر میں بھرپور…

نسیم احمد ہرل :میرے پیارے دادا جان ملک میاں نظام دین ہرل

میرے دادا جان ملک میاں نظام دین صاحب ہرل کے والد محترم حضرت ملک لیکڑھ خاں صاحب ہرل صحابی حضرت مسیح موعودؑ تھے۔ آپ کی پیدائش انڈیا سڑوعہ میں ہوئی اور 78سال کی عمر میں وفات پائی۔آپ ہمیشہ ہر ملنے…

نمائندگان برائے اخبارروزنامہ گلدستہ علم و ادب(لندن)

اخبار ہذا کے ذریعہ درج ذیل 30 احباب کو یہ خوشخبری دی جارہی ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے ان کو اپنے ،اپنے ملک کے لئے اخبار روزنامہ ‘‘گلدستہ علم و ادب ’’ لندن ،…

محمد اشرف کاہلوں: تربیت اولاد اور درپیش مسائل

تربیت اولاد کے دو بنیادی اور اساسی پہلو ہیں۔ 1۔تربیت اولاد اور درپیش مسائل 2۔تربیت اولاد اور مسائل کا حل تربیت اولاد میں بنیادی یونٹ اور کردار والدین کا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے۔یا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا…

Guldasta Mobile Apps

iPhone/iPad

Guldasta
Guldasta
Price: Free

Android

Guldasta
Guldasta
Price: Free